اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر کہ اُس پاک ذات نے وطنِ عزیز پاکستان کو وہ عزت دی ہے، وہ اعزاز بخشا ہے کہ ساری دُنیا پاکستان کی تعریف و توصیف کر رہی ہے اور پوری قوم (سوائے چند بد بختوں کے) پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہی ہے۔ پاکستان کا یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے کے وہ ایک دوسرے کی تباہی و بربادی کے لئے پاگل پن کی حد تک تیار اور دُنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچانے کی راہ پر گامزن فریقین کے مابین دو ہفتوں کے لئے جنگ بندی کرانے اور اُنہیں آپس میں بات چیت کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندوں کے درمیان قیامِ امن اور مستقل جنگ بندی کے لئے مذاکرات ہو رہے ہیںتو بلا شبہ اس کا سب سے بڑا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین سول اور عسکری قیادتوں نے اس ضمن میں جو بھاگ دوڑ کی ہے ، پُر خلوص کوششیں کی ہیں ، فریقین سے رابطے کیے ہیں اور کامیاب ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا ہے آ ج ساری دنیا اُس کی معترف ہی نہیں ہے بلکہ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، ناب وزیر ِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحا قڈار ، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کی تعریف و تحسین میں رطلب اللسان بھی ہے ۔ آج دنیا میں پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کو امن کا نوبل انعام دیئے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں تو بلا شبہ یہ پاکستان کی عزت افزائی ہے۔
قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے( مفہوم )” ہم جسے چاہیں اُسے عزت دیتے ہیں اور جسے چاہیں ذلت دیتے ہیں“۔ یہ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف ، نائب وزیرِ اعظم ووزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مقدر میں روزِ ازل سے لکھ دیا گیا تھا کہ انہیں یہ عزت اور افتخار حاصل ہو۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایسی غیر معمولی بات ہے جسے سُن کر اور جان کر دُنیا نے سُکھ کا سانس لیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے ایران کو الٹی میٹم دے رکھا تھا کہ اگر وہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات دس بجے (پاکستان کے وقت کے مطابق بدھ صبح پانچ بجے) تک آبنائے ہرمز نہیں کھولتا اور خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب پر میزائلز اور ڈورنز حملے بند نہیں کرتا تو اُس کے جزیرہ خارگ کو نشانہ بنانے کے ساتھ اُس کے پاور پلانٹس ، اُس کے انفراسٹریکچر ، اُس کی ریلوے لائنوں اور پلوں کو تباہ کن بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے اُسے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ دوسری طرف ایران کی طرف سے بھی یہ دھمکیاں موجود تھیں کہ اگر اُسے بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ خلیج کی ریاستوں اورسعودی عرب میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ وہاں تیل کی تنصیبات اور صاف پانی کے پلانٹس پر بھی اپنے میزائل اور ڈرونز برسانے میں اضافہ کر دے گا۔ یہ صورتحال یقینا انتہائی خطرناک ، الارمننگ اور پوری دُنیا کے لئے انتہائی تشویش اور پریشانی کا باعث تھی۔ سب کو علم تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر دھمکیاں دے رہا ہے تو اپنے غصے بلکہ دیوانہ پن میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ایران کے بارے میں بھی یہ سوچ موجود تھی کہ اُن کے نزدیک اپنے قومی اور مسلکی مفاد سے بڑھ کر کوئی بھی چیز مقدم نہیں۔ اُس نے اگر فیصلہ کیا ہوا ہے کہ اُس نے مرنا ہے اور تباہی اور بربادی کا شکار ہونا ہے تو پھر وہ دوسروں کو لے کر ہی مرے گا اور انہیں تباہی اور بربادی سے دوچار کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ اس کے لئے خلیج کی ریاستوں اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات ، ہوائی اڈوں اور صاف پانی کے پلانٹس آسان ٹارگٹ اور تر نوالہ ہیں اور وہ یقینا ان پر اپنے ڈرونز اور میزائل حملے کرنے میںکوئی کمی نہیں چھوڑے گا۔
یہ صورتحال یقینا انتہائی فکر مندی اور پریشانی کا باعث تھی۔ پھر کیا ہوا ، اسے معجزہ تو نہیں کہا جاسکتا ، انہونی اور خلافِ توقع بات کہا جا سکتا ہے کہ جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے الٹی میٹم کے ختم ہونے میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا کہ اُن کی طرف سے یہ اعلان آ گیا کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لئے مﺅخر کرنے پر آمادہ ہیں ، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری ، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے ۔ امریکی صدر کے اس اعلان کے ساتھ ہی ایران کی طرف سے بھی پاکستان کی پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے کا اعلان سامنے آ گیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف حملے بند کر دئیے جائیں تو ایران بھی اپنی تمام عسکری کاروائیاں روک دے گا اور جنگ بندی کی مدت کے دوران عالمی تجارتی جہاز اور آئل ٹینکرز ایرانی حدود سے بحفاظت گزر سکیں گے۔
اب تازہ ترین صورتحال کیا ہے ؟ یہ سطور چھپیں گی تو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان امن اور مستقل جنگ بندی کے لئے مذاکرات کا آغاز یا اس کا ایک دور ہو چکا ہو گا۔ امریکہ کے اعلیٰ اختیاراتی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس ، خصوصی ایلچی اسٹیوونکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیر ڈکشنز شامل ہیں۔ تو ایرانی وفد کی قیادت ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپییکر محمد باقر کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات کب تک جاری رہتے ہیں اور ان کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے ، اس سے قطع نظر پاکستان نے ان کے اطمینان بخش اور نتیجہ خیز انعقاد کے لئے زبردست انتظامات کیے ہیں ۔ اسلام آباد کے شہر کو پُر سکون رکھنے کے لئے اس میں آمد و رفعت کو محدود کر دیا گیا ہے تو اس کے ساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے بھی ہر سطح پر اور ہر پہلو سے کوششیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے عالمی رہنماﺅں سے فون پر رابطے اور گفتگو کا عمل جاری ہے تو نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی پوری طرح سرگرم اور رابطوں میں مصروف ہیں۔ پسِ پردہ چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھی پُرخلوص کوششیں جاری ہیں۔ اللہ کرے یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں اور کامیابی سے ہمکنار ہوں ورنہ اس بات کے خدشات موجود ہیں کہ ایران اپنے طے شدہ فیصلوں کے مطابق خلیجی ریاستوں کے ساتھ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور وہاں کے صاف پانی کے پلانٹس کو نشانہ بناتا ہے تو پاکستان کے لئے خاموش رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس کا اظہار منگل کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدارت میں منعقدہ کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے اور پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں بھی سامنے آچکا ہے کہ جن میں ایران کی سعودی عرب پر حملوں کی انتہائی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔
اللہ جسے چاہے عزت دے ....!
09:05 AM, 11 Apr, 2026