عورت مرد کے برابر ہے یا نہیں؟یہ سوال شاید صدیوں سے ہمارے اجتماعی شعور پر دستک دیتا آیا ہے۔ مگر افسوس، وقت گزرنے کے ساتھ اس کے جوابات زیادہ واضح ہونے کے بجائے اور الجھتے جا رہے ہیں۔آج کے شور و غوغا، سوشل میڈیا کی چیختی آوازوںناور جذباتی نعروں کے بیچ، اس بحث نے اپنی سادگی کھو دی ہے۔ اب یہ فکری مکالمہ نہیں، ایک جنگ بن چکا ہے،جہاں ایک فریق مکمل مظلوم اور دوسرا مکمل ظالم قرار دیا جاتا ہے۔لیکن حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ اور انسانی ہے۔تمام عورتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور نہ ہی تمام مرد۔ ہر عورت مظلوم نہیں، جیسے ہر مرد ظالم نہیں۔ مگر ہماری سماجی فضا اس قدر پولرائزڈ ہو چکی ہے کہ جو کوئی توازن کی بات کرے، اسے دونوں جانب سے تنقید سہنی پڑتی ہے۔یہاں یا تو آپ عورت کے حق میں نعرہ لگائیں، یا مرد کی برتری کے گن گائیں، درمیان کی کوئی نرم، سمجھدار، متوازن آواز اب سنائی نہیں دیتی۔اصل سوال شاید "برابری" کا نہیں، بلکہ "تسلیم" کا ہے۔کیا ہم ایک دوسرے کو ان کی اصل کے ساتھ تسلیم کرنے پر تیار ہیں؟کیا ہم مان سکتے ہیں کہ فطرت نے مرد اور عورت کو مختلف بنایا ہے مگر ایک دوسرے کا محتاج بھی؟۔
بنیادی طور پر مرد اور عورت دو الگ دنیائیں ہیں۔ ان کی جسمانی ساخت، سوچنے کے انداز، ترجیحات، اور جذباتی کیفیات مختلف ہیں۔ مگر یہی فرق ان دونوں کو مکمل کرتا ہے۔یہ تعلق مقابلے کا نہیں، تکمیل کا ہے۔ اگر ایک طاقت ہے تو دوسرا توازن، اگر ایک تحفظ دیتا ہے تو دوسرا سکون۔یہی وہ ہم آہنگی ہے جو زندگی کو متوازن بناتی ہے۔میں ذاتی طور پر جب اس سوال کو محسوس کرتی ہوں، تو میرے لیے "برابری" کی تمنا بے معنی لگتی ہے۔مجھے اپنے باپ، اپنے بھائی، شوہر یا کسی دوسرے مرد سے کوئی مقابلہ نہیں کرنا۔ محبت، اپنائیت اور قربت کے رشتوں میں تو سرینڈر کیا جاتا ہے، برابری نہیں۔جہاں میرا وجود قبول کیا گیا، میری رائے سنی گئی اور میرے راستے نہیں روکے گئے، وہاں میں نے خود کو کبھی کم تر نہیں سمجھا۔میرے لیے عورت ہونے کا مطلب مرد کی نقل بننا نہیں، بلکہ اپنی پہچان کے ساتھ جینا ہے۔مجھے اپنی شناخت چاہیے،ایسی شناخت جو تعصب سے پاک ہو، جسے عزت، احترام اور اعتماد کے ساتھ تسلیم کیا جائے۔مگر ہر عورت اتنی خوش قسمت نہیں۔
میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بارہا یہ دیکھا کہ دشمنی اکثر مردوں سے کم، عورتوں سے زیادہ ملی۔وہ عورتیں جو بظاہر خواتین کے حقوق کی علمبردار ہیں، دراصل حسد، انا اور طاقت کی بھوک کا شکار نکلیں۔ انہوں نے نہ صرف میرا راستہ روکا بلکہ میرے حصے کا حق دینے سے بھی گریز کیا۔یہ وہ لمحے تھے جب میں نے جانا کہ ظلم کا تعلق جنس سے نہیں، کردار سے ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون مرد ہے اور کون عورت۔سوال یہ ہے کہ کون انصاف پسند ہے اور کون ظالم۔کون دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے اور کون جلن میں جلتا ہے۔جب کردار کمزور ہو، تو جنس کی بحث بے معنی ہو جاتی ہے۔ میں نے ان لوگوں سے کبھی برابری کی خواہش نہیں رکھی جنہوں نے میری راہ میں رکاوٹیں ڈالیں، میرا حوصلہ توڑا، یا میرے ذہنی سکون کو زہر بنایا۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر مقابلہ کرنا اپنی توقیر کم کرنے کے مترادف ہے۔میں نے احتجاج کے بجائے خاموشی کو چنا۔ صفائیاں دینے کے بجائے صبر کو اور جب سب کچھ اللہ کے سپرد کیا، تو راستے خود کھلتے چلے گئے۔
قدرت کا اصول ہمیشہ مختلف رہا ہے۔جن دروازوں پر نفرت کی زنجیریں تھیں، وہیں ماں کی دعاؤں نے روشنی کے در کھول دیے۔جو لوگ انسان کو نیچا دکھانے پر تْلے ہوں، وہ دراصل اسے اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔ان کا ظلم ہی ترقی کا زینہ بن جاتا ہے، بشرطے کہ انسان خود کو قربانی کے لیے تیار کرے، انتقام کے لیے نہیں۔ہمارے معاشرے میں عورت کو اپنی جگہ خود بنانی پڑتی ہے۔لیکن وہ جگہ تب مکمل ہوتی ہے جب اسے دل سے تسلیم کیا جائے۔قانون، آئین، اور حقوق کے نعرے کافی نہیں۔ اصل انقلاب تب آتا ہے جب عورت کے خوابوں کو پر دیے جائیں، اس کی رائے کو وزن دیا جائے اور اس کی بات کو سنا جائے۔میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اپنی ذاتی زندگی میں تسلیم کا یہ تجربہ ملا۔اس لیے میں کسی مرد سے برابری کی متمنی نہیں، نہ کسی عورت سے مقابلے کی خواہش رکھتی ہوں۔میری منزل صرف اتنی ہے کہ جو میں ہوں، مجھے وہ بننے دیا جائے۔عورت کی اصل عظمت اس کی برداشت، اس کے ظرف اور اس کی خاموشی میں ہے۔
خودمختاری کا مفہوم اپنی حدود توڑنا نہیں، اور برابری کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں فطری فرق مٹا دوں۔ میں چاہتی ہوں کہ عورت کو اس کی اصل کے ساتھ قبول کیا جائے ،نہ کہ اسے مرد کی نقل بننے پر مجبور کیا جائے۔ اس کا حسن اس کے نرم لہجے، اس کے صبر سے لبریز دل، اور اس کی تدبر بھری آنکھوں میں ہے۔وہ خاموش رہ کر بھی بولتی ہے، اور بول کر بھی خاموش رہ جاتی ہے۔وہ ایک ایسی طاقت ہے جو ہنگامہ نہیں کرتی، مگر دنیا بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وہ شور نہیں مچاتی لیکن جس لمحے وہ اٹھ کھڑی ہو، پوری تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہے۔عورت وہ چراغ ہے جو گھر کے ایک کونے میں جل کر پوری زندگی کو منور کر دیتا ہے۔وہ صبح کی پہلی دعا ہے، رات کی آخری خاموشی۔وہ بکھرتی نہیں، بکھرے ہوؤں کو سمیٹ لیتی ہے۔وہ تھک جاتی ہے مگر ہار نہیں مانتی۔دنیا کے شور میں بھی وہ اپنے خالق کی طرف پلٹنے کا راستہ جانتی ہے۔یہی اس کی اصل ہے، یہی اس کا حسن۔
ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مرد اور عورت کا رشتہ برابری یا مقابلے کا نہیں، بلکہ تکمیل کا ہے۔یہ وہ بندھن ہے جو دونوں کو کمزور نہیں، مکمل بناتا ہے۔ایک محافظ ہے، دوسرا پرورش دینے والا۔ایک دیوار ہے، دوسرا سایہ۔ایک ہاتھ بڑھاتا ہے، دوسرا دل سے تھام لیتا ہے اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کی کمی پوری کرتے ہیں، تب ہی زندگی متوازن بنتی ہے۔جہاں ایک دوسرے کو سمجھنے کا حوصلہ ہو، وہاں برابری کی جنگ خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔اختتام پر بس اتنا کہنا ہے کہ خوش رہیں، دوسروں کو خوش رکھیں اور سب کی صلاحیتوں کو قبول کریں۔اپنے اردگرد کے لوگوں کو صرف ان کی جنس سے نہیں، ان کے کردار سے پہچانیں۔برابری کے شور سے نکل کر تسلیم کی نرمی کو اپنائیں کیونکہ جیت ہمیشہ انہی کی ہوتی ہے جو مقابلہ نہیں، تکمیل تلاش کرتے ہیں اور شاید اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم یہ سیکھ جائیں کہ زندگی میں سب سے خوبصورت رشتہ وہ ہے،جہاں نہ کوئی غالب ہو، نہ مغلوب بلکہ دونوں ایک دوسرے کے وجود کو مکمل کر رہے ہوں۔
کیا عورت مرد کے برابر ہے؟
09:16 AM, 9 Nov, 2025