امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی تصادم.... جسے بعض حلقوں میں ”آپریشن ایپک فیوری“ اور ”رورنگ لائن“ کا نام دیا گیا.... موجودہ پیچیدہ عالمی منظرنامے میں عسکری طاقت کی حدود کا ایک سنجیدہ عکاس ہے۔ 28 فروری سے شروع ہو کر 8 اپریل تک جاری رہنے والی اس کشیدگی کو امن مذاکرات کے لئے روک دیا گیا، جبکہ اسے ایران کی سٹرٹیجک صلاحیتوں کو ختم کرنے کی ایک فیصلہ کن مہم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم جب اس کا جائزہ اس کے اعلانیہ مقاصد کی روشنی میں لیا جائے تو یہ مہم واضح طور پر اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس سے حکمتِ عملی، عملدرآمد اور طویل المدتی نتائج کے حوالے سے اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔
ایران کے جوہری ڈھانچے کو تباہ کرنا، اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا، اور ممکنہ طور پر اس کی سیاسی قیادت کو کمزور کرنا ابتدا ہی سے اس مہم کے بلند مقاصد تھے لیکن زمینی حقائق اس امریکی اور اسرائیلی مہم کے برعکس نظر آتے ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، جو طویل عرصے سے مغربی دنیا کی تشویش کا مرکز رہا ہے، اپنی بنیادی صلاحیتوں کے ساتھ برقرار ہے۔ اگرچہ وقتی نوعیت کی رکاوٹیں ضرور پیدا ہوئیں، مگر کسی حتمی اور فیصلہ کن نقصان کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ یہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں محض تکنیکی برتری سٹرٹیجک کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔
اسی طرح ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنے میں بھی ناکامی واضح ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں اور پراکسی نیٹ ورکس کا ایک وسیع جال بچھایا ہے، جو لبنان سے لے کر عراق اور دیگر علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ مسلسل فوجی دباو¿ کے باوجود یہ نیٹ ورکس نہ صرف برقرار رہے بلکہ بعض صورتوں میں مزید مضبوط ہوئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس جنگ کو ایران کے اتحادیوں اور حامیوں نے بیرونی جارحیت کے طور پر دیکھا، جس نے ان کے عزم کو مزید تقویت دی۔
اس تنازع کا ایک اہم پہلو فریقین کے درمیان واضح عدم توازن ہے۔ ایک طرف دو جوہری طاقتیں جدید ترین عسکری صلاحیتوں کے ساتھ موجود تھیں، جبکہ دوسری جانب ایک ایسا ملک تھا جو جوہری ہتھیاروں سے محروم ہونے کے باوجود علاقائی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور طویل اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کا اپنے اہداف حاصل نہ کر پانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر متوازن جنگوں میں روایتی عسکری حکمتِ عملیاں اکثر غیر مو¿ثر ثابت ہوتی ہیں۔ ایران کی قیادت اور ریاستی ڈھانچہ اس پوری کشمکش کے دوران مستحکم رہا۔
جنگ کے انسانی اور معاشی اثرات بھی کسی کامیابی کے دعوے کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ شہری ہلاکتیں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور معاشی بے چینی نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کو بھی طویل فوجی کارروائیوں کے اخراجات اور اندرونی و عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگیں محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کے سیاسی اور معاشی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔
جنگ بندی یا عارضی وقفہ، جسے امن مذاکرات کا نام دیا گیا، درحقیقت اس بات کا اشارہ ہے کہ عسکری ذرائع سے فیصلہ کن نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ اگر بالآخر مذاکرات ہی اس تنازع کا حل بننا تھے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
نفسیاتی اور علامتی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات گہرے ہیں۔ ایران کے لیے یہ واضح کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس نے دو بڑی جوہری اور عسکری طاقتوں کے دباو¿ کا مقابلہ کیا۔ ایسی صورتحال میں استقامت خود ایک کامیابی بن جاتی ہے، جو داخلی اتحاد اور ریاستی ساکھ کو مضبوط بناتی ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور اسرائیل کے لیے واضح کامیابی کا فقدان ایک سٹرٹیجک کمزوری کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو مستقبل میں ان کی دفاعی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتا ہے۔
وسیع تر تناظر میں یہ تنازع عالمی نظام میں تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ علاقائی استحکام کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا میں طاقت کے توازن کے بدلتے ہوئے رجحانات کو اجاگر کرتا ہے۔ دیگر عالمی طاقتیں ان واقعات کا بغور مشاہدہ کر رہی ہیں اور اس سے اہم سبق حاصل کر رہی ہیں، خصوصاً امریکی عسکری برتری کی حدود کے حوالے سے۔
اس تنازع میں اطلاعاتی جنگ کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ مختلف بیانیے، جو روایتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے گئے، نے حقیقت کو دھندلا دیا ہے۔ ہر فریق نے اپنی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی، جس سے غیر جانبدار تجزیہ مزید مشکل ہو گیا۔
یہ سوال کہ آیا ایران اس جنگ کے بعد زیادہ مضبوط ہوا ہے، ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ عسکری لحاظ سے اس نے اپنی برداشت اور ردعمل کی صلاحیت کو ثابت کیا اور سیاسی طور پر داخلی حمایت کو مستحکم کیا۔ تاہم معاشی مشکلات اور پابندیاں بدستور اس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اس لیے اس کی طاقت کو مطلق نہیں بلکہ نسبتی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ دنیا امریکہ کی فتح کے بغیر ایک اور جنگ سے رخصتی دیکھ رہی ہے۔ شاید امریکہ کا مقصد جنگوں میں فتح حاصل کرنے سے زیادہ مسلمان ملکوں کو تباہ کرنا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ جنگ ایک سبق ہے کہ محض عسکری طاقت کے ذریعے پیچیدہ تنازعات کو حل کرنا ممکن نہیں۔ مستقبل کی حکمتِ عملی میں سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور بنیادی مسائل کے حل کو ترجیح دینا ناگزیر ہوگا۔ دنیا میں فیصلہ کن فتوحات کم ہی ممکن ہوتی ہیں۔ اس جنگ نے طاقت اور مزاحمت کے تصورات کو نئے سرے سے متعین کیا ہے، جہاں محض بقا بھی ایک کامیابی بن جاتی ہے۔ ایسے دور میں، جہاں عالمی سیاست پیچیدہ ہو چکی ہے، امن اور استحکام کا راستہ بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ مکالمے اور سفارت کاری سے ہو کر گزرتا ہے۔
امریکہ کی فتح کے بغیر ایک اور جنگ سے رخصتی
09:06 AM, 11 Apr, 2026