اسلام آباد: ستائیسویں آئینی ترمیمی بل 2025 پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کی مشترکہ کمیٹی کا اہم اجلاس آج دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ اجلاس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ہو گا، جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین چودھری محمود بشیر ورک بھی اس میں شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس بند کمرہ ہوگا، جہاں بل کی تمام شقوں پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔ کمیٹی کے ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر شق کا گہرا مطالعہ کریں تاکہ آئینی، قانونی اور انتظامی حوالے سے اس کی حیثیت کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، جس کی وجہ سے بحث مکمل نہ ہو سکی تھی۔ تاہم، آج کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے دیگر ارکان بل کے مختلف پہلوؤں پر اپنی سفارشات پیش کریں گے۔
اس مجوزہ ترمیم میں عدالتی اصلاحات، پارلیمانی اختیارات اور وفاقی و صوبائی تعلقات میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر سفارشات کی حتمی رپورٹ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
یہ ترمیم پاکستان کے آئین میں نئی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں لانے کی کوشش ہے، جس کا مقصد عدلیہ، پارلیمنٹ اور صوبوں کے درمیان اختیارات کے توازن کو بہتر بنانا ہو گا۔ تاہم، مختلف سیاسی جماعتوں کے موقف میں اختلافات اس ترمیم کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔