نا قابلِ یقین مناظر ہیں

09:06 AM, 11 Apr, 2026

19مارچ کو اسی عنوان سے ایک کالم شائع ہوا تھا جس میں عرض کیا تھا کہ ” اسرائیل جس طرح گذشتہ پچاس سال سے زائد عرصہ سے اہل فلسطین پر مظالم ڈھا رہا تھا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ اسرائیل کی تباہی کے بھی ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں گے جس سے اہل اسلام کے دلوں کو بھی سکون ملے گا ۔گذشتہ سال جون میں بھی کچھ نا قابلِ یقین مناظر دیکھنے کو ملے تھے لیکن وہ جلد ہی ختم ہو گئے تھے لیکن اس سے صرف ایک ماہ پہلے بھی یعنی مئی 2025میں بھی بڑے مختصر وقت میں ڈھیر سارے ایسے مناظر دیکھنے کو ملے تھے کہ جو در حقیقت دیکھنے اور سننے میں بھی اجنبی سے لگتے تھے ۔ “ اس وقت ہمارے کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ فقط چند دن بعد ہی ان نا قابلِ یقین مناظر سے بھی زیادہ نا قابلِ یقین مناظر دیکھنے کو ملیں گے کہ جس کو ایک محب وطن پاکستان سوچ تو سکتا تھا لیکن تصور میں جو مناظر ہوں گے وہ حقیقت بن جائیں گے اس کا یقین نہیں تھالیکن خدائے بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ذات پاک نے دنیا میں جو عزت پاکستان کو دی ہے وہ واقعی نا قابل تصور ہے ۔پاکستان اس دنیا کی کوئی سپر پاور نہیں ہے ۔ نہ ہی پاکستان چین کی طرح مستقبل میں بننے والی سپر پاور ہے۔ نہ ہی پاکستان روس کی طرح سابق سپر پاور ہے ۔ نہ ہی پاکستان چین اور جاپان کی طرح معاشی جن ہے کہ جس کی بات سے انکار سے بہت سے ممالک کو فرق پڑ سکتا تھا ۔ پاکستان معاشی لحاظ سے بھی اتنا مضبوط نہیں ہے کہ اس کا شمار جی ایٹ ممالک میں ہو ۔ پاکستان کے پاس تیل کی دولت بھی نہیں ہے ۔ پاکستان رقبہ کے لحاظ سے روس جتنا بڑا بھی نہیں ہے ۔ پاکستان چین اور ہندوستان کی طرح آبادی کے لحاظ سے بھی دنیا کا بڑا ملک نہیں ہے کہ جہاں دنیا کے دیگر ممالک کے معاشی مفادات ہوں ۔ اس سب کے نہ ہونے کے باوجود بھی اگر دنیا کی اکلوتی سپر پاور ہی نہیں بلکہ اسرائیل جیسے دشمن نے بھی پاکستانی تجویز پر جنگ بندی کی ہے تو یہ اس خدائے احد کی کرم نوازی ہے اور یقینا اس نے پاکستان کو ان سب چیزوں سے ہٹ کر کسی ایسی نعمت سے نواز رکھا ہے کہ جس کا علم ہمیں تو نہیں ہے لیکن گذشتہ سال پاک بھارت جنگ میں نا قابل یقین سرعت کے ساتھ فتح مبین کے بعد دنیا کے کچھ اہم ممالک کو ہو چکا ہے ۔ ایران ، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں اصل جیت اگر کسی کی ہوئی ہے تو وہ میرے وطن پاکستان کی ہے اور اس فتح میں شک کی کوئی گنجائش اس لئے بھی نہیں رہی کہ اس کرہ ارض کی واحد سپر پاور کے صدر نے پاکستان کے کہنے پر صرف جنگ بندی نہیں کی بلکہ وزیر اعظم پاکستان اور خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک محنتوں کا اعتراف کر کے 15روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور اسی طرح ایران نے بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو خراج عقیدت اور اظہار تشکر کر کے جنگ بندی کی ہے ۔ 
ہم بچپن سے ویانا پیکٹ ، جنیوا اکارڈ ، کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ اور وارسا پیکٹ جیسے معاہدوں کا نام اور ان کی تاریخ پڑھتے آ رہے تھے لیکن یقین کریں کہ یہ سوچ کر ہی دلی سکون مل رہا ہے کہ ایک منی ورلڈ وار کے ختم کروانے کا سہرا ہمارے سر جائے گا اور اس کے لئے جو معاہدہ ہو گا وہ ” اسلام آباد اکارڈ “ کہلائے گا ۔ جو بھی محب وطن پاکستانی ہے اس کا سر یہ سب سوچ کر فخر سے بلند ہو جائے گا۔ دنیا میں اس طرح کی عزت کا ایک مقام 1974میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ملا تھا جس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے اور دوسری بار اس طرح کی عزت 1998 میں میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان کے نیوکلیئر پاور کے بننے پر عزت ملی تھی ۔ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ جب پاکستان نے ہندوستان کے پانچ کے مقابلہ میں سات ایٹمی دھماکے کئے تو عالم اسلام کے رہنماﺅں کی طرف سے بیانات آئے تھے کہ انھیں پاکستان پر فخر ہے اور پورے عالم اسلام کے عوام نے اس پر جشن منایا تھا ۔ 
 سپر پاور کے نائب صدر چل کر پاکستان آ رہے ہیں اور برادر اسلامی ملک کا وفد جو پاکستان آیا ہے اگر اس نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی عزت رکھی ہے تو پاکستان نے بھی ان کی عزت افزائی میں کمی نہیں کی ۔ خبروں کے مطابق پاکستان کے جیٹ فائٹر طیاروں نے انھیں پاکستانی سرحد سے ملحق ایرانی فضاﺅں سے اپنے حفاظتی حصار میں لے کر وطن عزیز آئے ہیں ۔ کوئی شک نہیں کہ اس سارے عمل میں پاکستان کی سیاسی قیادت جس میں خاص طور پر وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار شامل ہیں ان کی کاوشوں کا بڑا عمل دخل ہے لیکن اس میں اصل کردار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ادا کیا ہے کہ جن کی شخصیت نے خدا کے فضل سے یہ سب ممکن کر دکھایا ۔اس جنگ بندی سے صرف دو ملکوں میں امن نہیں ہوا بلکہ ایک پورا خطہ جو جنگ کی لپیٹ میں تھا وہاں امن ہو گیا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت جس اتھل پتھل کا شکار تھی پاکستان کی وجہ سے اس میں بھی اب استحکام آئے گا ۔ آخر میں صرف ایک سوال کہ کچھ لوگوں کی خواہشات کے تحت نومبر2022میں اگرفیلڈ مارشل عاصم منیر کی جگہ کسی اور کو آرمی چیف بنا دیا جاتا توکیا پاکستان کو یہ عزت ملنا ممکن تھا ؟ ۔

مزیدخبریں