غزہ : کئی مہینوں کی خونریز لڑائی کے بعد بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان امن کی ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں فریقوں نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ “یہ امن کی طرف پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔” ان کے مطابق معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج ایک طے شدہ حد تک پیچھے ہٹ جائیں گی جبکہ تمام یرغمالیوں کو جلد رہا کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے قطر، مصر اور ترکی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ دن نہ صرف اسرائیل اور فلسطین بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔”
اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ “ہمارا پہلا مقصد اپنے شہریوں کو بحفاظت واپس لانا ہے،” جبکہ حماس نے تصدیق کی کہ معاہدے میں غزہ میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی فوجی انخلا، اور قیدیوں کے تبادلے جیسے نکات شامل ہیں۔
حماس نے عالمی برادری اور عرب ثالثوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی مکمل پاسداری پر مجبور کریں تاکہ کسی قسم کی تاخیر یا وعدہ خلافی نہ ہو۔
قطر نے بھی تصدیق کی کہ یہ معاہدہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مبنی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی امداد غزہ پہنچانے اور قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوگا۔ مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ اگر کامیابی سے آگے بڑھا تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے اور پائیدار امن عمل کی بنیاد بن سکتا ہے۔