موجودہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان1970 ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ کے گائوں ڈھرنال میں پیدا ہوئے ۔انھوں نے ابتدائی تعلیم بورڈنگ اسکول تلہ گنگ میں حاصل کی جبکہ میٹرک راولپنڈی کے سر سید اسکول سے کیا ۔ اس کے بعد ایف اے اور بی اے گورنمنٹ ڈگری کالج سیٹلائٹ ٹائون راولپنڈی سے کیا ۔ سردار صاحب نے عملی سیاست کا آغاز کالج کے زمانے سے ہی کر دیا تھا ۔ جس زمانے میں انھوں نے طلبہ سیاست کا آغاز کیا وہ 80کی دہائی کا آخر تھا اور اس زمانے میں ابھی نظریاتی سیاست کا وجود باقی تھا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی سیاست میں نظریاتی سیاست کی جھلک نظر آتی ہے ۔اس کے بعد 1997میں انھوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور اپنے علاقے سے ممبر ضلع کونسل کا الیکشن لڑا اور 2002میں باقاعدہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ۔ اسی سال مشرف دور میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا ۔ اس کے بعد 2008میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر این اے 59اٹک سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیر مملکت برائے دفاعی پیداوار جیسی اہم وزارت پر فائز ہوئے ۔ اس کے بعد2022میں جب پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی تو میاں شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں خصوصی مشیر برائے سمندر پار پاکستانیوں کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ 10مئی 2024کو گورنر پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھایا ۔ سردار صاحب پنجاب کے 47ویں گورنر ہیں ۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے جس طرح پاکستان کی سیاست میں پیسے کی ریل پیل ہے اور ایک عام آدمی کا سیاست میں ایک خاص حد سے اوپر آنا ممکن نہیں رہا لیکن سردار صاحب کی شخصیت کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ وہ کوئی امیر کبیر انسان نہیں ہیں بلکہ ایک مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی ذاتی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آج اس اہم ترین منصب پر نظر آ رہے ہیں اور یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ جب گورنر پنجاب کی نامزدگی کا موقع آیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی اہم اور انتہائی معتبر نام بھی سامنے تھے لیکن پارٹی قیادت نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں اس انتہائی اہم آئینی منصب کے لئے بہتر سمجھا ۔
سردار صاحب معروف سیاسی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں ۔ ان کا خاندان اپنے علاقے میں سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور علاقے میں انھیں انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میدان سیاست میں شرافت جس کو رخصت ہوئے ایک عرصہ ہو چلا ہے لیکن سردار صاحب کی ذات شرافت اور رکھ رکھائو کا عملی نمونہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ خدا حسن دیتا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے اور ملک کے سب سے بڑے صوبہ کا گورنر بننے کے بعد تو بڑے بڑوں کے مزاج بدل جاتے ہیں لیکن سردار صاحب گورنر بننے کے بعد بھی اپنی سادگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور صرف سادگی ہی برقرار نہیں رکھے ہوئے بلکہ گذشتہ چار ساڑھے چار دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی جس کے لئے پنجاب کو شجر ممنوع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس مشکل دور میں بھی پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کا پرچم تھامے ہوئے ہیں ۔ ایک جانب پارٹی سے وفا داری اور یہ وفا داری صرف پارٹی قیادت کو دکھانے کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ آئے دن گورنر ہائوس میں پارٹی کارکنوںکو جمع کر کے انھیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ کے آئینی عہدے پر ان کی جماعت کا بندہ فائز ہے اور اس صوبے کے گورنر ہائوس کے دروازے ان کے لئے صبح شام ہمہ وقت کھلے رہیں گے ۔ اس کے علاوہ جس جگہ انھیں آئین و قانون کی سربلندی کے لئے اصولی موقف اپنانا ہوتا ہے تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور دبائو میں آئے بغیراس پر ڈٹ جاتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے جب پنجاب حکومت نے صوبے کی یونیورسٹیوں کے لئے وائس چانسلرز کی تقرریاں کیں تو انھوں نے ان کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا اور جس وجہ سے انھوں نے انکار کیا تھا تو اس کی تائید حکومت کے حامی میڈیا پرسنز نے بھی کی اور نیشنل الیکٹرانک میڈیا پر برملا ان کے حق میں بات کی گئی ۔
فروری 2024کے بعد موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے تحت مسلم لیگ نواز کے ساتھ جو پاور شیئرنگ فارمولہ طے پایا تھا پاکستان پیپلز پارٹی بار بار اس پر عمل درآمد کے لئے مسلم لیگ نواز کو کہتی ہے لیکن وہاں سے کوئی خاص رسپانس نہیں ملتا لیکن سردار سلیم حیدر کی شکل میں جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک نظریاتی بندہ سب سے بڑے آئینی عہدے پر موجود ہیں تو ہماری رائے میں حکومت اگر ان کی بات پر کان نہیں دھرتی توکوئی بات نہیں بلکہ سردار صاحب کے لئے اس حوالے سے بڑا سنہری موقع ہو گا کہ وہ صوبہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی کا بیڑا اٹھا لیں اور اپنی نگرانی میں صوبے بھر میں تنظیم سازی کر لیں ۔ اگر وہ ایک یہی کام کر دیں گے تو اس کے بعد انھیں کسی حکومت سے کچھ لینے دینے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر صرف لاہور میں تنظیم سازی کر لی جائے تو مجھ پورا علم تو نہیں ہے لیکن لاہور میں دو سو وارڈ کی تنظیمیں بن جائیں تو ان کے صرف عہدیداروں کی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ ہو جاتی ہے جو کسی جلسے کے لئے نہ سہی لیکن ورکر کنونشن کے لئے کافی سے زیادہ ہو جاتی ہے اور اس سے پارٹی لاہور شہر میں کسان کنونشن سے لے کر کلچر پروگرام ، علماء کنونشن ، طلباء کنونشن جیسے سیاسی پروگرام بڑے احسن انداز سے کرا سکتی ہے اور اس پر امن سیاست پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہو گا۔
گورنر پنجاب سلیم حیدر خان
08:55 AM, 10 Apr, 2025