منوج کمار میرے پسندیدہ فنکار تھے ،’’بھارتی فنکار‘‘ میں نے اس لئے نہیں کہا فنکار سانجھے ہوتے ہیں ، شاید اسی لئے ہمارے اکثر فنکار جب بھارت جاتے ہیں وہاں اْنہیں بہت عزت ملتی ہے، اسی طرح جب اْدھر سے کوئی فنکار یہاں آتاہے اْسے بھی سرکاری و عوامی طور پر بہت پذیرائی ملتی ہے ، پتہ نہیں فنکاروں کی اس آمدورفت کو کس کی نظر کھا گئی اب وہاں سے فنکار آتے ہیں نہ یہاں سے جاتے ہیں ، کاش یہ سلسلہ قائم رہتا ، ہمارے میاں یوسف صلی اْس کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ، اْن کی حویلی فنکاروں کی ایک پسندیدہ قیام گاہ تھی ، پچھلے ہفتے ہم نے اْن کے ساتھ عید شو کیا ، بھارتی فنکاروں کے ساتھ اْن کی دوستیوں کا ذکر چھڑ گیا ، اْنہوں نے بتایا ایک بار وہ ہندوستان گئے بھارتی فنکار نصیرالدین شاہ اْنہیں اپنے فارم ہاؤس لے گئے جو بہت ہی خوبصورت دریا کے کنارے پر تھا ، میاں یوسف صلی اْس کی خوبصورتی ایسے بیان فرما رہے تھے جیسے وہ کسی بہت خوبصورت غزل کی موسیقی ترتیب دے رہے ہوں ، دوسرے ہمارے کامران لاشاری ہیں جو اپنے انتہائی باصلاحیت صاحبزادے بلال لاشاری کی مدد ، مشورے اور معاونت سے اس سلسلے کو بحال کروا سکتے ہیں ، ہمارے اور بھارت کے جو’’سیاسی فنکار‘‘ ہیں اْن میں اتنا دم خم نہیں دو طرفہ مْلکی تعلقات بہتر بنانے میں کوئی مثبت کردار ادا کرسکیں ، ہمارے’’سیاسی فنکاروں‘‘ کے بس میں تو یہ بالکل ہی نہیں ہے ، وہ جانتے ہیں اس قسم کی سنجیدہ کوشش اْن کی حکومت کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتی ہے ، سو اب اگر یہ کوشش دونوں مْلکوں کے’’ثقافتی فنکار‘‘ مل کر کریں شاید اْس کے مثبت نتائج نکل آئیں اور وہ نفرتیں ختم ہو جائیں جو مسلسل جانی و مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں ، اگلے روز میں دیکھ رہا تھا میرے پسندیدہ فنکار منوج کمار کی آخری رسومات زبردست سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں ، مجھے نہیں یاد ایسے سرکاری اعزاز کے ساتھ ہمارے کسی فنکار کو دفنایا گیا ہو ، البتہ آئین توڑنے والے فنکاروں کو ہمیشہ ایسے ہی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا ، یہ تو بھلا ہو میڈیا کا جو اپنے فنکاروں کو یاد رکھنے کا کوئی نہ کوئی اہتمام اْن کے یوم پیدائش یا یوم وفات پر کر لیتا ہے ورنہ اب ہمیں کہاں یاد رہتا ہے ہمارے بڑے بڑے ہیروز یا فنکار کب پیداہوئے کب فوت ہوگئے ؟ ہمیں اپنے والدین کے یوم پیدائش اور یوم وفات یاد نہیں رہتے اوروں کے کہاں سے رہیں گے ؟ ، مجھے جب اصرار کے ساتھ کوئی یہ کہے’’آپ اپنا شعری مجموعہ یا منتخب کالمز کتابی شکل میں کیوں شائع نہیں کرواتے ؟ مجھے انجم یوسفی کا شعر یاد آجاتا ہے
رہے گی یاد کسے آپ کی غزل انجم
یہاں تو لوگ خدا کا کلام بھول گئے
ہم اپنے فنکاروں کو پہنچانتے ہیں اْن کی عزت نہیں کرتے ، ہم اْن کے ساتھ تصویریں اور سیلفیاں وغیرہ بہت بناتے ہیں سچے دل سے اْن کا ادب احترام نہیں کرتے ، اْنہیں وہ محبت نہیں دیتے جو اْن کا حق ہوتا ہے ، میرا پنجابی کا ایک شعر ہے
نہ کوئی پْچھے نہ پہچانے پھراں پیا دل گیر
اْنج گھر گھر کنداں تے پئی لٹکے میری تصویر
ہم بڑے ہیرو مار لوگ ہیں ،ہم اپنے ہیروز کو اْن کی زندگیوں میں ہی مار دیتے ہیں ، قائداعظم سے لے کر ڈاکٹر قدیر احمد خان تک کے ساتھ یہی کچھ ہم نے کیا ، آج ہماری ایٹمی قوت کی دْنیا کوئی اہمیت نہیں دیتی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے اس کے خالقوں کو جیتے جی ہم نے مار دیا ، اْنہیں بے عزت کیا ، اس عالم میں اپنے فنکاروں کو عزت کہاں سے ہم دیں گے ؟ عزت وہ دیتاہے جس کے اپنے پاس ہوتی ہے ، ہمارے پاس صرف شہرت ہے ، وہ بھی رج کے بے ایمانی ، بددیانتی ، منافقت اور جھوٹ کی ، اس’’شہرت بد‘‘ سے نجات کی کوئی تمنا بھی اب ہم نہیں رکھتے ، جون ایلیا کا کتنا خوبصورت شعر ہے
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
شاید اسی لئے اب یہاں یہ تصور بھی نہیں کیاجاسکتا قائداعظم جیسا کوئی سیاسی راہنما پیدا ہوگا ، ڈاکٹر قدیر خان جیسا کوئی سائنسدان پیدا ہوگا ، ملکہ ترنم نورجہاں ، نصرت فتح علی خان ، مہدی حسن ، محمد علی ، وحید مراد ، آغا طالش ، معین اختر جیسا کوئی بڑا فنکار یا گلوکار پیدا ہو گا ، قدرت اللہ شہاب ،فیض احمد فیض ، اشفاق احمد ، احمد ندیم قاسمی ، حبیب جالب ، بانو قدسیہ ، منیر نیازی ، مشتاق احمد یوسفی ، صادقین ، اسلم کمال جیسا کوئی شاعر ادیب دانشور یا مصور پیدا ہو گا ، ہر شعبے میں بدبو دار کچرا ہی اب رہ گیا ہے ، ہمارے کچھ ’’میراثی شاعروں‘‘ کی حالت یہ ہے اپنے کلام کو قابل داد بنانے کے لئے اْنہیں اپنی بیویاں بے عزت کرنا پڑتی ہیں ، ایک شاعر سے میں نے کہا’’تم اپنی ہر غزل میں اپنی بیوی کو کیوں لے آتے ہو ؟ ، وہ بولا ’’ بیوی ہی تو بکتی ہے سر ‘‘ ، جب ہماری سوچ اس قدر کمرشل اور گھٹیا ہوجائے وہاں کسی سے کیا گلہ شکوہ ہم کریں؟ ، ایسے میں عباس تابش ، رحمان فارس اور شکیل جازب جیسے خوبصورت اور باکمال شاعروں کو پڑھ کے دل کا کچھ بوجھ ہم ہلکا کر لیتے ہیں ، اور انور مسعود کے لئے دعا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی مزاحیہ شاعری کو واہیاتی اور بے حیائی سے مکمل طور پر پرے رکھ کے پوری دْنیا میں مقبولیت کے وہ جھنڈے گاڑے جو آج کے کچھ’’بھانڈ شاعر‘‘ ایڑی چوٹی و دیگر اعضاء کا زور لگا کر بھی نہیں گاڑ سکتے ۔۔( جاری ہے )
ہمارے ہیرو ہمارا کچرا اور ہمارا انجام
08:59 AM, 10 Apr, 2025