سیلا ب گزرتے جاتے ہیں لیکن نفرت کا سیلاب ہمیشہ سیلابی مٹی کی طرح جہاں سے گزرتا ہے وہیں رہ جاتا ہے۔ نفرت بُرے اعمال کے نتیجہ میں پہلے پیدا ہوتی ہے اور اگر اعمال درست نہ کیے جائیں تو نفرت مستقل جگہ بنانے کی گنجائش پیدا کر لیتی ہے۔ خلیل جبران کا کہنا ہے کہ برسات میں مینڈکوں کی آواز بیلوں سے اونچی ہو جاتی ہے لیکن نہ تو وہ کھیتوں میں جُتنے کے کام آتے ہیں اور نہ ہی اُن کی کھال سے جوتے بنائے جا سکتے ہیں۔ نیازی کی بہن علیمہ خان کو انڈہ پڑنے کی کہیں سے مذمت اور کہیں ڈھول کی تھاپ پر رقص کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ اگر نیازی کی غیر اعلانیہ سپاہ (یوتھیا برگیڈ) نے جیل میں مرغیاں کھانے کی مذمت کی ہوتی تو بہن کے انڈہ کھانے تک نوبت نہیں آنا تھی۔ عجیب بات ہے کہ تحریک انصاف کا بانی خود ریاست مخالف بیانیہ بنا کر سکون میں بیٹھا ہے اور باہر ایک غیر تربیت یافتہ ہجوم کو ریاست پر کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ مجھے علیمہ خان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر کوئی حیرت نہیں کیونکہ یہ دن تو آنا ہی تھے اور ابھی اس سے بھی بُرے دن آنے والے ہیں کہ ٹوٹتی بنتی تحریک انصاف سے ہر طرح کا ردعمل متوقع ہے۔ جو لوگ اِس واقعہ کی مذمت کر رہے ہیں وہ صرف نیازی کی اُس سوشل میڈیا ٹیم سے خوفزدہ ہیں جنہیں کبھی تیس ہزار روپے ماہوار اور ایک لیب ٹاپ دے کر روزگار فراہم کیا گیا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو یہ وہی خاتون ہیں جنہوں نے پاک بھارت جنگ کو نورا کشتی قرار دیا تھا۔ جو افواج پاکستان کے خلاف کسی قسم کا بھی زہر اگلنے سے نہیں چونکتی تھیں۔ آپ اقتدار سے نکلنے کے بعد ’’خطرے ناک‘‘ نیازی کے بیانیوں کا دیانتدارانہ تجزیہ کریں تو اُس میں اقتدار کی ہوس اور فوج دشمنی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نیازی نے ہمیشہ کہا کہ وہ مغرب کو زیادہ جانتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف مغرب کے شاہی خاندانوں کو جانتا ہے جب کہ
ووٹ دینے والوں کی نفسیات سے واقف نہیں۔ مغرب میں اگر اس نے فوج سے مذاکرات کی بات ہی ہوتی تو اُس کی رہی سہی عمر بھی جیل میں کٹ جاتی۔ مغرب میں 9 مئی کیا ہوتا تو اب تک قصہ ہی تمام ہو جانا تھا۔ مغرب میں اپنے آرمی چیف کے خلاف کمپین چلائی ہوتی تو اب تک خود کہیں رنگروٹ بن کر خدمات سرانجام دے رہا ہوتا۔ جلسے جلوسوں میں جرنیلوں پر الزام تراشیاں کی ہوتیں تو اُس کی سیاست، تحریک سمیت کب کی ختم ہو چکی ہوتی۔ سائفر کا جھوٹا بیانیہ اگر یورپ کے کسی ملک میں بنایا ہوتا تو اس نے خود ہی وہاں سے فرار ہو جانا تھا۔ حالت جنگ میں اپنی فوج اور ریاست کی مخالفت کی ہوتی، بھارت کے بیانیے کو اپنا بیانیہ بنایا ہوتا تو آج ہندوستان میں ہی بیٹھا ہوتا۔ وہ تو جنگی نتائج پر امریکی صدر ٹرمپ کا بیان منظر پر آیا تو کی بورڈ وارئیرز کی رو ح کو سکون ملا کہ اُن کی ریاستِ مدینہ کی پشت پر کھڑے انوسٹرز کے مائی باپ نے افواج پاکستان کے موقف کی تصدیق کر دی۔ یورپ میں اپنے فیلڈ مارشل کے خلاف جنگ کے دنوں میں بدزبانی کی ہوتی انجام ابراہم لنکن یا کینیڈی سے مختلف نہیں ہونا تھا۔ بلوچستان میں مہ رنگ بلوچ کے پاکستان مخالف بیانیے کو اپنایا ہوتا تو نیازی کا بھی وہی حال ہونا تھا جو اس سے پہلے بی ایل اے کے دوسرے دہشتگردوں کا وقتاً فوقتاً ہوتا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کے مخالف فتنہ کی حمد و ثنا کی ہوتی تو اب تک اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا۔ سیلاب میں پنجاب کے اضلاع ڈوبے تو ’’تحریکی دہشت گرد‘‘ اپنے موبائل اور ٹرائی پوڈ لے کر پارک ویو پہنچے ہوئے تھے۔ یہ ریاستی اداروں کی ڈھیل ہے جسے ’’تحریکی بھگوڑے‘‘ ’’ ڈیل‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ جن دوستوں کا خیال ہے کہ کپتان ڈٹا ہوا ہے انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اُسے کوئی مفرور ہونے کا رستہ نہیں دے رہا ورنہ ’’نیازی‘‘ کب کا ہوا ہو چکا ہوتا۔ کل وسیم اکرم کا ایک کلپ انڈین کامیڈی شو میں دیکھ رہا تھا جس کے مطابق عمران نیازی نے اُسے پہلے ویسٹ انڈیز کے کپتان رچرڈ کو گالیاں بکنے کا کہا اور جب میچ کے بعد رچرڈ بلا اٹھائے پویلین میں اُس کے ساتھ لڑنے کیلئے آیا تو وسیم اکرم بھاگ کر عمران نیازی کے پاس گیا اور کہا کپتان وہ رچرڈ بلا لے کر باہر کھڑا ہے تو عمران نیازی نے جواب دیا: ’’تمہاری لڑائی ہے تم ہی لڑو!‘‘ یہی سب کچھ 9 مئی والوں کے ساتھ نیازی نے کیا ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری شعیب صدیقی نے پریس کانفرنس کر کے بہت سے سوالوں کا جواب دے دیا ہے۔ کل ایک ماہ بعد بستر سے اٹھنے کے قابل ہوا تو پارک ویو دیکھنے کیلئے نکل گیا۔ حیرت انگیز بات پانی کا اترنا نہیں بلکہ بڑی تعداد میں لوگوںکو تعمیرات کرتے دیکھنا تھا۔ پانی تو پارک ویو میں یقینا آیا تھا لیکن پی ٹی آئی نے جو اُسے طوفان ِ نوح بنا دیا تھا وہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اتوار کے باوجود ہر طرف چہل پہل تھی اور پارک ویو کا عملہ اُن لوگوں کی مدد میں جُتا ہوا تھا جن کا پانی کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نقصان کی بڑی وجہ عبد العلیم خان کا روڈا پر اعتماد کرنا تھا کہ سوا ارب روپیہ ادا کرنے کے بعد بھی اُس نے بند تعمیر نہیں کیا۔ شعیب صدیقی کے مطابق یہ پہلا اور آخری سیلاب تھا جس نے پارک ویو کو چھوا اب دوبارہ ایسا کبھی نہیں ہو گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے کام میں کمال ماہر ہیں۔ باقی روڈا کا سارا کھیل تماشا عمران نیازی نے کیا اور خود راوی کنارے آ کر کھڑا ہو کر نئے بننے والے شہر کی فضیلت بیان کرتا رہا۔ شعیب صدیقی نے راوی کنارے بننے والے شہر میں عمران نیازی کے پنج پیاروں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے اس شہر سے مستفید ہو کر کوڑیوں میں زمین خریدی۔ آج حالات آپ کے سامنے ہیں نفرت کی سونامی لانے والوں میں سے کوئی جیل میں ہے اور کوئی ریل میں۔ بس ثابت ہوا کہ اگر آپ ریاست کے خلاف نفرت نہیں پھیلاتے تو پی ٹی آئی آپ کی بدترین دشمن ہے۔
نفرت کا سیلاب اور پی ٹی آئی
09:15 AM, 9 Sep, 2025