بھارت کی جمہوریت نفرت اور عدم برداشت کی علامت بن چکی ہے ، اقوام متحدہ میں پاکستان کا مو قف

09:54 AM, 9 Oct, 2025

نیویارک: پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت دراصل اسلاموفوبیا، نفرت اور انتہا پسندی کا مظہر بن چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مندوب صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا کے نام پر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہاں مسلمانوں پر حملے، مساجد کی توہین، اور گرجا گھروں کو جلانے جیسے واقعات عام ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی کے مطالبے معمول بن گئے ہیں، جس سے اس کا “سیکولر” چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں آج اختلافِ رائے کو دبایا جا رہا ہے اور معاشرتی تنوع کو ختم کیا جا رہا ہے۔

صائمہ سلیم نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور نہ کبھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں خود اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو وہ بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر تک جانے کی اجازت دے۔

پاکستانی مندوب نے بھارت پر خطے میں عدم استحکام پھیلانے، جھوٹا پراپیگنڈا کرنے اور دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا جنگجویانہ رویہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب خطہ ماحولیاتی تبدیلی، سیلابوں اور خشک سالی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو مؤخر کرنا غیر ذمے دارانہ اور غیر انسانی عمل ہے، جو اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

آخر میں صائمہ سلیم نے کہا کہ “جنوبی ایشیا میں امن تب تک ممکن نہیں جب تک بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ ختم نہیں کرتا۔ پاکستان امن، انصاف اور کشمیری عوام کے حق کے لیے ہمیشہ ڈٹا رہے گا۔”

مزیدخبریں