اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعلقات، دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے نٹالی بیکر کو اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امریکی وزیر خزانہ کے ساتھ ملاقات سمیت آئی ایم ایف، ڈی ایف سی اور امریکی ایکزم بینک کے حکام سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔
ملاقات میں پاکستان میں قابل عمل منصوبوں کے لیے امریکی سرمایہ کاری اور فنانسنگ بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ محمد اورنگزیب نے امریکی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بہتر بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
فریقین نے پاک امریکا دوطرفہ تجارت میں اضافے کے لیے تجارتی فریم ورک کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ عالمی کیپٹل مارکیٹس میں پاکستان کی شمولیت، فنانسنگ کے ذرائع متنوع بنانے، زرمبادلہ ذخائر بہتر بنانے اور ملکی کریڈٹ پروفائل مضبوط کرنے کے امور بھی زیر بحث آئے۔
ملاقات میں بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون پر گفتگو ہوئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک امریکا باہمی تجارتی فریم ورک پر مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ حکومت کی توجہ مالیاتی نظم و ضبط، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور برآمدات کے فروغ پر مرکوز ہے۔
ملاقات کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کے نئے نظام پر بھی امریکی حکام کو بریفنگ دی گئی۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایڈجسٹ کرنے کے لیے روزانہ کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔