اپنی اجناس کی فروخت کیلئے نئی مارکیٹ تلاش کریں

08:54 AM, 10 Apr, 2025

صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں درآمد کے حوالے سے ٹیرف کے حوالے سے اعلان کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ اور کاروباری حلقوں میں ہل چل مچ گئی ، بقول صدر ٹرمپ کے درآمدات میں ٹیرف کی تبدیلی انہوں نے امریکی معیشت کی مضبوطی کیلئے کی ہے جبکہ بقول انکے دنیا امریکی مارکیٹ میں کم ٹیرف اور عالیشان مارکیٹ کی وجہ سے فائدہ اٹھا رہی ہے ، پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو امریکہ کی طرف سے پاکستانی اشیا پر 29 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے پاکستان کو تقریباً 1 بلین ڈالر کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔جبکہ پاکستا ن کے تجار اور وزارت تجارت کہتی ہے کہ پہلے بھی تجارامریکہ اور پاکستان کی تجارت میں 2بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ تھا اور وہ خسارہ اب بھی جاری رہے گا، وزیر اعظم شہباز شریف نے ہنگامی بنیادوںپر اس نے ٹیرف کی مناسبت سے اجلاس منعقد کرنا شروع کر دیئے نیز امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان شیخ بھی اس نئے ٹیرف کی مناسبت سے امریکی تجارت برادری اور متعلقہ محکموں سے پاکستانی درآمدات کے حوالے اور تجارتی خسارے کی کمی کیلئے کوشاں ہیں واضح رہے کہ پاکستان بڑی مقدار میں امریکہ میں برآمدات کرتا ہے گزشتہ مالی سال میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی حجم 7.3 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ امریکہ نے پاکستان کو 2.1 بلین ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 4.4 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔
دوسری جانب، 2024 میں پاکستان کی امریکا کو برآمدات مجموعی طور پر 5.1 بلین ڈالر تھیں، جو کہ 2023 کے مقابلے میں 4.9 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن قابل ذکر ہے، پاکستان کے ساتھ امریکا کا تجارتی خسارہ 5.2 فیصد بڑھ کر 3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ امریکہ کو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدات بنا ہوا ہے، جو کل برآمدات کا 55 فیصد ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی مضبوط ترقی ہوئی، 2024 میں امریکہ کو برآمدات 1 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
حالیہ 29 فیصد ٹیرف پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو نمایاں طور پر متاثر کرے گا، جس سے ممکنہ طور پر وہ مزید مہنگی ہوں گی اور طلب میں کمی آئے گی۔مزید برآں، ٹیرف سے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ متوقع ہے اور اس سے چاول اور ٹیکسٹائل جیسی مصنوعات کے لیے متبادل منڈیوں کی تلاش میں چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ نئے ٹیرف کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 10 سے 15 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔اس خسارے کی کمی کیلئے پاکستانی تجاروں اور وزارت تجارت کو نئی منافع بخش مارکیٹ اپنی برآمدات کیلئے تلاش کرنا پڑے گا خلیجی ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی کھپت ہے اور بڑی مارکیٹ ہے مگر ہماری نا اہلی کی بنا ہم اس سے خاطر خواہ فائدہ مند نہیں ہو رہے ، حکومت کو اپنے دیگر معاملات دہشت گردی سے فرصت ملے تو وہ بیرون ملک سفارتی دفاتر پر توجہ دے ہر ملک میں سفارت کار خوش ہوتے ہیں جب ملک میں کوئی ہنگامی صورتحال ہوتی ہے کہ اب کوئی پوچھنے والا تو ہے نہیں وزراء اور حکومت کو اپنی پڑی ہے پاکستانی مصنوعات کی نمائش پر لاکھوں ڈالرز خرچ تو ہم کرتے ہیں خلیجی ممالک میں مگر اسکا کوئی واضح ثمر نہیں ملتا اور نہ ہی نظر آتاہے بیرون ملک سفارت خانے اور قونصل خانے اپنے نوکر شاہانہ انداز میں تجارت کے فروغ کی کوشش کرتے ہیں مگر تجارت کے فروغ کیلئے B TO B رابطے سرگرمی دکھاسکتے ہیں ، جہاںپاکستانی مصنوعا ت کی نمائش ہوتی ہے وہاں بی ٹو بی رابطوں کا ذکر ہوتا ہے مگر خلیجی ممالک میں درآمدات کا اضافہ نہیں نظر نہیں آتا ۔ پاکستان امریکہ کی جانب سے ٹیرٖف کے حوالے سے اور ان ممکنہ چیلنجوں کے جواب میں، وزارت تجارت نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ٹیرف کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے اور ایک حل کی طرف کام کیا جا سکے۔حالیہ ٹیرف کی وجہ سے جہاںمہنگائی پاکستان میں ہوگی امریکہ میں بھی ہوگی دنیا کا کوئی تاجر اضافی خرچہ صارف سے وصول کرتا ہے امریکہ سے پاکستان درآمدات میںخاص طور پر ہماری تعمیراتی صنعت کیلئے خام مال جس میں کپاس، سلفیٹ کیمیکل ، سکریپ آئرین، مشنری، اسٹیل ، خون ، ویکسن، دوائیاں ، جہاز کے پرزے زراعت کا سامان شامل ہے جس پر پاکستان 5 سے 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی او ر 17فیصد سیلز ٹیکس عائد کرتا ہے نیز دنیا کا یہ دستور ہے کہ ممالک ایک دوسرے پر ایک جیسی قسم فیسیں عائد کرتے ہیں، امریکہ کی جانب سے پاکستان کیلئے حالیہ ٹیرف زیادہ لگنے کی وجہ یہ ہے کہ پہلے یہ ٹیرف 3 اعشاریہ کچھ تھا جو اب 29 فیصد کی حد کو چھورہا ہے جس سے دونوں جانب مہنگائی ہوجائے گی ، مہنگائی کا مطلب ہے کہ معیشت کمزور کہلائیگی دونوں ممالک کے درمیان دونوں جانب سے درآمد ت اور برآمدات کا حجم ٹھیک ٹھاک ہے اسلئے اس پر دنوں جانب کی معیشت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، امریکہ کی معیشت سنبھل جائے گی 
مگر پاکستان نے کوئی دانشمندانہ پالیسی کا سہارا نہیں لیا تو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اسوقت جبکہ بقول میاں صاحب کی حکومت اور انکے وزراء کے کہ معیشت ترقی کرچکی ہے اورآج جو ’’اڑان پاکستان ‘‘ہے پہلے کبھی نہ تھی ٹیرف میں یہ خاطر خواہ اضافہ پاکستان کے برآمدی شعبے کے لیے سنگین چیلنجز کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت میں، جو کہ امریکہ کو پاکستان کی کل برآمدات کا تقریباً 85 فیصد حصہ بناتی ہے، بڑھے ہوئے ٹیرف سے پاکستانی مصنوعات کو امریکی مارکیٹ میں کم مقابلہ کرنے کی توقع ہے، جو ممکنہ طور پر برآمدات کے حجم میں کمی کا باعث بنے گی۔ اب یہ ضروری ہے کہ ہمارے معیشت کے رکھوالے امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافہ کا واویلا مچانے کے بجائے نئی منڈیوں کی تلاش کریں: ایک مارکیٹ (جیسے USA) پر بہت زیادہ انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر ٹیرف بڑھا دیا جائے۔ پاکستان کو نقصانات کو پورا کرنے کے لیے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ جیسے خطوں میں نئی منڈیوں کی تلاش کرنی چاہئیں۔ ٹیرف میں تبدیلیاں امریکہ کو پاکستان کی برآمدات کے لیے قلیل مدتی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں، لیکن دوسری طرف یہ نئے مواقع بھی کھول سکتی ہیں جن کے لئے کوشش کرنا ہو گی۔

مزیدخبریں