پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو دیکھا گیا ہے کہ اس کا عوام اور عوامی مسائل سے کوئی خاص تعلق کبھی نہیں رہا ، عوام کس حال میں جی رہی ہے اسے اس بات سے بھی کوئی سروکار نہیں ہوتا ،حالانکہ یہ عوام ہی ہے جس کے ٹیکسوں سے حکومت کا وجود قائم رہتا ہے۔ مہذب دنیا کی حکومتیں پہلے اپنے عوام کے معاملات کا سوچتی ہیں پھر اپنا، لیکن ہمارے ہاں سب سے پہلے اپنا سوچا جاتا ہے پھر عوام کے مسائل اگر کسی طرح ہائی لائٹ ہو جائیں تو نظر پڑ جاتی ہے۔
پاکستانی عوام یوں تو روز اول سے ہی پستی آ رہی ہے لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے تو اس کی بہت بری حالت ہو چکی ہے برا طرز حکومت اور بڑھتے ہوئے حکومتی اخرجات کو پورا کرنے کے لئے عوام کے پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالنے کی روش خان حکومت سے شروع ہوئی جو جاری و ساری ہے۔ کیاشہباز سپیڈ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ اس وقت عوام کی حالت زار کیا ہے؟ وہ کس طرح اپنا گھر چلا رہے ہیں جبکہ کام کاج نہ ہونے کے برابر ہوں اور مہنگائی آسمان سے آگے مریخ تک پہنچ چکی ہو۔
اوپر سے سیلاب کی تباہ کاریوں نے پورے ملک کی معشیت کو ڈوبو دیا ہے اور جو امداد آرہی ہے اس کے بارے بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ حق داروں تک پہنچ رہی ہے یا نہیں، کیونکہ بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ بتا تا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بہت بری حالت ہے ایک طرف ان کے گھر بار تباہ ہو چکے ہیں تو دوسری جانب ان تک امداد نہیں پہنچ پا رہی ہے۔ اس کے ساتھ وہ لوگ دیگر مسائل کا بھی بری طرح شکار ہیں۔اگر بادی النظر میں دیکھا جائے تو اندرون ملک اور بیرون ملک سے جتنی امداد آئی یا اکٹھی ہوئی ہے اس کی تقسیم ہی درست ہو جائے تو کسی کو شائد ہی شکایت رہے۔
ملک میں پہلے ہی غربت اور اس کے ساتھ جڑے دیگر مسائل جن میں بڑھتی ہوئی بیماریاں ہیں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کے ساتھ جرائم اور خود کشیوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اس پر مستزاد عالمی بنک نے بھی خط غربت کے شکار افراد کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، حال ہی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی بینک کے مطابق حالیہ سیلابوں کی وجہ سے پاکستان میں اٹھاون سے نوے لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ ماہرین اور سیاست دانوں کے خیال میں حکومت چاہے تو مزید لوگوں کوغربت کا شکار ہونے سے بچا سکتی ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ خسارہ مزید بڑھے گا کیونکہ پاکستان میں کئی ملین ایکڑ سے زیادہ زرعی رقبہ سیلابوں کی وجہ سے برباد ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے چاول، گندم، کپاس اور کئی دوسری فصلوں کی درآمدات بڑھیں گی ، جبکہ کئی ملین پاکستانی سیلاب متاثرین کو غذائی بحران کا سامنا ہے۔
مقامی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت ورلڈ بنک کے اندازوں سے بھی زیادہ ہے ، جبکہ کچھ ماہرین نے اس رپورٹ کو حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے جبکہ کچھ نے اس میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ بینک نے غربت کے حوالے سے اعداد و شمار کا تخمینہ کم لگایا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا، کہ غربت ورلڈ بینک کے اندازے سے بہت زیادہ بڑھے گی۔ ممکنہ طور پر 20 ملین کے قریب لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں سیلاب سے نقصانات کے اندازے کے حوالے سے مختلف تخمینے آئے ہیں۔ حکومت نے ابتدائی طور پر اس نقصان کا تخمینہ دس بلین ڈالرز، پھر اٹھارہ بلین ڈالرز، پھر تیس بلین اور ستمبر میں چالیس بلین ڈالر لگایا۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ سندھ میں کچھ جاگیر دار اس طرح کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ نقصانات کے لئے زیادہ سے زیادہ معاوضے کا مطالبہ کیا جائے۔ تاہم ماہرین اس بات کو رد کرتے ہیں کہ کوئی ان اعداد وشمار کو بڑھا چڑھا سکتا ہے۔ ''ورلڈ بینک، اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں نے نقصانات کا اندازہ تباہی سے لگایا ہوگا۔ یعنی یہ کہ فصلیں کتنی تباہ ہوئی ہیں، جانور کتنے ہلاک ہوئے ہیں، کتنی سٹرکیں، گھر، عمارات، پل اور دیگر چیزیں منہدم ہوئیں یا پھران کو نقصان پہنچا۔ پھر ان کی قیمتوں کا اندازہ لگایا گیا ہوگا۔ تو اس طرح انہوں نے نقصان کا تخمینہ لگایا ہوگا۔''
خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی چار کروڑ سے زیادہ افراد غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔ مزید لوگوں کو غربت کے درجے میں گرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ''میرے خیال میں اگر سڑکوں کی تعمیر، پلوں کی مرمت، اور دوسرے کام شروع کیے جائیں اور اس میں مقامی افراد کو روزگار مل جائے گا، تو ممکنہ طور پر لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان دوسرے ممالک کی وجہ سے اس تباہی کا شکار ہوا ہے۔ جس کاا ظہار ہمارے ہاں سننے کو بھی آرہا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان قرضوں کی معافی کی بات کرے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ ہم قرضوں کی ادائیگی کو ایسی نوعیت کی سرمایہ کاری میں لگائیں جس سے کم از کم کاربن کا اخراج ہو۔ اس کے ساتھ ایک بہت ہی اہم بات جس کا ذکر کم ہی سننے میں آتا ہے وہ ہے کفائت شعاری اور اپنے سرکاری اخراجات میں کمی جس پر عملدرامد کئے بنا ہم شائد ہی مشکلات سے باہر آ سکیں۔
حالیہ سیلاب، بڑھتی غربت ، اشرافیہ کی بے حسی؟
09:21 AM, 9 Oct, 2025