راولپنڈی: پنجاب حکومت نے انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 کے تحت قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت تعلیمی اداروں، دفاتر، اسپتالوں، شاپنگ مالز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر ایک ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن سید نذرات علی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں کے 50 میٹر کے دائرے میں سگریٹ فروخت کرنا ممنوع ہوگا اور دکانوں پر سگریٹ نوشی کی ممانعت کے نوٹس آویزاں کرنا ضروری ہوگا۔
ایڈیشنل کمشنر نے کہا کہ اگر قانون کی خلاف ورزی کی جائے تو دکانیں بند کرنے، سامان ضبط کرنے اور جرمانہ عائد کرنے کے اختیارات متعلقہ افسران کو حاصل ہوں گے۔
تمام سرکاری محکموں خصوصاً سکول ایجوکیشن کو فوکل پرسن اور ٹرینرز تعینات کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ اس قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔
سید نذرات علی کا کہنا تھا کہ “ہماری اولین ترجیح طلبا کو تمباکو نوشی سے بچانا ہے، کیونکہ تمباکو نوشی گلے، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے اور ہر سال 1.6 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہے۔”
شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ “سموک فری پاکستان” ایپ کے ذریعے کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دے سکتے ہیں تاکہ علاقے کو تمباکو نوشی سے پاک بنایا جا سکے۔
⸻