غزہ : فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ کے حالیہ امن معاہدے کی تمام شرائط پر پورا عمل کرے۔
معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط ہونے کے بعد حماس نے اپنا پہلا رسمی بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ غزہ میں جنگ بند کرنے، اسرائیلی فوج کے علاقے سے نکلنے، انسانی امداد پہنچانے اور قیدیوں کے تبادلے پر مشتمل ہے۔
حماس نے امریکی صدر، عرب ثالث اور بین الاقوامی فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے پر مکمل عمل کرنے پر مجبور کریں اور اسے تاخیر یا وعدہ خلافی سے روکا جائے۔
تنظیم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہد سے نہیں ہٹے گی اور اپنے عوام کے حق آزادی اور خودمختاری کے لیے کھڑی رہے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس نے امریکا کے پیش کردہ غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت یرغمالیوں کو جلد رہا کیا جائے گا اور اسرائیلی فوج متفقہ حدود سے واپس چلی جائے گی۔