سندھ میں سترہ سالہ حکومت بمقابلہ پنجاب کی ڈیڑھ سالہ حکومت

09:19 AM, 9 Oct, 2025

ٰاسلامی تاریخ کا ایک مشہور قول ہے کہ اگر آپ اچھے کام کررہے ہیں اور آپکی مخالفت ہو تو آپکے کام میں کوئی کوتاہی ہے ، مگر سیاست میں اپنی شہرت اور نشست کیلئے جو اچھے کام کررہا ہے اسکی مخالفت بہت ضروری ہے ۔ مخالفت کرنے والا مخالفت کرتے ہوئے اپنی کارکردگی پر نظر نہیں ڈالتا یا یو ں کہا جائے تو اچھا ہے کہ ’’ اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا ‘‘یہ ہی صورتحال ہر چند ماہ بعد حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کا پنجاب میں وزیر اعلی مریم نواز کی مخالفت کا ہے ، مریم نواز جنہوں نے صرف ایک سال اور چند ماہ کے دور اقتدار میں پنجاب جسکی آبادی 127.7ملین کے لگ بھگ ہے صوبہ پنجاب کی جو خدمت کی ہے اسکی گواہ نہ صرف وہاںکی آبادی بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو اس صوبے سے تعلق نہیں رکھتے ، اب مریم نوا ز کے کاموں کی مخالفت کرنے والی پیپلز پارٹی کو لے لیں جو گزشتہ سترہ سالوںسے صوبہ سندھ میں بلا شرکت غیرے اقتدار میں ہے پہلے کہا جاتا تھا کہ اندرون سندھ حالات عوام کو دی جانے والی سہولیات ابتر ہیں اب تو یہ ناقص طریقہ حکومت ، اور نااہلی کراچی جیسے ایک وقت کے ’’روشنیوںکے شہر‘‘کی ہے ، چونکہ وہان تو اب شہری انتظامات بھی انکے پاس ہیں۔پنجاب کی 127.7 ملین کی آبادی جو پورے پاکستان کی آبادی کا 55.7 فیصد ہے اسکے مقابلے میں بنیادی سہولیات سے محروم سندھ کی آبادی 53.7 ملین ہے اور پی پی پی کی وہاں گزشتہ سترہ سالوںسے حکومت ہے ۔ پانی کا مسئلہ ، سیلاب کا مسئلہ تو آج کا ہے گورنر پنجا ب تو اقتدار کے روز اول سے مریم نواز وزیر اعلی پنجاب کے خلاف ، اور انکی کارکردگی پر نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں، حالیہ اختلاف جو بیانات ، بائیکاٹ تک محدود ہیں، پی پی پی کی دوسری ، اور تیسری درجے کی قیادت جنکا کام ہی اپنی جماعت کا دفاع کرنا ہے وہ اپنی ذمہ داری پوری کررہے ہیں ، یہ دوسری ، اور تیسرے درجے کی قیادت ہی اول درجے کی قیاد توںکے درمیان اختلاف بڑھاتے ہیں ، یہ ہی حال پنجاب میں وزیر اعلی مریم نواز کے ساتھ خاص طور پر خواتین کا ہے ، انہیں پی پی پی کے بیانات کو ہوا نہیں دینا چاہئے چونکہ جب انکی وزیر اعلی انکی لیڈر بلاول بھٹو کو اپنا چھوٹا بھائی کہتی ہیں تو انہیں بیان بازی کی ضرورت نہیں ، ان خواتین کے جواب میں پی پی پی کے خیر خواہ شرجیل میمن یا دیگر اپنے بیانات سے فضاء کو خراب کررہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں بلاول بھٹو نے اپنی جماعت کے کچھ لیڈاران کے ہمراہ سیلاب ذدہ علاقوںکا دورہ کیا ، اتنے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد ہوں یا کسی اور مشکل سے دوچار وہ توقع رکھتے ہیں حکومت سے کہ انہیں کم از کم وی آئی پی سہولیات پہنچائی جائیں۔ مشکلات میں انکی یہ خواہش انکا حق ہے مگر انکی خواہشات کو مزید ہوا دینا حکومت کے خلاف ایک تحریک ہو سکتی ہے اور اسکی ابتداء پی پی پی نے پنجاب میں ، اسطرح کے بیانات دینا جو وہ خود اپنے صوبے میں عمل درآمد نہ کرسکے ، یہ بات یقینا قابل اعتراض ہیں وزیر اعلی مریم نواز جو اپنی حکومت کے تمام تر ذرائع اپنی سخت نگرانی میں عوام کو پہنچارہی ہیں۔ پی پی پی نے نئے نہری منصوبے (انڈس سے) پر سخت اعتراض کیا ہے جن کا مقصد پنجاب تعمیر کرنا ہے۔  پی پی پی کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں معاہدوںپر مسلم لیگ ن نے ان کا مکمل احترام نہیں کیا جیسے محکموں کی سربراہی، افسر شاہی کے تبادلے، قرضے کی تقسیم وغیرہ ، سیاسی جماعتوںکے حکومت سے اختلافا ت مراعات حاصل کرنے کیلئے ہوتے ہین جیسے اہم عہدوںپر تقرری ، ان مخالفانہ بیانات کو آپ بلیک میلنگ کا نام بھی دے سکتے ہیں قومی اسمبلی کے سپیکر اور دیگر نے ''لفظی جنگ'' کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ثالثی کی کوشش کی۔ PPP مسلسل احتجاج اور واک آؤٹ کر رہی ہے خاص طور پر سیلاب کی امداد کو غیر منصفانہ سمجھا جا رہا ہے۔ بیانات میں پی پی پی کا مطالبہ ہے کہ مریم نواز معافی مانگیں ، جو محنت کررہا ہو ، اور تنقید غلط ہو تو کون معافی مانگتا ہے ؟؟انکا کہنا ٹھیک ہے کہ سندھ کی لیڈر شپ پنجاب کے خلاف بولنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے چونکہ کارکردگی کو سامنے رکھ کر اعتراض کرنا چاہئے ، نہروںکے پانی کی تقسیم پر تنازعہ ہے ، سندھ کا الزام ہے اس موضوع پر جبکہ مریم نواز کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے کینال پروجیکٹ کو آئینی فورم (سی سی آئی) کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے، حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے تنازعات کے بعد سی سی آئی سے رابطہ کیا تھا۔ ادھر بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ مریم نواز سیاسی بیان بازی پر سیلاب زدگان کے لیے حقیقی امداد کو ترجیح دے۔ انہوں نے پوچھا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے امداد کیوں نہیں پہنچائی جاتی، جو ان کے بقول ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے کے لیے ''واحد موثر طریقہ کار'' ہے انہوں نے نشاندہی کی کہ لگتا ہے کہ حکومت بی آئی ایس پی اور ریلیف سے منسلک پہلے کے وعدوں پر یو ٹرن لے رہی ہے۔ بلاول مایوس دکھائی دیتے ہیں کہ پی پی پی کے ساتھ کیے گئے بہت سے وعدوں کو پورا نہیں کیا جا رہا، خاص طور پر اقتدار میں شراکت، صوبائی حقوق، یا ریلیف میکنزم کے حوالے سے ، اختلافات کا آغاز سب سے پہلے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سیلاب زدگان کی بحالی کے لیئے حکومتی پالیسی پر تلخ لہجے میں تحفظات کے اظہار سے ہوا۔ یہ اختلافات وفاقی حکومت کی جانب سے بیرونی دنیا سے امداد کی اپیل نہ کرنے کے باعث پیدا ہوئے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی پیپلز پارٹی کی 
پالیسیوں پر سخت لب و لہجہ اختیار کیا اور پھر دونوں پارٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کا ناگوار سلسلہ شروع ہوگیا جو نہ صرف ہنوز جاری ہے بلکہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی، سینٹ اور پنجاب اسمبلی سے واک آؤٹ کا راستہ بھی اختیار کر لیا ہے۔ اس تمام صورتحال میں وہ بھی کود رہے ہیں جنکا سارے فسانے میں ذکر نہیں، وہ کسی بھی رسی پکڑ کر سیاست میں آنے کے خواہاں ہیں میرا مطلب تحریک انصاف سے جو منفی پالیسیوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوںکے مقابلے میں نہیں بلکہ منفی پالیسیاںملک کے خلاف ہیں ، بین الاقوامی میڈیا کہتاہے کہ بقول ایک اسرائیلی وزیر کے ہم نے عمران خان پر بہت پیسہ لگایا تھا،اسد قیصر جو تحریک انصاف کے کسی ایک گروپ کا حصہ ہیں وہ دعوت دے رہے ہیں پی پی پی کو آئیے ہم ساتھ ملکر حکومت کا خاتمہ کریں بڑی ہی احمقوںکے جنت میں رہنے والے افراد کی خواہش ہے ۔ 

مزیدخبریں