میں امریکہ کی سرزمین پر مختلف ریاستوں میں گھوم رہا ہوں، کاروباری اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور سب سے بڑھ کر اوورسیز پاکستانیوں سے تبادلہ خیال۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی کے سنہری برس پردیس میں گزار رہے ہیں لیکن دل اب بھی پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے دلوں میں جو مایوسی پہلے چھائی ہوئی تھی، اب رفتہ رفتہ اس کی جگہ امید نے لے لی ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کے سیاسی جلوسوں میں اپنے قائدین کے نعرے لگاتے، پی ٹی آئی کے جھنڈے لہراتے اور سوشل میڈیا پر جوشیلے بیانیے لکھا کرتے تھے۔ مگر آج ان کے لبوں پر ایک نئی زبان ہے: "سب سے پہلے پاکستان!"۔ وہ جان گئے ہیں کہ فرد سے بڑھ کر ملک ہے، اور پارٹی سے بڑھ کر پاکستان۔ اوورسیز کمیونٹی کا یہ بدلتا ہوا رویہ، ان کے خیالات کی یہ سمت، دراصل ایک نئے بیانیے کو جنم دے رہی ہے جو پاکستان کی بہتری سے جڑا ہوا ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، تین ستمبر 2023 کا دن۔ اتوار کا روز تھا، لاہور میں کاروباری برادری کی ایک اہم میٹنگ رکھی گئی تھی۔ کور کمانڈر ہاوس لاہور میں میٹنگ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر موجود تھے۔ تقریباً پینتیس بڑے بزنس مین، چالیس کے قریب بیوروکریٹس، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری زاہد اختر اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی سب موجود تھے۔ کمرہ بھرا ہوا تھا، مگر فضا بوجھل تھی۔ ڈالر کی پرواز تین سو تیس، پینتیس تک جا پہنچی تھی۔ کاروباری طبقہ بددل تھا، سرمایہ کاری کی فضا مایوسی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ چہروں پر مایوسی اور آنکھوں میں بے یقینی تیر رہی تھی۔ مگر جیسے ہی جنرل عاصم منیر نے گفتگو شروع کی، منظر بدلنے لگا۔ ان کا انداز نہ صرف پْراعتماد تھا بلکہ دلوں کو چھو لینے والا بھی۔ انہوں نے کاروباری طبقے کو وہ احترام دیا جو برسوں بعد کسی آرمی چیف کی طرف سے محسوس ہوا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی یہی کاروباری لوگ ہیں، ان کا اعتماد بحال کرنا ہی پاکستان کی ترقی کا پہلا قدم ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بزنس مینوں کے چہرے روشن ہونے لگے، جیسے کسی نے ان کے دلوں میں نئی توانائی بھر دی ہو۔ اسی دوران جنرل عاصم منیر نے علامہ اقبال کا شعر پڑھا:
تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
یہ محض الفاظ نہ تھے، بلکہ ایک پیغام تھا کہ مشکلات وقتی ہیں، اصل کمال ان کا مقابلہ کر کے آگے بڑھنے میں ہے۔ کاروباری برادری کو یہ لگا کہ کوئی ان کی زبان سمجھ رہا ہے، کوئی ان کے مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور سب سے بڑھ کر، کوئی ان کے دلوں کو سہارا دے رہا ہے۔
ملاقات میں کئی نکات زیرِ بحث آئے۔ سب سے اہم یہ کہ کاروباری طبقے کو ٹیکس کے پیچیدہ جال سے نکال کر سہولت دی جائے، ایکسپورٹ کے مواقع بڑھائے جائیں اور سرمایہ کاری کے لئے پْرامن ماحول فراہم کیا جائے۔ بزنس مینوں نے بجا طور پر کہا کہ جب تک پالیسی میں تسلسل نہ ہوگا، سرمایہ کار اعتماد نہیں کرے گا۔ جنرل عاصم منیر نے نہ صرف ان نکات کو تحمل سے سنا بلکہ یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ ریاست کاروباری برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ ملاقات محض سرکاری کاغذی کارروائی نہ تھی بلکہ ایک دوستانہ مکالمہ تھا۔ جنرل عاصم منیر نے ذاتی طور پر یہ پیغام دیا کہ انہیں بزنس کمیونٹی سے محبت ہے، کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جو روزگار پیدا کرتا ہے، معیشت کو سانس دیتا ہے اور ملک کو عالمی سطح پر مقام دلاتا ہے۔ ان کا انداز فوجی سربراہ سے زیادہ ایک رہنما کا تھا جو قافلے کو حوصلہ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید برسوں بعد کاروباری طبقہ کسی ایسی قیادت سے ملا ہے جو ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہے۔ اسی لئے پینتیس بزنس مینوں کے چہرے جو میٹنگ سے پہلے مرجھائے ہوئے تھے، میٹنگ کے اختتام پر تمتما اٹھے۔ ان کے اندر ایک نئی امید جاگی کہ شاید اب راستہ بدل جائے گا۔
اب جب میں امریکہ میں اوورسیز پاکستانیوں سے بات کرتا ہوں تو وہ اسی ملاقات کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر جیسا آدمی موجود ہے تو پاکستان کو کوئی طاقت کمزور نہیں کر سکتی۔ بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کے لئے یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ ملک کے اندر قیادت مضبوط ہو، معیشت مستحکم ہو اور امن قائم رہے۔ کیونکہ پردیس میں رہنے والے سب سے زیادہ درد اپنے وطن کے لئے رکھتے ہیں۔ وہ دن ہمیں یاد ہے جب مایوسی کے عالم میں فیلڈ مارشل نے ہمیں حوصلہ دیا۔ نگران دور تھا، ایک پارٹی آئی ایم ایف کو خط لکھ رہی تھی، جلسے ،جلوس ہو رہے تھے۔ ایک میٹنگ میں چائے کے دوران میں نے پوچھا کہ آپ جا رہے تھے ، پھر اچانک آرمی چیف بن گئے، اللہ نے آپ سے بڑ اکام لینا ہے۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہے پھر مسکرا کر بات بدل دی۔یہ میرا موقف نہ تھا ،ہماری برادری کی رائے تھی۔لاہور چیمبر کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا حصہ ہوتے ہوئے صدر یا وزیر اعظم کے ساتھ ہماری ملاقات سال میں تین چار بار ہو ہی جاتی تھی ۔ مجھے ذاتی طور پر بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔بس ملک کی سمت درست کرنے کا معاملہ تھا۔
اوورسیز میں اب ایک نئی گفتگو چل رہی ہے۔ وہاں یہ بحث نہیں کہ کون سا لیڈر جیتے گا اور کون سا ہارے گا، بلکہ یہ سوال ہے کہ پاکستان کی معیشت کیسے بہتر ہوگی، کس طرح تعلیم اور صحت کے شعبے سنبھلیں گے، اور کس طرح نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ یہ سوچ خود اس بات کی علامت ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پارٹیوں سے آگے بڑھ کر ملک کو مقدم رکھنا شروع کر دیا ہے۔فیلڈ مارشل کے طور پر اوورسیز میں عاصم منیر کی مقبولیت اسی لئے بڑھ رہی ہے کہ انہوں نے کاروباری برادری کے ساتھ وہی زبان بولی جو وہ سننا چاہتے تھے: عزت، اعتماد اور ترقی کی۔ ان کے الفاظ نے امید دلائی اور ان کے لہجے نے یقین دیا۔ آج اوورسیز پاکستانی فخر سے کہتے ہیں کہ پاکستان کی قیادت کے پاس ویژن ہے۔کہانی وہیں ختم نہیں ہوتی۔ کہانی آگے بڑھتی ہے، جیسے ہر نیا دن ایک نیا باب کھولتا ہے۔ اوورسیز پاکستانی اب چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ترقی میں زیادہ کردار ادا کریں۔ وہ سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں، وہ اپنی مہارتیں وطن کے لئے وقف کرنا چاہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ کی فضاؤں میں، اوورسیز پاکستانیوں کی محفلوں میں اور کاروباری حلقوں میں ایک ہی بات گونج رہی ہے کہ فیلڈ مارشل کی مقبولیت، اوورسیز میں بھی بڑھ رہی ہے۔
اوورسیز میں فیلڈ مارشل کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ
09:20 AM, 9 Oct, 2025