مکہ معاہدہ: عالمی صف بندی اور داخلی منظرنامہ !

10:49 AM, 10 Aug, 2026

 7 اگست2026 کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ہونے ولا دفاعی معاہدہ پاکستان کے لئے ایک نہایت اہم سنگ میل ہے۔ سعودی عرب ، ترکیہ اور پاکستان کے مابین ہونے والے اس معاہدے کا مکمل متن ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اس دفاعی معاہدے کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ کسی ایک ملک پر ہونے والا مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہو گا۔ بظاہر یہ معاہدہ تینوں ممالک کے دفاع، تحفظ اور سلامتی جیسے معاملات کے گرد گھومتا ہے ۔ تاہم اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن ، نئی تزویراتی ترجیحات ، عالمی سیاست اور دفاعی صف بندی میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ 
اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں خطے کے دوسرے ممالک بھی اس معاہدہ کا حصہ بن جائیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان تو کافی عرصہ سے اس طرح کے بندوبست کے حامی رہے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مسلم دنیا کے لئے کسی نئی دفاعی حکمت عملی یا نقشہ کار کی بنیاد بن سکے گا۔ مستقبل میں ہونے والے اقدامات اور ادارہ جاتی تشکیلinstitutionasation) (کے بعد اس معاہدے کی اصل اہمیت اور اثرات کا اندازہ ہو سکے گا۔اس تناظر میں کچھ تجزیہ کاروں نے معاہدے کے بعد اسلامی نیٹو کی اصطلاح بھی استعمال کی۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا ایک بیان بھی میری نگاہ سے گزرا، جس میں انہوں نے اس دفاعی تعاون کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے تکنیکی طور پر مماثل قرار دیا ہے ۔ اس کے باوجود اسے اسلامی نیٹو کہنا قبل از وقت اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ایک مشترکہ دفاع کی طرف البتہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ 
گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان او ر سعودی عرب کے مابین بھی ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی اور اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو یہ دونوں ممالک پر حملہ تصو ر ہو گا۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کے وزارت داخلہ نے تاثر دیا تھا کہ اس معاہدے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کہا گیا کہ اس معاہدے نے بس برسوں سے جاری پاک سعودی دفاعی تعلقات اور تعاون کو ایک باقاعدہ شکل دی ہے۔ اس معاہدے میں فوجی تربیت، مشترکہ مشقیں اور دفاعی صلاحیتوں کا تبادلہ شامل تھا۔ اب یہ سہ فریقی معاہدہ سامنے آیا ہے۔ 
 معاہدے کو تینوں ممالک کی صلاحیتوں کے لحاظ سے دیکھیں تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے۔اس کے پاس میزائل صلاحیت ہے۔ خلیجی دفاعی تعاون کا تجربہ ہے۔ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی پاکستان بے حد اہم ملک ہے۔دوسری طرف سعودی عرب کے پاس دولت ہے اور تیل کی دولت بھی۔ خانہ کعبہ اور روضہ رسول کی وجہ سے بھی اسے عالم اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے خلیج اور بحیرہ احمر کے درمیان اس کا اہم مقام ہے۔ تیسری جانب ترکیہ بھی ایک اہم عسکری طاقت ہے۔ اس کی دفاعی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔یہ نیٹو کا بھی رکن ہے۔ تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا امتزاج معاہدے کو نہایت اہم بناتا ہے۔ 
دہائیوں سے سعودی عرب کے دفاع کا انحصار امریکہ پر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں جنگوں ، میزائل حملوں، سمندری خطرات، وغیرہ کی صورتحال میںسعودی عرب ہی نہیں خطے کے دیگر ممالک بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں انہیں خطہ جاتی سطح پر اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہیے۔ نئے دفاعی اور تزویراتی پارٹنر بنانے سے سعودی عرب کا کسی ایک ملک اور دفاعی انتظام پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ اسے آپ سعودی عرب کی strategic diversification کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان کے تاریخی طور پر سعودی عرب کیساتھ نہایت برادرانہ اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ دفاع کیساتھ ساتھ ہم مذہبی اور جذباتی تعلقات میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ ہمیں معاونت فراہم کی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ بھی ہمارے حکومتی اور سفارتی تعلقات ہمیشہ گرم جوش رہے ہیں۔ دفاعی لحاظ سے بھی ہم اسٹریٹیجک پارٹنرز ہیں۔ مکہ معاہدہ ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنے گا۔
 پاکستان نے ایران ۔ اسرائیل۔امریکہ جنگ کے دوران جو کردار ادا کیا ہے۔ اس سے اس کے سفارتی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا۔ مکہ معاہدے سے پاکستان کو اپنے کردار کو مزید بڑھانے کا موقع ملے گا۔ تاہم معاہدے کے بعد پاکستان کو محتاط سفارت کاری کرنی ہو گی۔ سعودی عرب کیساتھ ساتھ اس کے ایران کیساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کے تناظر میں، ایران اس معاہدے کو اپنے خلاف کسی دفاعی انتظام کاری کی نظر سے دیکھ سکتا ہے۔ اس ساری صورتحال میںاچھی بات یہ ہے کہ تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس کے اثرات دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
 امکانی طور پرمستقبل میں اس تعاو ن میں خطے کے دوسرے ممالک شامل ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ترک قیادت نے مصر کی شمولیت کی خواہش طاہر کی ہے تو یہ دفاعی معاہدہ خطے کی مشترکہ دفاع کے ایک انتظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم اس کا امکان کم ہے۔ اسلامی دنیا میں پہلے بھی اس قسم کی کوششیں ہوئی ہیں مگر انہیں عملی شکل میں نہیں ڈھالا جا سکا۔ 
پاکستان کے لئے یہ معاہدہ دفاع کیساتھ ساتھ نئے معاشی امکانات کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اس وقت پاکستان ایک مشکل سیاسی اور معاشی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ داخلی سطح پر معاہدے کی خبر سے حکومت کو تقویت ملی ہے۔ ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسزجنرل عاصم منیر نے داخلی اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ سیاسی سطح پر اس امر کی تفہیم لازم ہے کہ یہ کسی حکوت یا سیاسی جماعت کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ اصول کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی اور سفارتی معاملات کو ہم سیاست کی نظر سے نہ دیکھیں۔
 سفارتی اور دفاعی کامیابیاں نہایت اہم سہی، لازم ہے کہ ملک کے داخلی حالات میں بہتری کی بھی کوئی راہ نکالی جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کے مابین پائے جانے والی سرد مہری ختم نہیں تو کم ضرور ہونی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لئے ریلیف کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ سچ یہ ہے کہ عوام الناس کی بس ہو چکی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ انہیں سیاست سے دلچسپی ہے نا حکومت یا اپوزیشن سے۔ ملکی سطح کی کامیابیاں ہوں یا مکہ معاہدہ جیسی سفارتییا دفاعی کابیابیاں ، عوام کو ان سے کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے۔ انہیں تو بس اپنے مسائل کے حل سے دلچسپی ہے۔ لازم ہے کہ ہمارے ارباب اختیار عوام کی حالت زار میں کوئی نمایاں بہتری لانے کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں۔ 

مزیدخبریں