اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے شدید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں قید عمران خان دہشت گردوں کے "چیف اسپانسر" ہیں، جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان کو غیر فعال کر کے دہشت گرد عناصر کو ملک میں دوبارہ بسایا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا پورا ڈھانچہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور دہشت گردوں کو نہ صرف سہولت فراہم کی بلکہ ان کی سیاسی سرپرستی بھی کی گئی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ علی امین گنڈاپور کو اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ دہشت گردوں کی "ٹھیک طریقے سے سہولت کاری" نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا گیا جو بقول عطا تارڑ، مراد سعید کا قریبی ساتھی اور دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا شخص ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ عمران خان نے خود یہ کہا تھا کہ ایسے لوگ لاؤ جو دہشت گردوں کو مکمل حمایت دے سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ معصوم شہریوں، اسکولوں اور مساجد پر حملے کرنے والوں کو "اچھے لوگ" قرار دینا کس بیانیے کا حصہ تھا؟
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی اسلام آباد میں بنے گی، افغانستان میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لندن کی عدالت کا حالیہ فیصلہ پی ٹی آئی کے منہ پر طمانچہ ہے اور ثابت ہو گیا کہ ریاست مخالف بیانیہ ناکام ہو چکا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر عطا تارڑ نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں پر فخر کرتی ہے، اور ان کے اہل خانہ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔