پاکستان کی توقیر اور عزت آبرو کا کوئی معاملہ عالمی سطح پر بن رہا ہو کوئی محب وطن اُس سے حسد کرنے یا اُس کے خلاف سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، چنانچہ صرف بطور ایک پاکستانی ہی نہیں بطور ایک امن پسند انسان کے بھی امریکہ اور ایران کی عارضی جنگ بندی کی مجھے خوشی ہے، اس ضمن میں پاکستان کے سیاسی یا اصلی حکمرانوں میں سے جس کسی نے بھی حقیقی کوششیں کی ہیں میں اُنہیں خراج تحسین پیش نہ کر کے خود کو ”محب وطنوں“ کی فہرست سے باہر نہیں نکلوا سکتا امریکہ اُس کے پاگل صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے جلاد سربراہ نیتن یاہو کے علاوہ پوری دُنیا اس نقطے پر متفق ہے ”جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ مسائل میں اضافہ کرتی ہیں“، اس کے برعکس امن ہمیشہ خوشحالی لاتا ہے۔ مگر جنگ جب کسی امن پسند مُلک پر مسلط کر دی جائے اُسے اپنے تحفظ کا پورا حق حاصل ہوتا ہے، یہ حق ایران نے بھرپور طریقے سے استعمال کر کے صرف اپنی نہیں نام نہاد مسلم اُمہ کی عزت بھی تھوڑی بہت بحال کرنے کی پوری کوشش کی۔ امریکہ کے ”سُپر پاور“ ہونے کے دعوے کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا، امریکہ نہ چاہتے ہوئے بھی اب اپنی ”فیس سیونگ“ کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، اس مقصد کے لیے پاکستان کو اُس نے اپنا سہولت کار بنا لیا ہے، اسی بہانے پاکستان کے سیاسی و اصلی حکمرانوں کی عالمی سطح پر جو عزت قائم ہوئی ہے ہم اُس کے معترف ہیں، امریکہ کے ساتھ غیر ضروری دوستی کا پاکستان کو ہمیشہ نقصان ہی ہوا ہے، اس بار اگر واقعی کوئی فائدہ ہونے جا رہا ہے ہمیں اس پر کیا اعتراض ہے؟ امن پسند ممالک پاکستان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، بھارت چونکہ کبھی امن پسند مُلک نہیں رہا اُسے پاکستان کی عالمی سطح پر قائم ہونے والی عزت ایک آنکھ نہیں بھا رہی، اُس کی تکلیف اُس کے اپنے میڈیا سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ ہماری دعا ہے امریکہ کا سہولت کار بن کر جنگ بندی کے لئے جو کوششیں پاکستان نے کی ہیں وہ کامیاب ہو جائیں، مستقل جنگ بندی نہ ہوئی امریکہ کی تھوڑی بہت جو عزت بچ گئی ہے وہ بھی نہیں رہنی، اُس کے ”سُپر پاور“ ہونے کا جو تاثر تھوڑا بہت بچ گیا ہے وہ بھی نہیں رہنا۔ اسلام آباد میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ دُنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں اسرائیل اور ایران کی جنگ جس میں امریکہ اسرائیل کا سہولت کار بن کر زبردستی گُھس گیا تھا زیادہ جانی نقصان ایران کا ہوا ہے، اُس کے بڑے بڑے راہنما شہید ہو گئے ہیں، امریکہ اور اسرائیل کا خیال بلکہ اُنہیں یقین تھا اس قدر جانی نقصان کے بعد ایران گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا، ایرانی عوام خوفزدہ ہو کر اپنے حکمرانوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے، وہ اپنے حکمرانوں کے خلاف بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں گے جس کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ، ایران میں اپنے پٹھوو¿ں کی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ خیال یا اس کا یقین صرف اسرائیل امریکہ اور اُن کے کچھ اتحادیوں کو ہی نہیں تھا، وہ مسلم ممالک بھی یہی سوچ کر بیٹھے ہوئے تھے جو امریکی غلامی کو باقاعدہ ”عبادت“ سمجھتے ہیں۔ ایران اپنی ثابت قدمی سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا پکے اور سچے مسلمان شہادتیں قبول کر سکتے ہیں، ہر طرح کے نقصانات قبول کر سکتے ہیں، عین اللہ کے حکم کے مطابق یہودیوں کی غلامی قبول کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کچھ امریکی پٹھو اب یہ بھونک رہے ہیں ”عارضی جنگ بندی کی شرائط قبول کر کے امریکہ نے ایران پر احسان کیا ہے“، یہ احسان اصل میں ایران نے اُس امریکہ پر کیا ہے جس کا سُپر پاور ہونے کا امیج بُری طرح متاثر ہو رہا تھا اور یہ تاثر بھی بُری طرح متاثر ہو رہا تھا امریکہ جب چاہے بڑے سے بڑے مُلک کو تباہ کر کے اُسے اپنی غلامی پر مجبور کر سکتا ہے۔ اب کچھ اور حقائق کا جائزہ لیتے ہیں، پندرہ روزہ جنگ بندی کو امریکی پٹھو اسرائیل نے مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ گزشتہ روز عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد لبنان پر اُس نے شدید حملے کیے جس کے نتیجے میں اڑھائی سو مسلمان شہید، سیکڑوں زخمی ہو گئے ، کیا یہ عمل امریکہ کی مرضی یاآشیرباد کے بغیر ہوا ہو گا؟ یہ ناممکن ہے، پاکستان کو امریکہ کی چالبازیاں سمجھنی چاہئیں، ٹرمپ جیسے پاگل کی باتوں پر من و عن یقین کرنا کسی فائدے کے بجائے اُلٹا نقصان کا باعث بن سکتا ہے، ممکن ہے عارضی جنگ بندی کے پندرہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل، ایران کے خلاف کوئی نئی سٹریٹیجی طے کرنے جا رہے ہوں، پاکستان کے اصلی حکمرانوں کو ان سب معاملات پر گہری نظر رکھنی چاہیے، یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے اصل جنگ اسرائیل اور ایران کی ہے پھر مستقل جنگ بندی کے مذاکرات صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کیوں ہو رہے ہیں؟ ان مذاکرات میں اسرائیل کو کیوں فریق نہیں بنایا گیا؟ چلیں کسی مصلحت کے تحت اسرائیلی نمائندے اگر اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں شریک نہیں ہوئے اس بات کی کیا گارنٹی ہے امریکہ نے کچھ مطالبات مان کر مستقل جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی اسرائیل دل سے اُسے قبول کر لے گا؟ ہماری دعا ہے مستقل جنگ بندی میں پاکستان کی کوششیں رنگ لے آئیں مگر امریکہ اور اسرائیل کی جو فطرت ہے جس کا شکار کئی ممالک اب تک ہو چکے ہیں اُس کے مطابق ہم اپنے ان خدشات کو نہ چاہتے ہوئے بھی قابو میں نہیں رکھ سکتے کہ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کا مثبت نتیجہ اگر نکل بھی آیا اُس کے اثرات دیرپا نہیں ہوں گے، خصوصاً اسرائیل اور امریکہ کے موجودہ شرپسند حکمرانوں کی موجودگی میں اس کا تصور بھی محال ہے۔ جہاں تک پاکستانی حکمرانوں کی خوشیوں، کوششوں اور نیتوں کا تعلق ہے دعا ہے اللہ اُنہیں نظر بد سے محفوظ رکھے، علاوہ ازیں محض امریکہ اور ایران کی عارضی جنگ بندی کے عمل سے دُنیا میں اپنی کچھ عزت قائم کرنے کے بعد پاکستانیوں کے دُکھوں کا ازالہ کر کے پاکستانیوں میں بھی اپنی عزت قائم کرنے کا وہ کوئی چارہ کر لیں، یعنی کچھ ”چارا“ ہم پاکستانی “بھیڑ بکریوں“ کو بھی ڈال دیں جو صرف آئین کی مکمل بحالی، عدلیہ کی مکمل آزادی سے ہی ڈالا جا سکتا ہے، سیاہ سی حکمرانوں کو اصلی حکمرانوں کا شکرگزار ہونا چاہیے جنہوں نے عارضی جنگ بندی کا تھوڑا بہت کریڈٹ اُنہیں بھی لینے کی اجازت مرحمت فرما دی شاید اس شرط پر کہ اس کا سارا کریڈٹ وہ اپنے مالکوں یعنی اصلی حکمرانوں کو دیں گے۔
اللہ پاکستان کو اور عزت دے
09:07 AM, 11 Apr, 2026