یہ کہانی میں نے بہت بچپن میں سنی تھی عین ممکن ہے آپ نے بھی سن رکھی ہو گر نہیں سنی تو ہم سنائے دیتے ہیں تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ ایک کچھوا تیر کر ندی پار کر رہا تھا، راستے میں اس کی نگاہ ایک بچھو پر پڑی، جو پانی کی لہروں کے تھپیڑے کھا رہا تھا، کچھوے نے استسفار کیا کہ میاں بچھو کیا ماجرا ہے؟ گویا ہوا کہ چچا ندی کے اْس پار جانا چاہتا ہوں لیکن پانی کا بہاؤ بہت تیز ہے، بار بار ڈوبنے لگتا ہوں، کچھوے نے ازراہِ ہمدردی اسے اپنی پیٹھ پر سوار کروا لیا اور دونوں محوِ سفر ہو لیے، تھوڑی دور ہی پہنچے تھے تو کچھوے کو اپنی کمر پہ ٹھْک ٹھْک سنائی دی، کچھوے نے پوچھا میاں بچھو یہ کیسی آواز ہے؟ تو وہ اترا کے کہنے لگا معاف کرنا چچا میں دراصل عادت سے مجبور ہوں، میرے خصلت میں ہے ڈنک مارنا۔۔۔ آپ کے خیال سے ایسے میں کچھوے کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ چلیں اس پہ بعد میں آتے ہیں ، پہلے ذرا آس پڑوس میں ایک نظر گھما لیں ۔
نامساعد حالات اور خانہ جنگی کے باعث ہجرت کرنے والے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی پاکستان نے پانچ دہائیوں تک مہمان نوازی کی، انصارِ مدینہ کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے پاک سر زمین نے نہ صرف رہنے کو چھت دی بلکہ اپنی کمزور میعشت پر بوجھ ڈال کر اپنے کلمہ گو ہمسائیوں کو تہہ دل سے خوش آمدید کہا۔ غیر ملکی مداخلت، خانہ جنگی اور داخلی انتشار کے ادوار میں پاکستان نے ایک برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک کے عوام کو پناہ دے کر انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ اب اس ہجرت کے پیچھے کے محرکات اگر دیکھے جائیں تو افغان سر زمین جسے ’’graveyard of empires‘‘ بھی کہتے ہیں وہی افغان شہریوں کے لیے قبرستان بن رہی تھی، دہشت گردی کا عروج اور غیر ملکی افواج کی موجودگی نے وہاں جینا دوبھر کر دیا تھا، پاکستان نے لاکھوں کی تعداد میں افغانیوں کو پناہ دی، اب حق تو یہ بنتا تھا کہ جو ہمارے بھائی یہاں رہنے آئے وہ ہماری میعشت کی سالمیت میں اپنا کردار ادا کرتے اور بطور ذمہ دار شہری یہاں سکونت اختیار کرتے۔قانون کی پاسداری کرتے، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرتے لیکن معاملہ اس کے الٹ ہوا، اول تو افغانی بوریوں میں بھر کر ڈالر لائے اور رئیل اسٹیٹ کا تیا پانچہ کر دیا، ہمارے لوکل پاکستانی مڈل کلاس افراد کی پہنچ سے رہائش کو اتنا مشکل کر دیا کہ جوئے شیر لانے کے مترادف کہیے، کرائے بڑھ گئے، چلو وہ تو جس کا جتنا نصیب وہ اتنے میں گزارہ کر ہی لیتا ہے تاہم تکلیف دہ امر یہاں کچھ اور ہے۔ متعدد شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پناہ گزینوں کے بعض عناصر پاکستان میں دہشتگردی، منشیات کی سمگلنگ ہیومن ٹریفکنگ ، حوالہ ہنڈی، غیر قانونی اسلحے کی خرید و فروخت اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ ان سرگرمیوں نے قومی سلامتی اور داخلی استحکام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔ پھر کوئٹہ پشاور کراچی لاہور کی لوکل مارکیٹس پہ اپنی اجارہ داری قائم کی ، لوکل مارکیٹ کے ریٹ گر گئے اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ وہ پاکستان میں رہ کر پاکستان دشمن عناصر کے معاون ثابت ہوئے، آپ کا کبھی کسی افغانی سے کوئی تعلق واسطہ پڑے تو آپ انہیں پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہی سنیں گے ( یاد رہے یہاں جزوی بات ہو رہی ہے میری مراد ہر گز تمام افغانیوں سے نہیں ہے) تجربے کی نیت سے آپ کسی افغانی کے ساتھ بیٹھ کر پاک۔ بھارت کرکٹ میچ دیکھ لیں جوں جوں ہماری وکٹیں گریں گی ہمارے ہمسائے کی باچھیں کھلیں گی۔ اللہ جنت بخشے فراز صاحب کو کیا کوزے میں سمندر سمیٹ گئے ہیں کہ ’’دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا‘‘۔
ان حالات کے پیشِ نظر پاکستان نے غیر قانونی مہاجرین کی واپسی کے لیے منظم اور جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے اور اس کے مثبت نتائج نظر آنے لگے ہیں، رئیل اسٹیٹ کو دیکھیں تو شہرِ اقتدار اسلام آباد میں کرائے کی رہائش کافی حد تک سستی ہو گئی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ غیر قانونی افغان باشندوں کو رضاکارانہ اور محفوظ واپسی کے لیے کئی مہلتیں اور سہولتیں فراہم کی گئیں۔ اس سلسلے میں 30 ستمبر 2025 تک کی مزید توسیع بھی دی گئی۔ دوحہ معاہدے کے بعد افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلا ہو چکا ہے, اور خانہ جنگی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ وہ بنیادی وجوہات جن کی بنا پر افغان مہاجرین طویل عرصے سے پاکستان میں مقیم تھے، اب نہیں رہیں۔ پاکستان اب بھی افغانستان کو برادر اور ہمسایہ ملک کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن realism کا یہ ماننا ہے کہ سب سے پہلے اپنا نیشنل انٹرسٹ دیکھنا چاہیے، کسی بھی سٹیٹ کا survival ہی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، اور اب حالات جس طرف جا رہے تھے اس میں ضروری تھا کہ کچھوا ندی میں غوطہ لگا کر اپنی کمر سے بچھو ہٹا دے۔ پاکستان امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ان 19 ہزار افغان شہریوں کے بارے میں پیش رفت ہو جو پاکستان میں موجود ہیں اور امریکہ منتقلی کے منتظر ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر ان افراد کو جلد از جلد امریکہ منتقل نہ کیا گیا تو پاکستان کو انہیں افغانستان واپس بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ہر خودمختار ملک کی طرح پاکستان کو بھی اپنے قومی مفادات کے تحفظ، امن کے قیام اور داخلی استحکام کو یقینی بنانے کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی دوسرا ملک غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کے بارے میں فکرمند ہے، تو وہ انہیں اپنے ملک میں پناہ دینے کی پیشکش کر سکتا ہے۔ آخر میں یہ دعا ہے کہ وطنِ عزیز کو خالقِ کائنات اپنے خصوصی حفظ و امان میں رکھے اور اس کے تمام دشمنوں کو نیست و نابود کرے۔
کہانی ایک بچھو کی
09:16 AM, 9 Nov, 2025