پاکستان امن کا سفیر،گرین پاسپورٹ کی عزت

09:07 AM, 11 Apr, 2026

آپ صرف تصور کریں وہ کیا خوبصورت لمحات ہوں گے جب دنیا بھر کے میڈیا کے نیوز کاسٹر، اینکر اور تجزیہ کاروں کی زبانوں پر بار بار پاکستان کا نام آرہاہے اور دنیا کے بڑے معتبر اخبارات اور عالمی جریدوں کی شہ سرخیوں میں پاکستان کا نام نمایا ں ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب مغربی میڈیا پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتا تھا اور آج یہ دن ہے کہ وہی مغربی میڈیا پاکستان کو امن کا سفیر قرار دے رہا ہے۔ پاکستان کو بلند مرتبہ اللہ تعالی نے عطا کیا ہے۔مئی 2025 کی جنگ میں بھارت کو شکست دینے کے بعد پاکستان نے اپنی اڑان کا سفر شروع کیا۔اس کے بعد پاکستان نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پہلے پاکستانیوں کو دنیا کے ایئرپورٹس پر مشکوک اور حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا آج اسی گرین پاسپورٹ کو دیکھ کر غیر ملکی ایئرپورٹس کا عملہ پیس میکر کے القابات دے رہا ہے۔ دنیا میں پاکستان کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کیا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کی عالمی سطح پر ہر قسم کی رینکنگ نیچے گئی لیکن جب حقیقت دنیا کے سامنے آئی تو مشرق،مغرب اور شمال، جنوب میں پاکستان کے دنیا کے محافظ اور گرین پاسپورٹ امن کی ضمانت کے طور پر چرچے ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے ایران سے امریکہ اور اسرائیل جنگ رو ک کر پوری دنیا پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اس جنگ کے دوران ایک ایسا لمحہ بھی آیا تھا کہ جب صورتحال خوفناک حد تک پہنچ چکی تھی پھر اچانک پاکستان نے پوری طاقت سے انٹری دی اور آخری لمحات میں صورتحال یکسر تبدیل کر دی۔ وزیراعظم شہباز شریف،وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امن کے لیے مرکزی رول ادا کیا۔ پاکستان کی قیادت نے امریکی قیادت اور ایرانی قیادت کو امن کے لیے اعتماد میں لیا پھر ایران اور امریکہ جنگ میں سیز فائر کا وزیراعظم شہباز شریف نے خود اعلان کیا یہ ہر پاکستان کے لیے فخر اور قابل عزت کے لمحات تھے۔اس اعلان کے بعد سب سے زیادہ بھارت تلملا اٹھا،بھارتی میڈیا نے بھڑاس نکالنا شروع کردی۔پاکستان میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جس کو پاکستان سے متعلق ہر اچھی خبر پر تکلیف ہوتی ہے۔جب دنیا میں توانائی اور گیس کے بحران شدت اختیار کر چکے تھے تو پاکستان نے پرسکون ہو کر بیٹھنے کی بجائے فرنٹ لائن پر آکر امن دستے کو لیڈ کیا۔پاکستان میں تو گیس اور توانائی کا بحران ایسا نہیں تھا جیسا دنیا کے تقریباً 84 ممالک میں ایک ہفتے کے دوران پیدا ہوا تھا۔ پاکستان چاہتا تو خاموشی سے دور بیٹھا یہ سب مناظر دیکھ سکتا تھا لیکن پاکستان نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے اور کروڑوں جانیں بچانے کے لیے مذاکراتی عمل کو لیڈ کیا۔ اب امریکی اور ایرانی قیادت پاکستان میں خود آرہی ہے اور مستقل جنگ بندی کی جانب دوسرا قدم اٹھایا جائے گا۔ اس امن معاہدے کا امریکہ سے زیادہ ایران کو فائدہ ہوگا اس امن معاہدے میں جو شرائط سامنے آئی ہیں وہ ایران کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔ اس میں سب سے اہم شرط ایران کا ایٹمی پروگرام روکنے کی ہے۔شہید آیت اللہ خامنائی سمیت پوری ایرانی قیادت متعدد مرتبہ کہہ چکی ہے کہ ایران ایٹم بم کا حصول نہیں چاہتا۔ اس کے بدلے ایران کی اگر عالمی سطح پر عائد کی پابندیاں ختم ہوتی ہیں ایران کے اثاثے بحال ہوتے ہیں اور ایران کو تیل کی خرید و فروخت کی اجازت ملتی ہے تو ایران اپنے 40 سالہ مشکلات سے گزارے ہوئے درد کا ازالہ کر سکتا ہے۔ اس کا پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ پاکستان بآسانی اور بائے روڈ ایران سے تیل خرید سکتا ہے اور ایران کے ساتھ پاکستان کا جو گیس کا معاہدہ تھا اس کو بھی تکمیل تک پہنچا سکتا ہے۔اگر ایران امریکہ کے درمیان مستقل معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ امریکہ اور ایران کے ساتھ پاکستان کی بھی سب سے بڑی جیت ہوگی کیونکہ امن کو لیڈ کرنے والا ہی اصل ہیرو ہوتا ہے اور اس پورے منظر نامے میں مرکزی ہیرو کا رول شہباز شریف ادا کر رہے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف آج اپنے سیاسی کیریئر کے عروج پر ہیں۔دنیا بھر میں ان کا نام امن کے سفیر کے طور پر گونج رہا ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے یہ مسلم لیگ نون کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کے لیے بھی بڑے اعزاز کی بات ہے کہ دنیا پاکستان اور اس کے وزیراعظم کی پیس میکر کے طور پر تعریف کر رہی ہے۔ پاکستان نے خود کو دفاعی اور سفارتی لحاظ سے ایک کامیاب ریاست کے طور پر منوا لیا ہے۔ اب پاکستان کے معاشی طور پر اڑان بڑھنے کا وقت ہے اور اگلے دو سال تک پاکستان معاشی طاقت بن کر دنیا کے سامنے آئے گا۔

مزیدخبریں