تحریک انصاف کے کھلاڑی جس طرح عمران خان کومرشدکہتے اورسمجھتے ہیں اسی طرح آبائی گائوں میں ایک صاحب کوہم بھی مرشدکہتے اورسمجھتے ہیں۔پیرخالدکوتولوگ پیرصاحب بولتے ہیں لیکن ہم اسے کپتان کے نادان کھلاڑیوں کی طرح مرشدہی کہتے ہیںیہ الگ بات کہ جوپیاراورمحبت کپتان کااپنے کھلاڑیوں سے ہے وہ ہمارے مرشد کا ہم سے نہیں،ویسے کھلاڑیوں کے مرشداورہمارے والے مرشدمیں بہت سی قدریں مشترک ہیں۔ کھلاڑیوں کے مرشدنے دوسری اورتیسری شادی کی مٹھائی اوربریانی جس طرح مریدوں کونہیںکھلائی اسی طرح ہمارے مرشدنے بھی دوسری شادی کے موقع پرہمیں یادکرنا مناسب نہیں سمجھا،لگتاہے مرشدوں کو اقتدار، کرسی،خوشی اورعروج کے موقع پرہمارے جیسے غریب مرید پھر یاد نہیں رہتے۔ خیر گزرے ہفتے پیر صاحب گائوں سے ہمارے پاس خصوصی طور پر تشریف لائے، پیر صاحب نے کچھ دوستوں کی غربت اور بیروزگاری کے واقعات سنائے توواللہ دل بہت اداس ہوا۔ اپنا اتنا وس اوربس نہیں کہ مہنگائی،غربت اور بیروزگاری کے ہاتھوں کسی گرنے والے کاہاتھ تھام سکیں،اس لئے جب بھی ایسے واقعات دیکھتے یاسنتے ہیں توپھربہت تکلیف ہوتی ہے ۔سمجھ نہیں آرہی عوام کے حال پرروئیں،چیخیں یاچلائیں،پتہ نہیں اس قوم کوکس جرم اورگناہ کی سزامل رہی ہے۔؟اس ملک میں نوے نہیں بلکہ پچانوے فیصدلوگوں کی زندگی اسی سوچ اورامیدمیں گزررہی ہے کہ آنے والادن پہلے سے بہترہوگالیکن ہرصبح جب لوگ مڑکرپیچھے دیکھتے ہیں تویہی لگتاہے کہ دن تووہی اچھے تھے جوگزرگئے۔آنے والاہردن عوام کے لئے پہلے سے زیادہ مشکل،تنگ اورسخت ثابت ہو رہا ہے۔ ایک ہزارکی دیہاڑی لگانے اورماہانہ بیس تیس ہزارتنخواہ لینے والے گناہ گارکس طرح زندگی گزار رہے ہیں یہ صرف وہ اوران کا خدا جانتا ہے۔ ماناکہ موجودہ حکومت نے عوام کوریلیف دینے کے لئے بہت سے اقدامات کئے پرمہنگائی نے اس وقت طوفان کی جو شکل اختیارکی ہوئی ہے حکومتی اقدامات اس طوفان کے سامنے درختوں کے سوکھے پتے ثابت ہو رہے ہیں۔ چیک اینڈبیلنس کے فقدان کی وجہ سے مصنوعی مہنگائی اورگرانفروشی نے عوام پرزندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں عدم استحکام سے غریب لوگ اب جینے کے قابل بھی نہیں رہے ہیں۔ فوڈاتھارٹی کے ساتھ اشیاء کی قیمتیں کنٹرول اورچیک کرنے کے لئے افسران ہر علاقے اورشہرمیں موجودہیں لیکن اس کے باوجودکسی علاقے اورشہرمیں قیمتوں کاکوئی کنٹرول نہیں۔ ہر جگہ ایک عام ریڑھی بان سے لیکربڑے تاجرتک ہرشخص نے من مانے نرخ اور ریٹ مقررکرکے اپنی حکمرانی وبدمعاشی قائم کی ہوئی ہے۔کسی صوبے اورشہرکیاکسی ایک بازاراورمارکیٹ میں بھی کسی چیزکاایک ریٹ نہیں۔حکومتی رٹ قائم اوراشیاء کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے نام پرسرکاری خزانے سے بھاری تنخواہیں لینے والے توکروڑوں مالیت کی گاڑیوں میں خراٹے مارکرسیرسپاٹے کررہے ہیں لیکن عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے چھوٹے اوربڑے مگرمچھوں پرہاتھ ڈالنے یاان سے پوچھنے کے لئے کسی کے پاس ٹائم نہیں۔ آپ گلگت سے کشمیراورچترال سے کراچی تک دیکھیں قدرت نے اس ملک کو ہر نعمت سے مالامال کیاہواہے۔یہ زمین سوناہے جس سے ضرورت کی ہر شئے ہم حاصل کررہے ہیں لیکن افسوس چند مفاد پرستوں کی وجہ سے اس ملک میں ہرنعمت موجود ہونے کے باوجودعوام کبھی آٹا،کبھی چاول،کبھی چینی اور کبھی ٹماٹر کے لئے خوار ہو رہے ہیں۔ سالہاسال عوام کو اشیاء کی مصنوعی قلت کے ذریعے جی بھر کر لوٹنے کے باوجود مفاد پرستوں اورذخیرہ اندوزوں کے جہنم نہیں بھر رہے۔ مہنگائی کے ذریعے غریبوں کاخون چوس چوس کراب توان ظالموں کے پیٹ اتنے بڑے ہوگئے ہیں کہ اس حساب سے انہوں نے ذخیرہ اندوزی کے لئے اپنے گودام بھی بڑے کردیئے ہیں۔ہم نے ایسے بہت ظالم دیکھے ہیں کہ باہرلوگ آٹااورچینی کے لئے مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں اور اندر ان کے گودام ہر چیز سے بھرے ہوتے ہیں۔ہمیں یادہے چندسال پہلے جب مارکیٹ میں اچانک آٹے کابحران لانچ کیا گیاتوپھرکئی بڑے بڑے حاجیوں اورنمازیوں کے گودام سے ایک دونہیں ٹرکوں کے حساب سے آٹے کی بوریاں برآمدہوئیں۔یہ آٹے،چینی اورچاول کے بحران کوئی آسمان سے نہیں آتے۔یہ انہی گوداموں سے نکلتے ہیں۔جب ایک ایک مگرمچھ کروڑوں کامال گوداموں میں ذخیرہ کرکے بیٹھے گا تو پھربحران نہیں آئے گاتوکیاآئے گا۔؟حکمرانوں کا قصور اور گناہ نہیں۔اصل مجرم نچلی سطح پرکالے چشمے لگاکرویگواورپجارومیں پھرنے والے یہ انتظامی بادشاہ ہیں جوماہانہ لاکھوں کی تنخواہیں اوربھاری مراعات لینے کے باوجودایک پائی کاکام نہیں کرتے۔افسرٹھیک اورسیدھے ہوںتوسوال ہی پیدا نہیں ہوتاکہ اس صوبے،شہراورعلاقے کے لوگ پھر سیدھے نہ ہوں۔جب افسرہی دفتر اور گاڑی تک محدود ہوگاتوپھرذخیرہ اندوز اور گرانفروش اللہ کی بے زبان مخلوق کودونوں ہاتھوں سے لوٹ کران کاخون نہیں چوسیں گے تو اور کیا کریں گے۔؟ چیک اینڈ بیلنس اور اچھاساڈنڈانہ ہونے کی وجہ سے ہمارے یہ تاجرمگرمچھ بنے بیٹھے ہیں۔ یہ بحران سرہی تب اٹھاتے ہیں جب ہمارے افسران اورمتعلقہ ذمہ داران ان مگرمچھوں کے سامنے سرجھکاتے ہیں۔ جو لوگ غریب عوام کے لئے زندگی عذاب بنارہے ہیں ایسے لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ان کے خلاف پورے ملک میں بلاتفریق سخت کارروائی ہونی چاہئیے تاکہ غریب عوام آرام وسکون سے جی سکیں۔
عوام کومافیاسے بچائیں
09:15 AM, 9 Nov, 2025