جنگ ستمبر۔ مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا…!

09:14 AM, 9 Sep, 2025

اللہ کریم کا میں خاص احسان سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی قومی تاریخ کے حوالے سے اہم واقعات کا تذکرہ کرتا رہتا ہوں۔ 5 فروری یومِ یک جہتی کشمیر ہو، 23 مارچ یومِ پاکستان ہو، 14 اگست یومِ آزادی ہو، 6 ستمبر یومِ دفاع ہو یا پھر 9 نومبر مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کا یومِ ولادت ہو، میں کوشش کرتا ہوں کہ قومی تاریخ کے ان خصوصی ایام کے مواقع پر کچھ نہ کچھ اظہارِ خیال ضرور کروں۔ اس بار 6 ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان اور عیدِ میلاد النبیﷺ ایک ہی دن آئے۔ میں نے مناسب جانا کہ معروف شاعر، مصنف، محقق اور کالم نگار جناب جبار مرزا کی حال ہی میں چھپ کر آنے والی انتہائی قابل قدر تصنیف ’’نبی آخر الزماں محمدﷺ‘‘ کو سامنے رکھ کر سیرت طیبہ اور حیات مقدسہ کے کچھ گوشوں پر روشنی ڈالی جائے۔ اب یوم دفاع پاکستان کی مناسبت سے ستمبر 1965ء کی سترہ روزہ جنگ کے حالات و واقعات جو میرے ذہن کے نہاں خانے میں ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ چیدہ چیدہ واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
9 ستمبر کو جب یہ سطور چھپی ہیں تو ساٹھ سال قبل 9 ستمبر 1965ء کی وہ تاریخ تھی جب بھارتی افواج نے لاہور کے محاذ پر بی آر بی نہر کے اس کنارے پر سر پٹخنے کے بعد سیالکوٹ کا رُخ کیا اور اپنے فخر ہند آرمرڈ ڈویژن کے تین سو شرمن ٹینکوں کے ساتھ اس امید پر اس محاذ پر حملہ آور ہوا کہ وہ جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ تک پہنچ کر لاہور پر عقب سے حملہ آور ہو سکے گا۔ سیالکوٹ کے محاذ پر چونڈہ کے میدان میں اس کے ٹینکوں کا کیا حشر ہوا اس کا ذکر آگے آئے گا۔ ابتدا بھارت کے 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی رات لاہور کے محاذ پر بھارت کے بزدلانہ حملے سے کرتے ہیں۔ بھارت نے واہگہ سرحد پار کر کے پاکستان پر حملہ کیا تو بھارتی جرنیلوں کا خیال تھا کہ وہ 6 ستمبر کی شام تک لاہور پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی بنا پر بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چوہدری نے 6 ستمبر کی شام کو جمخانہ کلب لاہور میں فتح کا جشن منانے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن اس یہ اعلان دیوانے کا خواب ثابت ہوا بھارت کے مقابلے میں ہمارے جانباز دلیری، بہادری، جانثاری اور سرفروشی میں اپنی مثال آپ ثابت ہوئے یہاں تک کہ اُس کی سپاہ 23 ستمبر کو جنگ بندی کے اعلان تک بی آ ربی نہر کے کنارے پر سر پیر پٹختی رہی اور ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ لاہور میں برکی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید کی داستان ِشجاعت کو کون بھلا سکے گا اپنی کمپنی کی مختصر نفری کے ساتھ وہ دشمن کی اپنے سے کئی گنا بڑی تعداد کے مقابلے میں کئی دن تک سینہ سپر رہے اور دشمن کی پوزیشنوں پر اپنی توپوں کی ایسی صحیح نشانوں پر گولہ باری کراتے رہے کہ دشمن بوکھلا اٹھا بالآخر وہ دشمن کی توپ کا نشانہ بنتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے اور نشان حیدر کا اعلیٰ اعزاز حاصل کیا۔ سیالکوٹ کے محاذ پر دُشمن اپنے فرسٹ آرمڈ ڈویژن ’’فخرِ ہند‘‘ کی ٹینک رجمنٹوں کی پوری قوت کے ساتھ اس اُمید پر حملہ آور ہوا تھا کہ وہ گوجرانوالہ تک ہر چیز کو روندتا ہوا لاہور کے عقب میں جی ٹی روڈ پر جا پہنچے گا لیکن ہمارے ایک انفنٹری بریگیڈ نے تین دن تک فخرِ ہند کی ٹینک رجمنٹوں کو چونڈہ ریلوے سٹیشن کے اس طرف آگے نہ بڑھنے دیا اور یہ مشہور ہوا تھا کہ ہمارے جانباز سینوں پر بم باندھ کر دُشمن کے ٹینکوں کے سامنے لیٹتے رہے اس دوران ہماری ٹینک رجمنٹیں دُشمن کے مقابلے میں پہنچ گئیں اور چونڈہ کا میدان دُشمن کے ’’فخر ہند‘‘ ڈویژن کے شرمن ٹینکوں کا قبرستان بن گیا اور اُس کا آگے بڑھنے کا منصوبہ ایک ڈرائونے خواب کا روپ دھار گیا۔ چونڈہ کے میدان میں تباہی کا شکار بھارت کے ناکارہ شرمن ٹینک آج بھی ہمارے ہاں کی بڑی چھاؤنیوں میں بنے چبوتروں پر دھرے دیکھے جا سکتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی سپاہ اور ٹینکوں کا کیا حشر ہوا ہو گا۔ قصور سیکٹر میں ہمارے بکتر بند دستے بھارتی سرحد کے اندر کھیم کرن کے قصبے تک جا پہنچے تو دُشمن نے مادھوپور نہر کا پشتہ توڑ دیا جس کی وجہ سے ہمارے ٹینکوں کی پیش قدمی رُک گئی ورنہ فیروز پور تک کا بھارتی علاقہ فتح کرنے سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ راجستھان کے محاذ پر بھی ہماری پیش قدمی جاری رہی اور کھوکھرا پار کے مونا بائو ریلوے سٹیشن تک کئی ہزار مربع میل کا بھارتی علاقہ ہمارے قبضے میں آ گیا۔
ستمبر 1965 کی جنگ میں ہماری فضائیہ اور بحریہ کی کارکردگی بھی ہر لحاظ سے قابلِ فخر رہی بھارتی فضائیہ کے نٹ، مسٹیئر، ہنٹر لڑاکا اور کینبرا بمبار طیارے شروع کے ایک دو دن پاکستان کی فضائوں میں بڑھ چڑھ کر حملہ آور ہوئے لیکن 7 ستمبر کی صبح سرگودھا کے ہوائی اڈے پر حملہ آور بھارتی طیاروں کو سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے اپنے سیبر طیارے کی مشین گنوں کا نشانہ بنایا اور چند سیکنڈ کے وقفے میں پانچ بھارتی حملہ آور طیاروں کو مار گرایا تو پھر بھارتی طیاروں کو دن کی روشنی میں پاکستانی اڈوں کا رُخ کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ بھارتی فضائیہ کے اہم مراکز پٹھان کوٹ، انبالہ، جام نگر، آدم پوراور ہلواڑہ ہمارے F-86 سیبر، F-104 سٹار فائٹر اور B-57 بمبار طیاروں کا خاص طور پر نشانہ تھے اور ریڈیو پاکستان کے سینئر نیوز ریڈر شکیل احمد جن کا خبریں پڑھنے کا ایک خاص انداز تھا اپنے مخصوص لہجے اور بلند آواز میں خبروں میں جب بتاتے کہ ہمارے شاہینوں نے دُشمن کے ہوائی اڈوں، ہلواڑہ، آدم پور اور جام نگر پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے ہیں تو ریڈیو کے گرد بیٹھے خبریں سننے والوں کی زبانوں پر بے ساختہ اللہ اکبر کے نعرے بلند ہو جایا کرتے تھے۔ جنگ ستمبر کے دوران دشمن کے سو سے زیادہ طیارے تباہ ہوئے جبکہ ہمارا نقصان اس کے مقابلے میں پانچویں حصے سے بھی کم تھا۔
بھارتی بحریہ اگرچہ ہماری بحریہ کے مقابلے میں کئی گنا بڑی تھی لیکن پوری جنگِ ستمبر کے دوران اُس کے تباہ کن لڑاکا بحری جہاز ہماری واحد آبدوز ’’غازی‘‘ کے ڈر سے اپنی گودیوں میں دبکے رہے اور گجرات کاٹھیاواڑ کے ساحل پر قدیم سومنات کے مندر کے قریب واقع بھارتی بحری اڈہ ’’دوارکا‘‘ ہماری بحریہ کا نشانہ بنا اور اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ جنگ ستمبر کے یہ چیدہ چیدہ حالات و واقعات ایسے ہیں جن پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں تاہم اس کے ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند دُشمن کے مقابلے میں اُٹھ کھڑی ہوئی اور اُس نے ایسی یک جہتی، اتحاد و اتفاق، عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا کہ دُشمن کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ یہ درست ہے کہ بھارت کی طرف سے اگرچہ اپنی کامیابیوں کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں اور شاید اُسے کچھ کامیابی حاصل بھی ہوئی ہو لیکن اس کی سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ اُس نے پاکستان کو شکست دینے یا تاراج کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ بُری طرح ناکام ہوا۔ ہم بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہمیں بھارت کے مقابلے میں اگر کوئی بڑی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی تو ہمیں کسی ناکامی کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج نے انتہائی کم وسائل اور کم تعداد میں ہو نے کے باوجود دُشمن کو پسپائی پر مجبور کیا تھا۔۔۔ افواجِ پاکستان زندہ باد!

مزیدخبریں