پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب، اپوزیشن کا بائیکاٹ

09:41 AM, 9 Sep, 2025

لاہور: پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔ ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا جو شام 4 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔

پولنگ اسمبلی کی نئی عمارت میں ہو رہی ہے، اور انتخاب میں حکومت اور اپوزیشن کے امیدوار سامنے ہیں۔ لیکن اپوزیشن نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کر دیا ہے، جس کے باعث مقابلہ تقریباً یکطرفہ ہو گیا ہے۔

 
حکومتی اتحاد (مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، دیگر جماعتیں) نے رانا ثناء اللہ کو امیدوار نامزد کیا ہے۔
اپوزیشن کی طرف سے پی ٹی آئی کے سابق سینیٹر اعجاز چودھری کی اہلیہ سلمیٰ اعجاز امیدوار ہیں۔
تاہم، اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ ووٹ نہیں ڈالے گا۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی رکن نے ووٹ ڈالا تو وہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرے گا۔

 
پنجاب اسمبلی میں:کل نشستیں: 371
موجودہ اراکین: 363 (8 نشستیں خالی)
پارٹی پوزیشن:

مسلم لیگ ن: 229
پیپلز پارٹی: 16
آئی پی پی: 7
مسلم لیگ ق: 11
سنی اتحاد کونسل (سابق پی ٹی آئی): 73
پی ٹی آئی: 24
چھوٹی جماعتیں: 3
ذرائع کے مطابق رانا ثناء اللہ کو 263 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے، جب کہ کامیابی کے لیے صرف 181 ووٹ کافی ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، سلمیٰ اعجاز کے پاس صرف 100 ووٹوں کی حمایت تھی، وہ بھی بائیکاٹ کے بعد غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

 یہ نشست اس وقت خالی ہوئی جب اعجاز چودھری کو 9 مئی کیسز میں سزا ہونے پر سینیٹ سے نااہل قرار دیا گیا۔ ان کی جگہ اب نیا سینیٹر منتخب کیا جا رہا ہے، اور موجودہ صورتحال دیکھ کر کہنا مشکل نہیں کہ یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے حصے میں ہی جائے گی۔

مزیدخبریں