دلِ غمیں، لبِ دعا

09:11 AM, 10 Aug, 2025

اکیسویں صدی کے آغاز سے بالخصوص یونی پولر ورلڈ، (یک قطبی دنیا)، نیو ورلڈ آرڈر جسے ’جیو‘ (یہودی) ورلڈ آرڈر بھی کہا گیا، سے گزر کر ہم ’Genocidal‘ نسل کشی آرڈر، ڈس آرڈر، فتوری، فجوری ،انتشاری، فسادی دنیا میں آن اترے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل کے لیے الگ ایک نئی لغت کی شدید ضرورت ہے جو مجسم ابلیسیت، دجالیت ، غنڈہ گردی کے اظہاریئے لا سکے۔ اعلیٰ ترین مناصب پر فائز ’شخصیات‘ ( بے توقیر کردار) کی زبانوں سے مغلظات ابلتی ہیں۔ ان کی تہذیب کی معراج ہے وہ متعفن گالی جو زبانِ زدِ عام رہتی ہے۔ دنیا واقعی اس دور میں آچکی جس سے سبھی انبیاء نے اپنی امتوں کو خبردار کیا تھا، دجالی دور۔ بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے 15 گھنٹے طویل خطبہ جس پر دیا تھا۔ اس وقت فلسطین کے دو پہلو نمایاں ہیں۔ پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے دن رات ایک پوری قوم کے بچوں، بوڑھوں سبھی انسانوں کو قصداً نہ صر ف کریہہ مجرمانہ فاقہ کشی سے موت کی طرف سسکا سسکا کر دھکیلا جارہا ہے بلکہ اس پر ان کی سیاسی مذہبی قیادت مثلاً معروف اسرائیلی عالم (ربی) رونین شالوف مکمل جواز فراہم کرتا، مؤید ہے! بار بار کہتا ہے: ’ تمام اہل غزہ اور ان کا ہر بچہ فاقوں سے مرجانا چاہیے۔ شرمناک ہے، ذلت، ذلالت ہے کہ ہمارے ملک (اسرائیل)میں لوگ غزہ کے بھوکے بچوں کی بات کرتے ہیں‘۔ یرغمالیوں کی بھوک کا رونا روتا ہے۔ حالانکہ یرغمالی نے اپنے پیغام میں کہا جو ہم کھاتے پیتے ہیں وہ بھی یہی کھاتے پیتے ہیں۔ (القسام والے) شالوف کہتا ہے، ہم ان کا تخم بھی نہ چھوڑیں گے۔ میرے پاس ان کے لیے قطرہ برابر بھی ہمدردی نہیں کیونکہ انھیں ان سے ہمدردی نہ تھی (7اکتوبر کو) جو صرف اچھا وقت گزار نے گئے تھے!‘یعنی یہ یہودی عالم، فقیہ ان نیم برہنہ ناچتے گاتے یہودی لڑکے لڑکیوں کو جو تورات زبور، کے احکامِ حیا کو توڑتے، اختلاط بھرے مجمعے میں نشانہ بنے، ان کی معصومیت، کا دفاع کر کے غزہ کے ننھے بچوں سمیت تمام اہل ِغزہ کو مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ مذہبی قیادت ہے۔
دوسری طرف سابق اسرائیلی فوجی نے ’بی بی سی‘ پر اقرار کیا کہ وہ (امدادی مراکز میں بھی) کمانڈروں کے براہِ راست حکم پر فلسطینیوں کو اندھا دھند مار رہے ہیں۔ ’مار ڈالو، سب کچھ تباہ کر دو، کا حکم دیا جاتا ہے۔‘ تو پھر تمام بین الاقوامی حقوقِ انسانی کے ادارے، کنونشنز، ان پر اٹھتے بے بنیاہ اخراجات ICJ،ICC نام نہاد انصاف کی عدالتیں بھی توڑ دی جائیں۔ جمہوریت اور متعلقہ اصطلاحات کا فراڈ بھی ختم کریں۔ لوگ ان سے امید کیوں لگائیں! پہلے بھی ہم دیکھ چکے گوانتامو، ابوغریب، باگرام، مسلم ممالک کے عقوبت خانے مثلاً مصر و شام و دیگر۔ قیامت کے مظالم، اغوا کاریاں، ماورائے عدالت قتل۔ مہنگائی کا رونا دنیا بھر میں ہے مگر مسلمان کا خون سب سے سستا، ارزاںہے۔ غزہ میں روٹی مہنگی ہے مسلمان کو مارے جانے والی گولیاں، بم ، ڈرون ہمہ نوع اسلحہ سستا ہے۔ اربوں ڈالر اس پر لٹا نے آسان ہیں۔ تمام مغربی چمکتے دمکتے ممالک کے سوٹ بوٹ، ٹائیوں، فرنچ پرفیوم والے شاندار گاڑیوں، جیٹ جہازوں میں اڑانیں بھرتے ہیں۔ غزہ میں خیراتی باورچی خانوں پر بھوک سے جھلسے ،(کل تک جو سرخ و سفید صحت مند فلسطینی تھے)، صرف آنکھوں اور دانتوں پر مشتمل چہرہ سوکھا ہوا، اپنے کمزور ہاتھوں میں خالی دیگچے اٹھائے خوراک کی تلاش میں در بدر ہوتے، کسی جنگل ویرانے میں نہیں اسی دنیا کے وسط میں بھوک سے دم توڑ رہے ہیں۔
ڈاکٹر منیر البرش نے نام نہاد آزاد دنیا، مسلمانوں اور عربوں سے کہا:’( نئے ایوارڈ) جاری کرو۔ گلوبل سناٹا ایوارڈ، نسل کشی پر غیر جانبداری کا ایوارڈ، بچوں کی لاشوں سے نگاہ بچانے کا ایوارڈ۔ وفود بھیجنے بند کرو۔ ہمیں تمھاری کا نفرنسوں کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی تمہارے ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی۔ صرف کسی زندہ ضمیر کو بھیج دو۔ ہم تمھارے مذمتی بیانات سے زیادہ تیز رفتاری سے آسمانوں، جنتوں کی طرف جارہے ہیں۔ ہمیں چھوڑ دو۔ ہم صرف ہوا پر جی لیں گے‘۔ ڈاکٹر منیر نے ڈاکٹر آلاء کو اپنے سات جلے ہوئے بچوں کی لاشوں پر صبر کرتے دیکھا تھا۔ ڈاکٹر! عزیمتوں کی بلندیوں پر ایستادہ قوم کے بہادر شخص! تمہاری قوم سے ٹوٹ کر محبت کرنے والی ایک بے آواز امت موجود ہے مگر نذرانے میں پیش کرنے کو سجدوں، آہوں، کرا ہوں، دعاؤں، حلق میں پھنستے لقموں، بے معنی مگر درد 
سے پر الفاظ کے سوا ان کی متاع کچھ بھی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر غزوہ احزاب میں پیٹ پر دوپتھر، خاک آلود تھکا ماندہ خندق کھودتا وہ مبارک سراپا، شعب ابی طالب کی گھاٹی میں بھوک سے روتے بے قرار بچے۔ ہماری رئیسہ ماں سیدہ خدیجہؓ اور ان کی پھولوں جیسی بچیوں کی بھوک کی راہوں کی راہی اے قومِ فلسطین! فرشتے تمھارے پاس بھی شاید کبھی آن اتریں سفر طائف کی شدت، نفسیاتی اذیت کی انتہا، دعائے طائف کے حرف حرف سے ٹپکتی، تمھارے لب ولہجے میں بھی ہے اور برحق ہے۔ مگر عزیمتوں کے مسافرو! تمھارے نبی نے امید کا دامن نہ چھوڑا تھا۔ فرشتوں کو اس بستی کو کچل کر (پہاڑوں کے درمیان) رکھ دینے کا اذن نہ دیا تھا۔ ہم امتیوں سے مایوس نہ ہو۔سارے بت ٹوٹیں گے۔ آج کے بنوثقیف بھی شرمسار سر جھکائے شکست خوردہ لوٹیں گے۔ اس کی کوکھ سے بھی محمد بن قاسمؒ اٹھیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امید بر آئی تھی۔ اور نبوت کے سوسال کے اندر اندر تین براعظموں پر اسلام کی بہاریں اور سراجِ منیر کی عظمتوں کی ضو پھیلی تھی جو 13 صدیوں چلی تھی سقوطِ خلافتِ عثمانیہ تک۔ آج دنیا میں نئی بہار تمہارے صبر و ثبات اور بیش قیمت خون سے آئے گی۔ 3 لاکھ آسٹریلیا میں اہم شخصیات کے ہمراہ فلسطین کی آزادی کے لیے دیوانہ وار اٹھے ہیں۔ پیرس کی سڑکیں مزاحمت کے بینر لیے، فلسطینی جھنڈے لیے نعرہ زن ہیں لبالب بھری۔ ناروے میں بدترین بارش میں تمھاری محبت میںبھیگتے احتجاجی، ڈنمارک، اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ان کے خلاف چیخنے والے! اطالوی، میلان میں اسرائیلی سیاح پر گرج برس رہے ہیں۔ نفرت ہی نفرت قاتلوں کے لیے ۔ ایک جاپانی یہودی کوبے حد ذلیل کرتا حیرت زدہ کر دیتا ہے ہمیں! یہ تمہاری قربانیوں کا ثمر ہے۔ نیا ورلڈ آرڈر تمہارے خون سے آئے گا یا غزہ! شالوف کا ٹھکانہ حیی بن اخطب جیسے یہودی سرداروں، ابلیسی حواریوں کے ساتھ ہوگا۔
دنیا کے سبھی باضمیر غیر مسلموں کو ایمان کی دعائیں دو جو دو سال سے دیوانہ وار فلسطین پر شب و روز اپنی صلاحیتیں، قوتیں، مال، اوقات، محبت نچھاور کر رہے ہیں۔ دنیا زندہ کر دی ہے تم نے۔ اسرائیلی وحوش دنیا بھر کی نفرت کا مرکز ہیں ماسوا مٹھی بھر حریص مغربی، بھارتی حکمرانوں کے۔ سابق امریکی فوجی انتھونی کو دیکھو۔ فراہمیٔ امداد مرکز GHF پر وہ سیکورٹی کنٹریکٹر رہا۔ وہ فاقہ زدہ فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم دیکھ کر دہشت زدہ رہ گیا۔ اس نے نکل کر ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ یہ صرف موت کا پھندا ہے فراڈ ہے مدد کے نام پر۔ امریکی ضمیر بھی چلا اٹھا ہے جابجا۔ انتھونی جو عینی شاہد تھا اس معصوم’ 5 سالہ فلسطینی بچے احمد کا جو ننگے پاؤں، کمزور نحیف بدن، 12 کلومیٹر چل کر آیا۔ دال اور چاول کی دو پوٹلیاں ملیں اسے تو اس نے میرا شکریہ ادا کیا۔ مجھے چوما۔ جب وہ لوٹا تو اسرائیلی، مرچوں کے سپرے، آنسو گیس، سٹنٹ گرنیڈ اور گولیاں برسادیں!‘ یہ ہے امریکی اسرائیلی امداد۔ زبر دستی یو این اداروں کی حقیقی بھر پور، منظم امداد ان سے چھین کر، موت ارزاں کرنے کو۔ پھر آپ نے ایسا منظر بھی دنیا میں، تاریخ میں کب دیکھا ہوگا کہ (یہ دوسرا واقعہ ہے) اسرائیلی بمباری کی شدت سے حاملہ ماں کا پیٹ پھٹا اور اس میں سے چڑا مڑا ننھا وجود اس کے نو عمر بھائی کے ہاتھوں میں آگیا۔ ایسا ’کیچ‘ کس نے کیا ہوگا۔ کرکٹ کے شیدائیو، تمھارا دل اس منظر پر لرزا؟ ڈوبا؟ دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ۔
 فلسطینیوں کو موت نہیں آتی۔ ان کے ڈھانچے فاقہ زدہ ہم سے زیادہ قوی، ثبات اور زندگی والے ہیں۔ قدس کے محافظ - یہ تین مقام مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ ہر مسلمان کا فرضِ عین ہے تحفظ فراہم کرنے کے اعتبار سے۔ مگر فاقہ زدہ قسام !(جو یہودی یرغمال کی طرح خودبھی ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے ہیں۔ اللہ انھیں سلامتی دے۔ من و سلویٰ، چشمے عطا فرمائے! آمین) دو قومی ریاستی حل کے نام پر جو فراڈ مسلط کیے جانے کی خیرات کا چرچا ہے۔ اس پر ان بہادروں کا جواب دیکھیے: ’جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی۔ ہم ہتھیار ہرگز نہ ڈالیں گے۔ مسلح مزاحمت چھوڑی نہیں جاسکتی۔ جب تک ہمارے مکمل قومی حقوق بحال نہیں کیے جاتے۔ جس میں آزاد، مکمل خود مختار فلسطینی ریاست ہے، بیت المقدس، (یروشلم) جس کا دار الحکومت ہو‘۔ اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی !

مزیدخبریں