مکہ معاہدے کا مطلب

09:21 AM, 10 Aug, 2026

مکہ معاہدہ‘ خطے کی موجودہ کیفیت میں ایک بڑی پیش رفت ہے اس کی تفصیلات اور جزیات تو ابھی منظر عام پر نہیں آئیں پس کہا جا سکتا ہے کہ دلہن نے برقعہ پہن رکھا ہے برقعے کے اندر حجاب و نقاب بھی ہو گا‘ معاہدے پر دستخط کی تقریب نیا رنگ لئے ہوئے تھی پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ سیاہ عبائیہ پہنے سعودی خواتین اس تقریب میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اسے ”روشن خیالی“ کی طرف ایک قدم قرار دے سکتے ہیں۔
تقریب میں جناب محمد بن سلمان درمیان میں کھڑے تھے ترکیہ کے جناب طیب اردوان ان کے دائیں جانب اور پاکستانی وزیراعظم ان کے بائیں جانب کھڑے تھے تمام شخصیات اپنے اپنے سامنے رکھے معاہدے کے مسودے پر دستخط کر چکیں تو جناب محمد سلمان مصافحے کے لئے پہلے جناب اردوان کی طرف بڑھے جو شاید اس لمحے کہیں اور کھڑے ہوئے تھے وہ قدرے توقف کے بعد آگے بڑھے اور انہوں نے مصافحہ کیا مبارک وصول کی جس کے بعد جناب محمد بن سلمان وزیراعظم پاکستان جناب شہبازشریف کی طرف مصافحے کے لئے بڑھے تو چاک و چوبند وزیراعظم شہباز سٹائل میں ان کی طرف لپکے دونوں نے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصاحہ کیا اور مبارک پیش کی‘ محمد بن سلمان ابھی بھرپور جوان ہیں لیکن طیب اردوان کا ”ٹرن آﺅٹ“ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ بہت لاغر اور کمزور ہو چکعے ہیں جبکہ پاکستانی وزیراعظم توانا نظر آئے حالانکہ انہیں خاصے عرصے سے کمر کا درد ہے۔
مکہ معاہدے کی تفصیلات اگر قوم کے سامنے رکھ دی جائیں تو وزیراعظم پاکستان اور چیف آف ڈیفنس فیلڈ مارشل کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا خدشہ رہتا ہے کہ دشمن ان معاہدوں کا توڑ کر لے گا‘ بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے تمام معاہدے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کئے جاتے ہیں لہٰذا انہیں راز میں رہنا چاہئیے‘ ماضی میں قطر کے ساتھ ایک معاہدے کے خدوخال جاننے کے لئے اسے اعلیٰ عدالت میں لے جایا گیا لیکن حکومت نے جواب پیش کیا کہ اسکی تفصیلات بتانا ملک کے مفاد میں نہیں پھر وہ تفصیلات نئی حکومت کے زمانے میں سامنے لائی گئیں۔
میں خوش گمان ہوں کہ پاکستان پر حملہ سعودی عرب اورترکیہ پر حملہ تصور ہو گا اسی طرح دیگر دو ملکوں پر اگر کوئی حملہ کرتا ہے تو اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا ترکیہ بھی اسے ایسے ہی لے گا۔
پاکستان کے دروازے پر اگر ایک شخص غلیل لے کر کھڑا ہے اور کہتا ہے اگر پاکستان پر حملہ ہوا تو وہ اسے اپنے اوپر حملہ سمجھے گا اور پاکستان کا دفاع کرے گا تو مجھے وہ شخص بے حد عزیز ہو گا‘ سعودی عرب کے پاس سامان حرب ہے اور وہ مضبوط معیشت رکھتا ہے‘ تیل کی دولت سے مالا مال ہے ترکیہ ٹیکنالوجی میں ترقی کر چکا ہے اس کے وسائل بھی پاکستان سے زیادہ ہیں پاکستان کی فوج ایئرفورس اور نیوی اپنی بہترین پہچان رکھتی ہے علاوہ ازیں پاکستان نیوکلیئر پاور ہے مکہ معاہدے میں موجود تینوں ملک حالت جنگ میں ہیں پاکستان اپنی دو سرحدوں سے آنے والے دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہا ہے سعودی عرب کو حوثیوں سے خطرہ ہے جبکہ ترکیہ کردوں کے خلاف برسرپیکار ہے‘ پاکستان کو ہمیشہ سے بڑا خطرہ بھارت کی طرف سے رہتا ہے بھارت نے عرصہ دراز سے پاکستان کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کر رکھی ہے وہ مناسب وقت کی تلاش و انتظار میں ہے وہ بے چینی سے امریکہ میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کا منتظر ہے اگر ٹرمپ اس میں شکست کھا جاتا ہے یا ان کے خلاف عدم اعتماد ہو جاتا ہے وہ گھر چلے جاتے ہیں تو بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے‘ فی الوقت دو بڑی طاقتوں نے بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے سے روک رکھا ہے‘ ان میں ایک طاقت امریکہ ا ور دوسری طاقت چین ہے پاکستان کے دونوں سے تعلقات بہت اچھے ہیں پاکستان کی ملٹری اور سیاسی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں بستی ہے اس طرح سعودی عرب بھی امریکہ کے بہت قریب ہے انہوں نے تو امریکہ کو فوجی اڈے بھی دے رکھے ہیں‘ ترکیہ کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اس لئے امریکہ کو بہت پسند ہیں کہ ترکیہ کے اسرائیل کے ساتھ مراسم اور تجارتی تعلقات قائم ہیں اسرائیل کبھی کبھار ترکیہ کے خلاف ایک گرم بیان داغ دیتا ہے تاکہ ترکیہ کی پوزیشن اسلامی ممالک میں قائم رہے۔
میں چشم تصور سے دیکھ رہاہوں کہ پاکستان پر بھارت کی طرف سے حملے کی صورت میں پاکستان اسے رگڑ کے رکھ دے گا‘ عین ممکن ہے بھارت کو اس طرح مختلف حصوں میں تقسیم کر دے جیسے بھارت نے 1971ءمیں پاکستان کو دولخت کر دیا تھا۔
میری اس طرح کے پیچھے ایک معقول جواز ہے پاکستان نے بھارت کے ساتھ متعدد جنگوں میں اپنے سے پانچ گنا دشمن کا تنہا مقابلہ کیا ہے اب آئندہ جنگ ہوتی ہے تو سعودی اور ترک فوجیں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گی پاکستان کو یقیناً بلامعاوضہ تیل مل رہا ہو گا ہمارے ٹرک اور ٹینک دوڑتے دوڑتے بھارت کے اندر گھس کر بھارتی فوج کو پھینٹی لگا رہے ہونگے جبکہ ترکیہ کی فوج ایک اور طرف سے محاذ کھول کر بھارت کی ایسی تیسی کر دی ہو گی‘ اس کی ٹیکنالوجی کے بہترین ٹیسٹ اور اس کی فضائیہ کی کارکردگی سے دنیا ایک نئے ترکیہ سے آشنا ہو گی جبکہ ترک بحریہ پاکستان بحریہ کے ساتھ مل کر بھارتی بحریہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی‘ مجھے یقین ہے پاکستان سعودی عرب اورترکیہ کی فوج ایئرفورس اور نیوی کے سامنے بھارت دیکھتے ہی دیکھتے بے بس ہو جائے گا ۔پاکستان اس طرح اگر سعودی عرب یا ترکیہ پر کوئی حملہ آور ہوتا ہے تو پاکستان کو چاہئیے کہ جنگ کو طول دینے کی بجائے حملہ آور ملک پر حملہ کر دے دنیا سے بعد میں نمٹتے رہیں گے معاہدے کا مطلب یہی نکلتا ہے۔

مزیدخبریں