حلقہءارباب ذوق اور ہم

09:04 AM, 11 Apr, 2026

"آپ کو پاک ٹی ہاو¿س کا بھی علم نہیں؟ جناب یہ وہ جگہ ہے جہاں پوری ایک صدی بیٹھتی ہے، یہاں حلقہ¿ اربابِ ذوق کے ہفتہ وار اجلاس ہوتے ہیں، آپ کبھی وہاں جا کر تو دیکھیں۔" ٹھیک سے یاد نہیں لیکن اس سے ملتا جلتا ہی جملہ تھا جو پاک ٹی ہاو¿س کے ساتھ میرے تعارف کا باعث بنا۔ یہ جملہ آج سے کم و بیش پینتیس سال قبل میرے خالہ زاد بھائی کے ٹیکسلا سے لاہور آئے ہوئے دوست نے مجھ سے ملاقات کے دوران کہا تھا۔ یہ جملہ تو میرے حافظے سے چپک کر رہ گیا لیکن اس کے باوجود کئی سال بعد تک بھی مجھے پاک ٹی ہاو¿س دیکھنے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ وجہ میری مصروفیت اور کاہلی کے ساتھ ساتھ شاید یہ بھی رہی کہ ہر نوجوان کی طرح میں بھی اس زمانے میں خود کو ہی پوری صدی تصور کرتا تھا، سو کسی اور صدی کو دیکھنے کا اشتیاق ہی دل میں پیدا نہ ہوا۔
 آج جب حلقہءارباب ذوق کا ایک سال تک جوائنٹ سیکرٹری رہنے اور پاک ٹی ہاو¿س کی تاریخ کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل کر چکا ہوں تو یہ سوچتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ بچپن سے شعر و شاعری سے شغف رکھنے کے باوجود میں ایک طویل عرصہ پاک ٹی ہاو¿س اور حلقہءارباب ذوق سے ناواقف کیسے رہا۔ 
چند سال بعد استاد محترم ڈاکٹر لطیف ساحل صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کے بعد پاک ٹی ہاو¿س آنے جانے اور حلقے کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ یہاں آنے جانے سے علم ہوا کہ صرف حلقہ ارباب ذوق ہی نہیں، انجمن ترقی پسند مصنفین سمیت کچھ دیگر تنظیمیں بھی اسی جگہ پر مختلف دنوں میں اپنے اجلاس کرتی ہیں اور حلقے کے بہت سے رکن انجمن کے بھی رکن ہیں۔ یہیں سے شاعروں اور ادیبوں سے تعلق اور دوستی کا سلسلہ بھی استوار ہوا اور یہ بھی پتا چلا کہ شاعری ایک باقاعدہ فن ہے ورنہ اس سے پہلے تک میں بھی اسی مغالطے میں مبتلا تھا کہ شاعری قدرت کی طرف سے عطا ہوتی ہے، سیکھنے سکھانے سے نہیں آتی۔ یہ مغالطہ عام طور پر ماہرِ فن شاعر نوآموز شعرا پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے پھیلاتے ہیں حالانکہ انھوں نے خود بھی شاعری سیکھنے پر اچھا خاص وقت صرف کیا ہوتا ہے۔ 
پاک ٹی ہاو¿س آنا جانا اور حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں شرکت کرنا تو آج سے تیس سال قبل شروع کر دیا تھا لیکن اس کا رکن بننے کا پھر بھی کبھی خیال نہیں آیا۔ یہاں بھی کچھ اپنی مصروفیت اور کچھ روایتی کاہلی آڑے آئی جبکہ میرے تمام دوست ایک ایک کر کے اس کے رکن بنتے چلے گئے۔ اسی دوران حلقے کی مختلف دھڑوں میں تقسیم، پاک ٹی ہاو¿س کی بندش، حلقے کے اجلاسوں کی دیگر مقامات پر منتقلی جیسے واقعات بھی رونما ہوتے رہے جس نے مجھے باقاعدہ رکن بننے سے گریزاں رکھا کہ میں لڑائی جھگڑوں سے دور رہنے والا آدمی ہوں۔
 بھلا ہو حماد نیازی کا کہ کورونا کے دوران اپنی سیکرٹری شپ کے دنوں میں انھوں نے مجھے بھی حلقے کے واٹس ایپ گروپ میں شامل کر لیا۔ ان دنوں لاک ڈاو¿ن کے باعث حلقے کے اجلاس پاک ٹی ہاو¿س کی بجائے واٹس ایپ پر ہوتے تھے، یوں گھر بیٹھے ان میں شرکت ہو جاتی۔ ان اجلاسوں میں شرکت سے حلقے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ سو کورونا ختم ہونے کے بعد حلقے کے زمینی اجلاسوں میں باقاعدہ آنا جانا شروع کیا۔ اس وقت تک محترمہ فرح رضوی سیکرٹری اور میاں محمد شہزاد جوائنٹ سیکرٹری کے مناصب پر فائز ہو چکے تھے۔ دونوں کی خصوصی دلچسپی اور کوشش سے آخر کار میں حلقے کا رکن بن گیا۔ 
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حلقے کا رکن بننا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کا ایک بہت کڑا معیار ہے، ہر کوئی اس سے گزر کر ہی حلقے کا رکن بنتا ہے چاہے وہ جتنا بھی بڑا اور مشہور و معروف تخلیق کار کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں ہزاروں شاعر، ادیب موجود ہونے کے باوجود حلقے کے ارکان کی تعداد صرف چار سو کے ارگرد ہی گھوم رہی ہے۔ سنا ہے منیر نیازی جیسے شہرئہ آفاق شاعر کو بھی حلقے کا رکن بننے کے لیے بہت طویل انتظار کرنا پڑا تھا۔
میں شاید حلقے کا واحد رکن ہوں جو 2022 میں رکن بننے کے بعد مختصر ترین وقت کے اندر2025 میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے تک پہنچ گیا جبکہ 2024میں نامور شاعر قاری صادق جمیل کی خواہش پر سیکرٹری کا الیکشن بھی لڑا جس میں میرے حریف نواز کھرل کو کامیابی ملی تھی جنھوں نے بہت کامیابی سے حلقے کو چلایا۔ اس الیکشن میں مجھے عامر فراز گروپ، شاہدرہ کے ادبی حلقے، لاہور پریس کلب کے صحافی دانشوروں اور نعتیہ ادب سے وابستہ شعرا سمیت بہت سے مخلص دوستوں کی حمایت حاصل رہی۔ 
اگلے برس مجھے شاذیہ مفتی صاحبہ نے اپنے ساتھ پینل بنانے کی دعوت دی جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا اور ہمارا پینل بلامقابلہ منتخب ہو گیا۔ شاذیہ مفتی نے بطور سیکرٹری اور میں نے جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے اپنے سیشن کے دوران حلقے کی بہترین انداز سے خدمت کرنے کی کوشش کی۔ حلقے کے حوالے سے سیاست بازی اور سازشوں کے بارے میں سن رکھا تھا، رکن بننے کے بعد کسی حد تک دیکھا بھی اور جوائنٹ سیکریٹری بننے کے بعد اس کا بہت زیادہ سامنا بھی کیا۔ مجھ سے زیادہ سامنا سیکرٹری کی مرکزی نششت پر ہونے کے باعث شاذیہ مفتی کو کرنا پڑا اور انھوں نے خاتون ہونے کے باوجود حلقے کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا بھی مردانہ وار مقابلہ کیا۔ میں گزشتہ ایک سال کے دوران ہر ہر قدم پر ان کے ساتھ تھا اور گواہ ہوں کہ جن مشکلات کا انھیں مقابلہ کرنا پڑا، اگر ان میں سے کسی ایک کا بھی سامنا مجھے کرنا پڑتا تو شاید صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ جاتا۔ پاکستان میں ادب کی ایک توانا روایت کو مزید توانائی عطا کرنے پر شاذیہ مفتی میرے ہی نہیں، تمام معزز ارکان کے سلیوٹ کی مستحق ہیں۔ 
اب ہمارا سیشن ختم ہو رہا ہے، کل سیکرٹری کے انتخابات ہیں۔ گیان فیم آفتاب جاوید اور معروف شاعر آفتاب خان مدمقابل ہیں۔ جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پرعزیز دوست افسانہ نگار، شاعر اور صحافی شہزاد فراموش پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ کل پاک ٹی ہاو¿س میں ہونے والے انتخابات میں سیکرٹری کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ نئے سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری مل کر اگلے سال کے لیے حلقے کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی۔ امید ہے کہ وہ حلقے کی تابندہ روایت کو اور زیادہ شاندار انداز سے آگے بڑھائیں گے۔

مزیدخبریں