ہر شخص صحافی اور ہر خبر مشکوک

09:04 AM, 10 Aug, 2026

کبھی خبر کا سفر بہت طویل ہوا کرتا تھا۔ کسی واقعے کی اطلاع پہلے ایک عینی شاہد سے دوسرے شخص تک پہنچتی پھر کسی صحافی کے کانوں تک آتی، وہاں سے خبر دفتر کا راستہ طے کرتی اور بالآخر اخبار کے صفحات پر جگہ پاتی۔ اس پورے سفر میں خبر کئی سوالات سے گزرتی تھی مگر آج خبر کا سفر مختصر ترین ہو چکا ہے۔ واقعہ پیش آنے اور پوری دنیا تک پہنچنے کے درمیان کبھی کبھی چند سیکنڈ سے زیادہ کا فاصلہ نہیں رہتا مگر اس رفتار نے جہاں معلومات تک رسائی آسان بنائی وہیں ایک ایسا بحران بھی پیدا کر دیا جسکا تعلق صرف صحافت سے ہی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی فکری صحت سے ہے۔آج تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں ایک موبائل ہے، ہر ہاتھ میں ایک کیمرہ ہے اور ہر شخص کے پاس اپنی بات دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک پلیٹ فارم موجود ہے۔ ایک تصویر کھینچی چند جملے لکھے اور خبر نشر ہو گئی۔کسی واقعے کا عینی شاہد ہونا اب صحافی ہونے کے برابر سمجھا جانے لگا ہے۔کسی پوسٹ پر ہزاروں تبصرے آ جائیں تو اسے سچ سمجھ لیا جاتا ہے۔ کسی ویڈیو کو لاکھوں لوگ دیکھ لیں تو اس کی صداقت پر سوال اٹھانا گویا بے معنی محسوس ہونے لگتا ہے۔ یوں خبر اور رائے،اطلاع اور تبصرہ، حقیقت اور تاثر کے درمیان موجودحد دھندلا گئی ہے جو کبھی صحافت کی بنیادی شناخت ہوا کرتی تھی۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عام آدمی کو اظہار کا حق کیوں ملا بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اظہار کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری کی تربیت نہیں آئی۔ ہر شحص بول سکتا ہے مگر ہر شخص جانچنے کا فن نہیں جانتا۔صحافت محض کسی واقعے کو دوسرں تک پہنچانے کا نام نہیں ہے، صحافت دراصل معلومات کی ذمہ دارانہ چھان بین، تصدیق تناظر اور عوامی مفاد کے اصولوں کا نام ہے۔ ایک پیشہ ور صحافی کے لیے خبر صرف وہ چیز نہیں جو اسے کسی ذریعے سے موصول ہو جائے، خبر تو وہ چیز ہے جس کی صحت، نسبت اور اہمیت کو چانچنے کی کوشش کی جائے۔ یہی فرق ایک عام سوشل میڈیا پوسٹ اور ایک صحافتی خبر کے درمیان بنیادی امتیاز پیدا کرتا ہے۔لیکن آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب ہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
 لوگ خبر پڑھنے سے پہلے اس کا ماخذ نہیں دیکھتے بلکہ سرخی دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں، پوری خبر پڑھنے سے پہلے ہی رائے قائم ہو جاتی ہے۔ ایک مختصر ویڈیو دیکھ کر پورا واقعہ سمجھ لینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، ایک تصویر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور پھر اسی تصویر کی بنیاد پر کردار، ادارے،معاشرے اور کبھی کبھی پورے ملک کے بارے میں فیصلے صادر کر دیے جاتے ہیں۔ اس بحران کو مزید پیچیدہ بنانے میں سوشل میڈیا کے الگورتھم کا کردار سب سے اہم ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم عموماً وہ مواد زیادہ نمایاں کرتے ہیں جو لوگوں کی توجہ زیادہ دیر تک اپنی طرف کھینچ سکے۔ سنسنی، تنازع، غصہ، خوف اور حیرت انسانی ترجہ کو زیادہ تیزی سے اپنی متوجہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایک متوازن اور محتاط خبر کے مقابلے میں اشتعال انگیز دعویٰ زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ سچ کو تصدیق، تحقیق اور وقت درکار ہوتا ہے مگر جھوٹ کو پھیلانے کے لیے ایک کلک ہی اب بہت ہے۔.یہاں ایک اور خطرناک رجحان بھی دیکھنے کو ملتا ہے اکثر ہم کسی خبر کو اس لیے بھی سچ مان لیتے ہیں کہ وہ ہماری پسند کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر کوئی خبر ہماری سیاسی، سماجی یا ذاتی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو تو ہم اس کی تصدیق ضروری ہیں نہیں سمجھتے، بلکہ اسے فوراً آگے پھیلاتے ہیں، تبصرہ کرتے ہیں اور بعض اوقات اس کی بنیاد پر کسی شحص یا ادارے کے خلاف رائے قائم کر لیتے ہیں لیکن اگر یہی خبر ہماری پسند کے خلاف ہو تو ہم سب سے پہلے اس کے ماخذ، زبان، تاریخ اور سیاق و سباق کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل اطلاعات کے بحران سے زیادہ ایک فکری بحران ہے کیونکہ ہم آج سچ تلاش نہیں کر رہے بس اپنے یقین کی تصدیق کی تلاش میں ہیں۔یہ فرق معمولی نہیں ہے یہی فرق تو معاشرے کو افواہ پسند معاشرے اور دلیل پسند میں تقسیم کرتا ہے۔صحافت کے لیے یہ صورتحال ایک اور چیلنج بھی لے کر آئی ہے۔پیشہ ور صحافت پہلے ہی معاشی دباؤ، تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے ابلاغی رجحانات سے گزر رہی ہے ایسے میں جب ایک غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹ چند منٹ میں لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہو تو ذمہ دار صحافت کا مقابلہ صر ف دوسری خبر سے نہیں بلکہ رفتار سے بھی ہے۔مگر صحافت کی اصل طاقت رفتار نہیں بلکہ اعتبار ہے اگر کوئی خبر چند منٹ پہلے پہنچ جائے لیکن غلط ہو تو وہ معاشرے کو کیا دے گی؟ہمیں اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ خبر کی رفتار اور اس کی صحت کبھی بھی ایک چیز نہیں ہوتی کیونکہ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کے شعور کی تشکیل کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے اس کی اصل قدر اس کی سرعت میں نہیں بلکہ اس کی صداقت میں پوشیدہ ہے۔ حقیقت سے دور چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچنے والی خبر معاشرے کو آگاہ کرنے کے بجائے گمراہ کرتی ہے۔آج اطلاعات کے اس بے قابو ہجوم میں صحافت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ شور اور اطلاع، دعوے اور حقیقت، رائے اور خبر کے درمیان فرق واضح کرے۔ صحافت کا کام صرف یہ نہیں کہ دنیا میں کیا چل رہا ہے یہ بھی بتانا ہے کہ جو کچھ بتایا جا رہا ہے اس پر یقین کرنے کی بنیاد کیا ہے۔اس لیے صحافت کی بقا صرف اخبارات، ٹی وی چینلز یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی بقا نہیں یہ دراصل ایک باشعور معاشرے کی بقا کا سوال ہے۔ آج کے دور میں صحافت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ وہ ہر آواز پر یقین کرنے کے بجائے سوال کرنا سیکھائے کیونکہ جس دن معاشرہ سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے اس دن چھوٹ کو صرف بولنے والا ہیں نہیں بلکہ ماننے والا بھی مل جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت محض ایک پیشہ نہیں رہتی بلکہ ایک قومی ذمہ د اری بن جاتی ہے، جس کا تقاضا ہے کہ اطلاع تیز ضرور ہو مگر اس سے پہلے درست ہو، آواز بلند ضرور ہو مگر اس سے بھی پہلے ذمہ دار ہو اور بات عام ضرور ہو مگر حقیقت پر قائم ہو۔ کیونکہ اطلاعات کے اس دور میں سب سے قیمتی چیزخبر نہیں بلکہ قابلِ اعتبار خبر ہے۔  

مزیدخبریں