امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات سے وابستہ درجنوں کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں لگا دیں

11:35 PM, 9 Oct, 2025

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے توانائی کے شعبے سے وابستہ متعدد کمپنیوں، افراد اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کا ہدف وہ ادارے اور شخصیات ہیں جو ایران کی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا کہ فہرست میں ایک چینی بندرگاہ اور چین میں موجود ایک ٹی پاٹ آئل ریفائنری بھی شامل ہے جو ایرانی مصنوعات کی ترسیل میں سہولت فراہم کر رہی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے علیحدہ بیان میں کہا کہ تقریباً 40 مزید افراد اور اداروں پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ان میں وہ کمپنیاں شامل ہیں جو ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کے بڑے خریدار سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ان اداروں کی اعلیٰ قیادت بھی اس فیصلے کی زد میں آئی ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اقوام متحدہ نے دو ہفتے قبل ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے باعث اس پر دوبارہ ’اسنیپ بیک‘ پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کی توانائی برآمدات کے نظام کو غیر مؤثر بنانے اور اس کے مالیاتی ذرائع کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں چین کی شینڈونگ جن چنگ پیٹروکیمیکل کمپنی بھی شامل ہے، جس نے 2023 سے اب تک ایران سے لاکھوں بیرل خام تیل خریدا۔

اسی طرح امریکی محکمہ خزانہ نے لِنشان پورٹ پر واقع ایک رزہاؤ شیوہوا کروڈ آئل ٹرمینل کو بھی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکا کے مطابق یہ ٹرمینل درجنوں "شیڈو فلیٹ" جہازوں کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دیتا رہا جو ایرانی تیل لے کر چین پہنچے۔

بیان کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوری میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد چین میں قائم ریفائنریوں کے خلاف پابندیوں کے چوتھے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" (Maximum Pressure) پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت ایران سے وابستہ سیکڑوں ادارے اور افراد پہلے ہی پابندیوں کی زد میں آ چکے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے مطابق، نئی پابندیوں کے تحت امریکا یا امریکی شہریوں کے زیرِ کنٹرول ان تمام اثاثوں اور مفادات کو منجمد کر دیا گیا ہے جو ان کمپنیوں یا افراد سے منسلک ہیں، جبکہ ان اثاثوں کی تفصیلات متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنا لازم ہو گا۔

مزید کہا گیا کہ اگر کسی کمپنی میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کوئی پابندی زدہ فرد شراکت دار ہے تو وہ ادارہ بھی خود بخود پابندی کے دائرے میں آ جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے واضح کیا کہ جب تک ایران اپنی تیل کی آمدنی کو تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا رہے گا، امریکا اس کے مالی نیٹ ورک کو محدود کرنے اور اس کے شراکت داروں کو جوابدہ بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

مزیدخبریں