لاہور : پاکستان میں 9 نومبر کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش بڑے احترام کے ساتھ "یوم اقبال" کے طور پر منایا گیا۔ یہ دن نہ صرف اقبال کی شاعری اور فلسفے کو یاد کرنے کا ہے بلکہ ان کی اس عظیم بصیرت کو بھی سراہنے کا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔
ڈاکٹر اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم سیالکوٹ اور لاہور میں حاصل کی، اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ اور جرمنی کا سفر کیا۔ فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، اقبال نے شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں بیداری پیدا کی اور پاکستان کے قیام کا خواب دیکھا۔ ان کا 1930ء کا مشہور الہٰ آباد خطاب آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سنگ میل سمجھا جاتا ہے، جس میں آپ نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔
یوم اقبال کے موقع پر مختلف شہر وں میں تقریبات، سیمینارز اور مشاعرے منعقد کیے گئے جہاں اقبال کے کلام کو یاد کیا گیا اور ان کے فلسفے پر گفتگو کی گئی۔ حکومتی شخصیات اور عوام نے اس دن اقبال کی خدمات اور ان کے وژن کو سراہا اور ان کے پیغام کو اپنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اقبال کی شاعری میں مسلمانوں کے لیے خودی، عزم اور اتحاد کا پیغام چھپاہوا ہے۔ ان کی نظمیں آج بھی نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ پیدا کرتی ہیں اور انہیں اپنی تقدیر بدلنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ "خُدی کو کر بلند" اور "لب پہ آتی ہے دعا" جیسی نظمیں آج بھی پاکستان کے ہر کونے میں گونج رہی ہیں۔
یوم اقبال کا مقصد صرف ایک دن کے لیے ڈاکٹر اقبال کو یاد کرنا نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنے عمل میں لانا ہے۔ اس دن ہم اپنے عزم کو تازہ کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کو ایک کامیاب، مضبوط اور خود مختار ملک بنانے کے لیے کام کریں گے۔
اس دن کو مناتے ہوئے ہم نہ صرف اقبال کے خواب کو یاد کرتے ہیں بلکہ اس بات کا عہد بھی کرتے ہیں کہ ان کی تعلیمات کو اپنے عمل میں لاتے ہوئے ہم پاکستان کو دنیا کے عظیم ترین ممالک میں شامل کریں گے۔
یوم اقبال کا یہ دن ہر پاکستانی کے لیے ایک نیا حوصلہ اور عزم لے کر آتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علامہ اقبال نے جو خواب دیکھا تھا، وہ صرف ایک خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، اور اس حقیقت کو ہم سب نے مل کر زندہ رکھنا ہے۔