سونا عوام کی پہنچ سے باہر، شادی بیاہ کی روایات متاثر، کاریگر روزگار سے محروم

05:52 PM, 9 Oct, 2025

کراچی:دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سونے میں سرمایہ کاری تیزی سے ایک محفوظ اور منافع بخش موقع کے طور پر مقبول ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اسے نہ صرف اپنی دولت کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں بلکہ ایک پائیدار کاروباری متبادل کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی کے نتیجے میں پہلی بار سونے کی قیمت 4 ہزار ڈالر فی اونس کی حد عبور کر گئی ہے۔ امریکا میں شرحِ سود میں ممکنہ کمی، حکومتی شٹ ڈاؤن اور تجارتی کشیدگی نے عالمی مارکیٹ میں سونا خریدنے کے رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سیاسی و اقتصادی غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاروں کو سونے جیسے محفوظ اثاثے کی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ نتیجتاً سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے دیگر قیمتی دھاتوں، خصوصاً پلاٹینم، کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اضافے کا براہِ راست اثر پاکستان کی مقامی منڈیوں میں بھی نمایاں ہے، جہاں سونا روز بروز مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

آل پاکستان جیم اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، جب امریکی ڈالر کی قدر کم ہوتی ہے تو دنیا بھر میں سونے کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ٹرمپ دور میں شروع ہونے والی تجارتی جنگ نے ڈالر کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری سونے کی صورت میں محفوظ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں سونے کی بڑھتی قیمتوں نے جیولری انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اب سونا شادی بیاہ کے لیے نہیں خریدا جا رہا، زیورات کی تیاری میں نمایاں کمی آئی ہے، اور تقریباً نصف جیولری کارخانے بند ہو چکے ہیں۔

اس صورتحال میں متوسط طبقہ سونے کے بجائے چاندی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ دوسری جانب، جیولرز برادری بڑھتی قیمتوں اور کمزور خریداروں کی وجہ سے شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے، کیونکہ ان کا کاروبار تقریباً ماند پڑ چکا ہے۔

مزیدخبریں