اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپوزیشن رہنما اسد قیصر کے حالیہ بیانات کو زمینی حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔
اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے بارے میں منفی بیانات صرف عوام کو بدظن کرنے کی کوشش ہیں۔ کیا آپ کو یہ حقیقت قبول نہیں کہ پاکستان کی ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں؟ اور کیا یہ بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 2.1 ارب ڈالر سرپلس میں آ چکا ہے؟
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی میں واضح کمی آ رہی ہے، برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے، اور اقتصادی ترقی کے اشاریے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا آپ کو یہ تمام مثبت پہلو نظر نہیں آتے؟
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی معیشت کے بارے میں اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حالات درست سمت میں جا رہے ہیں۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُس دن ریاستی اداروں پر حملہ دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھا، اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزائیں سنائی گئیں، جو مکمل شفافیت اور منصفانہ عدالتی عمل کا نتیجہ تھیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن اس لیے پریشان ہے کیونکہ جو لوگ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے، اب قانون کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے کیے کی سزا پا رہے ہیں۔