چوپال سجی ہوئی تھی، سب براجمان تھے۔ چپ سائیں اخبار کا معالعہ کررہے تھے۔ چاچا رشید ایک بچے کے ساتھ آئے اور سب کو سلام کیا، ان کے ساتھ جو بچہ تھا اس نے بھی ادب سے سب کو اسلام علیکم کہا!۔۔۔نتھو اور پھتو نے کہاکہ چاچا جی یہ بچہ کون ہے؟ چاچا رشید نے کہا کہ۔۔سائیں جی، نتھو اورپھتویہ میرا پوتا ہے۔۔۔ اس نے حال ہی میں میٹرک کیا ہے اور میں اس کے شعور کو مزید بہتر کرنے کے لیے چوپال میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں،یہاں پر اسے چپ سائیں جی کی اصلاحی باتوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل بھی ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔چپ سائیں نے اخبار سائیڈ پر رکھ کر کہا۔۔۔ بیٹابھلا بتاؤ میٹرک تمہاری پہلی سیڑھی تھی تم نے امتیازی نمبر حاصل کیے، اب آگے کیاکرناہے؟۔۔۔چاچا رشید کے ساتھ بچہ جھٹ سے بھولا۔۔۔ سائیں جی۔۔ میں نے تو اپنے بابا سے یہ کہا ہے کہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ ہنر بھی سیکھنا چاہتا ہوں۔۔ تاکہ جلد سے جلد آپ کا ہاتھ بٹاسکوں۔۔۔ اس پر چپ سائیں نے فورا کہا شاباش بیٹا۔۔۔ آپ کی سوچ بہت مثبت اور انتہائی پختہ ہے۔۔۔ بھئی رشید۔۔بچہ کہتا تو ٹھیک ہے۔۔ ہماری آج کی نسل دراصل مختلف سوچتی ہے۔۔ چپ سائیں خاموش ہو گئے۔۔۔ چاچا رشید بولے۔۔ سائیں جی اس حوالے سے تفصیل سے بات کریں۔۔۔ تا کہ میرے پوتے سمیت بہت سے لوگوں کابھلا ہو۔۔۔
چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔ چوپال کے بچوں، بھائیو!۔۔۔میرے نزدیک تعلیم، صلاحیت اور روزگار کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ تعلیم انسان کو علم اور شعور دیتی ہے، صلاحیت عملی زندگی میں اس علم کو استعمال کرنے کے قابل بناتی ہے اور روزگار انسان کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بھائیو! آج کے دور میں صرف ڈگری حاصل کرنا ہی کافی نہیں، موجودہ دور میں کسی بھی فرد کے لیے گھر کے اخراجات پورے کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔گھر کاسربراہ کولہو کا بیل بنا ہوا ہے اور اخراجات پورے کے لیے دن رات ایک کردیتا ہے۔۔۔ گھر کی خواتین بھی اپنی ذمہ داریا ں بطریق احسن نبھا رہی ہوتی ہیں۔۔۔ چپ سائیں دوبارہ خاموش ہو گئے۔۔۔ کچھ دیر کے بعد بولے۔۔۔ بھائیو اور دوستو! بچے نے آگے اپنی زندگی میں کیا کرنا ہے؟۔۔۔ یہ انتہائی اہم فیصلہ ہے لیکن اس میں بچے کی بھی مرضی شامل کرلی جائے تو بہت بہتر ہوتا ہے۔۔۔ چاچا رشید میں یہ کہوں گا کہ اپنے پوتے کی دلچسپی اور رجحان کابھی ضرور خیال رکھیں۔۔۔ زندگی میں مقصد پیسہ کمانا ہی نہیں ہوتا بلکہ اگر شوق پیسے کمانے کا ذریعہ بن جائے تو۔۔۔۔ یہ سونے پر سہاگے والی بات ہوتی ہے۔۔۔ سو مجھ ناچیز کی یہی رائے ہے کہ آپ سب اپنے پوتے کی مرضی کو بھی مد نظر رکھیں اور پھر فیصلہ کریں۔۔۔
میرے چوپال کے دوستو! فنی مہارت، کمپیوٹر کی معلومات، زبانوں پر عبور، تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بھی آج کل بہت اہم ہیں۔ اگر تعلیمی نظام کو عملی مہارتوں اور مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑا جائے تو نوجوان بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں اور ملک کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ فکرکا اہم سوال ہے کہ کیا ہماری ڈگریاں نوجوانوں کو عملی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہی ہیں اور چیلنجز کا مقابلہ کرنا سکھا رہی ہیں؟۔۔۔تو دوستو زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی سوچ رہی ہوتی ہے کہ اب آگے کیا کیا جائے۔۔ اگرچہ ہماری نئی نسل بہت سمجھدار ہے اوربڑوں کے مقابلے میں کسی حد تک زیادہ شعور رکھتی ہے لیکن بہت سے نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود عملی میدان میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کو سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ وہ کیسے اور کہاں سے شروع کریں۔۔۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں سوچ میں مبتلا رہتے ہیں اور مناسب روزگار نہ ہونے کی وجہ سے مشاورت ہی کرتے رہتے ہیں۔
دوستو! ماضی میں یہ تصور عام تھا کہ اچھی تعلیم حاصل کر لی جائے تو ملازمت خود بخود مل جائے گی۔ آج کے دور میں یہ تصور بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ اب ڈگری کے ساتھ عملی مہارت بھی انتہائی ضروری ہے۔ ایسا نظام تعلیم درکار ہے جو نوجوانوں کو یہ سکھائے کہ وہ اپنے علم کو عملی زندگی میں کیسے استعمال کرے۔ روزگار کی دنیا میں صلاحیت کی اہمیت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ آج ایک نوجوان اگر روایتی ملازمت حاصل نہیں کر پاتا تو اس کے پاس فنی تعلیم، آن لائن کام، کاروبار، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، پروگرامنگ، زبانوں کی مہارت، تعمیراتی ہنر، الیکٹریشن، مکینیکل کام، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔ بھائی رشید میرے نزدیک والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہو اور معاشرے میں اس کی عزت ہو۔۔۔ لیکن آج کے دور میں زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے اور کامیاب ہونے کے لیے اس کے علاوہ بھی دیگر وسیلہ روزگار کا انتخاب اور اس پر تحقیق ضروری ہے۔
ہمیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ عزت صرف سفید پوش ملازمت میں ہے۔ محنت سے حاصل کیا گیا ہر جائز روزگار عزت کا باعث ہے۔ ایک ماہر کاریگر، ٹیکنیشن، ڈیزائنر، کسان، مکینک، الیکٹریشن یا چھوٹا کاروباری شخص بھی معاشرے کی معیشت میں اتنا ہی اہم کردار ادا کرتا ہے جتنا کسی دفتر میں کام کرنے والا فرد۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں نصاب کو عملی ضروریات سے منسلک کیا جائے۔ جامعات اور صنعتی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم ہونا چاہیے تاکہ طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی معلوم ہو کہ مارکیٹ میں کس قسم کی مہارتوں کی ضرورت ہے۔ بھائیو! اگر ہمیں معلوم ہی نہ ہو کہ اگلے دس برسوں میں کن شعبوں میں افرادی قوت کی ضرورت ہو گی تو تعلیمی منصوبہ بندی بھی مؤثر نہیں ہو سکتی۔ نوجوانوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہو گی۔ آج کا دور مسلسل سیکھنے کا دور ہے۔ والدین کی سوچ میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ روزگار کے رجحانات اور مارکیٹ کی ضروریات کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں میں محنت، خود اعتمادی، کاروباری سوچ اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ پیدا ہو۔ صاحبو! ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہماری ترجیح صرف ڈگریوں کی تعداد بڑھانا ہے یا ایسے باصلاحیت انسان تیار کرنا ہے جو بدلتی ہوئی دنیا میں اپنا مقام بنا سکیں۔ چوپال کے بچوں اور دوستو! میرے نزدیک تو یہ با ت اہم ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان صرف اپنا مستقبل نہیں سنوارتا بلکہ وہ پورے معاشرے کے مستقبل کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔ رہے نام اللہ کا!۔
تعلیم، صلاحیت،روزگار اور ہنر!
09:05 AM, 10 Aug, 2026