ایک فقرہ اکثر سننے میں آتا ہے ’’مجھے کیا، باقی لوگ بیٹھے ہیں، وہ جانیں اور مسائل جانیں‘‘۔ سرکاری افسروں میں یہ بات، یہ سوچ، یہ رویہ اور یہ رجحان خاصا عام ہے۔ لاہور کے ایک ڈی سی میرے دوست ہوا کرتے تھے۔ میں جب انہیں کوئی اچھی پروپوزل دیتا تو آگے سے مسکراتے ہوئے کہتے تھے کہ یار چھوڑو ان باتوں کو، گپ شپ لگائو، کھانا کھائو، چائے پیئو اور انجوائے کرو۔ اپنے ڈی سی دوست کی تو میں نے محض ایک مثال پیش کی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پوری بیوروکریسی کا یہی حال ہے۔ کوئی بھی کسی معاملے کو، کسی مسئلے کو سیریس لینے کو تیار نہیں۔ ایک طرح کی ’ڈنگ ٹپائو‘ سوچ ہے۔ یہ رویہ اور رجحان کہ بس آج کا دن گزارو، اپنا وقت پاس کرو اور جو ڈیوٹی لگائی گئی ہے وہ کسی نہ کسی طرح پوری کرو یعنی دیہاڑی لگائو، اس سے آگے سوچنے اور لمبی منصوبہ بندی کرنے کی ضرروت نہیں ہے۔
میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بطور محب وطن گرومنگ ٹھیک طریقے سے نہیں ہوئی، اگر ہوئی ہے تو بہت کم۔ ان میں حب الوطنی کا فقدان ہے اور اجتماعی سوچ عنقا ہے۔ ملک اور معاشرے کی آج کی کیا ضروریات ہیں اور مستقبل میں کن مسائل یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان مشکلات کا پیشگی کیا اُپائے کیا جا سکتا ہے؟ ان معاملات پر سر کھپانے کی وہ ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے سکولوں اور کالجوں کے جو نصاب ہیں ان میں حب الوطنی کو ابھارنے اور اجاگر کرنے کے حوالے سے کوئی خاص مواد نہیں ہے۔ مثبت برین واشنگ کا کوئی ایسا سلسلہ نہیں ہے جس کے ذریعے اعلیٰ سرکاری افسران کو یہ باور کرایا جا سکے یا احساس دلایا جا سکے کہ جناب یہ آپ کا ملک ہے ، اسے آپ نے سنوارنا اور ترقی دینا ہے۔
کوئی بھی گھر چھوٹا ہوتا ہے اور شہر، ملک یا معاشرہ بڑا۔ پھر گھر میں تو بندے نے آٹھ گھنٹے گزارنا ہوتے ہیں۔ باقی سولہ گھنٹے تو دفتر میں گزارنا اور شہر میں گھومنا ہوتا ہے۔ اگر شہر کی انوائرمنٹ صاف ہو گی، اچھی ہو گی، تو اسے وہاں رہنے اور وقت گزارنے کا مزا آئے گا۔ اس کے نتیجے میں ایک اچھا، مضبوط، خوش حال اور خوش گوار معاشرہ تشکیل پائے گا۔ برعکس صورت حال کا منظر بھی ظاہر ہے کہ برعکس ہی ہو گا۔ دنیا چاند تک پہنچ چکی ہے اور اب اس سے دنیائوں پر کمندیں ڈال رہی ہے۔ آرٹیفشل انٹیلی جنس کا دور دورہ ہے۔ ہر ہفتے مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ورژن سامنے آ رہا ہے۔ اسی طرح ترقی اور کامیابی کے نئے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں، چنانچہ ضروری ہو چکا کہ ’’مجھے کیا‘‘ کی روش کو ترک کیا جائے اور یہ سوچا جائے کہ دنیا کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے کے لیے ہمیں کن تیاریوں کی ضرورت ہے۔
معاملات خراب کہاں سے ہونا شروع ہوتے ہیں؟ معاملات وہاں سے خراب ہونا شروع ہوتے ہیں جب اس ’مجھے کیا‘ والی سوچ میں بیوروکریسی کے ساتھ سیاست دان بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سیاست دانوں اور بیوروکریسی کی ایک ملی بھگت چلتی ہے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے سیاست دانوں کی گرومنگ کیسے ہوئی ہوتی ہے، ان کا خمیر کہاں سے اٹھتا ہے۔ یہ کہ ہمارے سیاست دان الیکشن کیوں لڑتے ہیں اور جب منتخب ہو جاتے ہیں تو ان کی سرگرمیاں کیا ہوتی ہیں۔ سیاست دان جب حکمران بنتے ہیں تو بیوروکریسی ان کے ماتحت ہوتی ہے اور سیاست دانوں کے احکامات بجا لانا بیوروکریسی کی ذمہ داری اور فرض ہوتا ہے لیکن سیاست دان جب بیوروکریٹوں کو اپنے گھروں میں دعوت دیتے ہیں، انہیں Oblige کرتے ہیں اور انہیں مختلف نوعیت کے تحائف سے نوازتے ہیں تو اسے رشوت ہی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ان عنایتوں کا مقصد یہ یقین دہانی حاصل کرنا ہوتا ہے کہ ان کی جانب سے آگے بڑھائی گئی فائلیں نہ رکیں اور وہ جو کام بھی کرانا چاہتے ہیں وہ ان کی مرضی کے مطابق ہو جائے۔
ایک وزیر صاحب نے بیوروکریٹ کا ہاتھ پکڑا، اسے سٹیج پر لے گئے اور ان کی تعریفیں کرنا شروع کر دیں۔ تو میں نے بعد میں وزیر موصوف سے پوچھا کہ آپ اس طرح کیوں کرتے ہو، آپ وزیر ہو اور بیوروکریٹ آپ کے ماتحت ہے، آپ تو اتنے پاور فل ہو کہ اس کا تبادلہ بھی کر سکتے ہو، تو پھر ان بے جا تعریفوں کا کیا مطلب، مقصد؟ وزیر صاحب کہنے لگے کہ ہم نے ان سے کام لینا ہوتے ہیں۔ بیوروکریسی میں چلتا ہے کہ جب فائل فارورڈ کی جاتی ہے یا منظور کی جاتی ہے تو As per Law ضرور لکھا جاتا ہے۔ تو وزیر کو خوش کرنے کے لیے وہ ان کی بھیجی گئی فائل بھی منظور کر لیتا یا کرا لیتا ہے۔ اب ایک بیوروکریٹ کسی سیاست دان یا وزیر کا ایک ناجائز کام کرے گا تو دس ناجائز کام اپنے کرائے گا۔
عمارات کی تعمیر کی مثال لیتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ جب کوئی بلڈنگ ٹھیک نہیں بنتی تو سب اس کو گرانے کے لیے آ جاتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک پورا نظام اور ڈپٹی کمشنر جیسے افسروں کی بھرمار ہونے کے باوجود، متعلقہ ادارے اور ان کے حکام موجود ہونے کے باوجود وہ بلڈنگ بن کیسے گئی؟ کس نے یہ بلڈنگ بنانے کی اجازت دی اور کس نے کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ آپ ڈی ایچ اے کو دیکھ لیں، بحریہ ٹائون کو دیکھ لیں، سٹی ہائوسنگ سوسائٹی کو دیکھ لیں، وہاں اگر کوئی بلڈنگ سوسائٹی کے لاز کے برعکس بنتی ہے تو اس گھر یا عمارت کے مالک سے باز پرس کرنے سے پہلے متعلقہ ذمہ دار بندے سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ عمارت کیسے بن گئی۔ کسی کی مجال ہے کہ سوسائٹی کی اجازت کے بغیر ایک گڑھا تک کھود کے دکھا دے، کسی بلڈنگ کو اس کی حدود سے ایک انچ باہر لا کر دکھا دے۔ یہ ہے مجھے کیا کے برعکس سوچ کا نتیجہ۔
ایسا نہیں کہ اس مسئلے کا حل موجود نہیں ہے۔ جب تک ان رشوت کی ہڈی کھانے اور کھلانے والوں کو لٹکائیں گے نہیں حالات کے درست نہج پر آنے امکانات معدوم رہیں گے۔ ہر فرد اور ہر ادارہ اگر اپنے اپنے دائرے میں رہ کر نہ صرف اپنے فرائض پورے کرے بلکہ مستقبل کی ضروریات اور امکانات کو بھی مد نظر رکھے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک ترقی نہ کرے، آگے نہ بڑھے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ ’’مجھے کیا‘‘ کے طرز عمل کو ترک کر کے ’’یہی تو میرا وطن ہے‘‘ والی روش اختیار کی جائے۔ اس کے لیے سیاسی رشوت ستانی کے عمل کا سد باب بے حد ضروری ہے۔ میں نے پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ بیوروکریسی کے لیے بھی ایمنسٹی سکیم لائی جانی چاہیے تاکہ وہ اب تک جو کچھ لوٹ چکے ہیں، اس کا آدھا تو واپس کریں۔ ایسا ہو جائے تو یقین سے کہتا ہوں کہ ملک کا قرضہ آج ہی اتر جائے۔
مجھے کیا …
08:54 AM, 10 Apr, 2025