قومی یکجہتی کا مظاہرہ کب ہو گا…؟

08:57 AM, 10 Apr, 2025

پاکستان میں یہ ایک عام روایت ہے کہ جیسے ہی عوامی فلاح و بہبود کو سامنے رکھ کر کوئی بڑا منصوبہ شروع کیا جاتا ہے کچھ لوگ اس منصوبے کو متنازع بنانے کے لیے شور مچانا شروع کر دیتے ہیںملکی تاریخ میں کبھی ہم نے قومی یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا چاہے قومی مفاد کے منصوبے کیوں نہ ہوں ہم نے ہمیشہ پارٹی وابستگی کو مقدم رکھا ہم نے کبھی ملک کیلئے نہیں سوچا اسی لئے آج ’’لور لور‘‘امداد کیلئے پھرتے ہیں کالا باغ ڈیم بنا بنایا تھا اس بھی سیاست کی گئی اربوں روپے ضائع کیے گئے کسی کو بھی اس فکر نہیں کیوں کون سا باپ کا مال تھا کہ پریشانی ہوتی پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی پانی کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے اس ملکی مفاد کے منصوبے کو صرف اس لئے سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا کہ پارٹی ناراض نہ ہو جائے کالا باغ ڈیم پر سیاست کر کے پہلے ہی ملک کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے جس کا کریڈٹ سندھ فخریہ لیتا ہے  منگلا اور تربیلا ڈیم تو بن  گئے، لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد کالا باغ ڈیم پر نحوست کا بادل ایسا چھایا جو آج تک ختم نہ سکا، سندھ اور خیبرپختونخوا کے قوم پرستوں نے اس مسئلے کو انا کا مسئلہ بناتے ہوئے ایسا اٹھایا کہ یہ ڈیم آج تک نہیں بن سکا آج بے موسمی بارشوں نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہر سال  بارشوں کا پانی سمندر میں گر جاتا ہے جو سٹوریج کے بجائے ضائع ہوجاتا ہے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے باعث ملک میں بارش 40 فیصد تک کمی ہوئی ہے ،محکمہ آبپاشی کے مطابق سکھر بیراج پر پانی کی کمی 71 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور تینوں بیراجوں پر مجموعی طور پر 65 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے۔محکمہ آبپاشی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس اپریل کے پہلے ہفتے میں سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی قلت 39 فیصد تھی جو رواں سال 71 فیصد تک پہنچ چکی ہے جب کہ تینوں بیراجوں پر مجموعی طور پر پانی کی کمی 37 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد تک جاپہنچی ہے،پنجاب اور سندھ کی زراعت کے اعتبار سے اہمیت تھی اورہے بھی لیکن ہم نے پانی کے مسئلے پر ایک دوسرے کو ہمیشہ نیچا دکھانے کی کوشش کی جس کا نقصان ملک کو ہوا؟پانی کے مسئلے پر پاکستان بننے کے بعد چار کمیشن اور کمیٹیاں بنیں لیکن بدقسمتی سے کسی کمیشن یا کمیٹی کی سفارشات پر دونوں صوبوں میں اتفاق رائے نہ ہوسکا جو ملک کیلئے بد قسمتی ہے،اب بھی  مسلسل شور مچا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس معاملے سے صوبوں کے مابین نفرتیں پیدا ہوں گی اور سیاسی اختلافات مزید بڑھ جائیں گے جبکہ ثانی الذکر ایک دو روز زیر بحث آ کر منظر سے غائب ہوگیا، یہ بات درست ہے کہ دونوں معاملات کی نوعیت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے لیکن آپ کو یکساں نوعیت کے ایسے معاملات بھی مل جائیں گے جن پر مذکورہ قاعدہ لاگو ہوتا ہے،دریائے سندھ سے نکالی جانے والی نہروں کے معاملے پر جو شور مچا ہوا ہے اس پر بات کرنے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک ہفتے میں تیسری بار خصوصی ملاقات کی ہے، اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے غلط فیصلوں نے ملک کو کمزور کر دیا ہے،چند روز پہلے  ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر  چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہ کہہ چکے ہیں کہ سندھ پر نہریں نامنظور ہیں۔ دریائے سندھ کو فعال، بحال اور صحت یاب کرنا ہے۔ ایک زمانے میں یہ مائٹی انڈس کہلاتا تھا، ہمیں اسے بچانا ہے، پاکستان چار بھائیوں کا مجموعہ ہے، یہ اکٹھے ہوں تو کوئی پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتا، صوبوں کو لڑانے کی سازشیں پاکستان پیپلزپارٹی ناکام کرے گی۔ پانی کی منصفانہ تقسیم پر جدوجہد کریں گے اور ہر سازش کو ناکام کریں گے۔ چاروں بھائیوں کو بھائی رہنا ہے تو کینالز منصوبے پر وفاق کو عوام کی آواز سننا ہوگی۔ پانی کی منصفانہ تقسیم ہمارا حق ہے، افسوس ناک بات یہ ہے کہ پی پی پی ایک طرف وفاق میں قائم حکومت کی اتحادی ہے اور دوسری جانب وہ سندھ کارڈ کھیلتے ہوئے ایک قومی نوعیت کے معاملے کو جلسے جلوسوں میں زیر بحث لا رہی ہے،اس سلسلے میں یہ بھی تکلیف دہ بات ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے بار بار کہا جارہا ہے کہ ہم اس حوالے سے سندھ کے تحفظات دور کریں گے لیکن ابھی تک تحفظات دور کیوں نہیں کیے گئے۔ قومی اور عوامی مفاد سے جڑے ہوئے کسی بھی منصوبے پر منفی سیاست نہیں ہونی چاہیے،حکومت کہہ رہی ہے کہ کبھی کبھار غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں ، سندھ کے پانی کے ایک قطرے کا حق بھی نہیں مارا جائے گا، نہروں کا مسئلہ پہلے گزشتہ سال یہ منصوبہ ایکنک میں آیا تو پیپلز پارٹی نے اعتراض کیا اعتراض کے بعد میں اس منصوبے کو موخر کر دیا گیا اس کے بعد کئی میٹنگز میں اس منصوبے کو ایجنڈے پر نہیں لیا سندھ میں کچھ لوگ اس منصوبے کو لے کے بیٹھ گئے ہیں اس منصوبے پر پہلے ورک کیوں نہ کیا گیا کہ اختلافات نہ ہوں ،مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ ملک کیلئے نیک شگون ہو گا ورنہ منصوبہ ایک اور کالا باغ ڈیم ثابت ہو گا؟؟؟۔

مزیدخبریں