الفاظ کی جنگ یا آئینی بحران؟ استعفیٰ کے دعوے پر بیانیوں کا تصادم

07:52 PM, 9 Oct, 2025

پشاور:خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے نے صوبے کی سیاسی فضا کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دعویٰ ہے کہ گنڈاپور کا استعفیٰ باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس میں جمع کرا دیا گیا ہے، تو دوسری طرف گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایسی کسی بھی اطلاع کو "من گھڑت" قرار دے کر تردید کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کے وقاص اکرم شیخ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گزشتہ شب 10:45 پر گورنر ہاؤس میں جمع کرایا گیا، جہاں گورنر کے اسٹاف نے اسے وصول بھی کیا اور اس کی تحریری رسید بھی جاری کی۔ان کے مطابق، یہ استعفیٰ گورنر کے ملٹری سیکریٹری (ایم ایس) سے باقاعدہ کوآرڈی نیشن کے بعد پہنچایا گیا۔ انہوں نے گورنر کی تردید پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے "سیاسی تضاد" قرار دیا۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہامیرے دفتر کو تاحال علی امین گنڈاپور کا کوئی باضابطہ استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔ جب بھی کوئی دستاویز آفیشلی موصول ہو گی، تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے پی ٹی آئی کے دعوے کو "فیک نیوز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کو گمراہ نہ کریں۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خود بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک تحریری استعفیٰ پوسٹ کیا، جس کے ساتھ ایک جذباتی پیغام بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہامیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ہر محاذ پر کامیاب رہا، لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ہر قدم دیانتداری سے اٹھایا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب عوامی سیاست میں فعال کردار ادا کریں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اپنی کابینہ، پارٹی ساتھیوں، بیوروکریسی اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور نعرہ لگایا"پاکستان زندہ باد، پی ٹی آئی پائندہ باد!"

علی امین گنڈاپور کا اچانک استعفیٰ اور اس کے گرد ابھرتا ہوا تضاد سیاسی پنڈتوں کو حیران کر رہا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ پارٹی کی تنظیمِ نو یا اندرونی سیاسی چپقلش کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان تناؤ کی علامت ہے۔

آئینی طور پر، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ اس وقت نافذ العمل سمجھا جاتا ہے جب گورنر اس کی تصدیق کر کے اسے قبول کرے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر گورنر نے استعفیٰ قبول نہیں کیا، تو کیا گنڈاپور اب بھی وزیراعلیٰ ہیں؟ یا نگران حکومت کا راستہ ہموار ہو رہا ہے؟

مزیدخبریں