آئینی ترمیم کیوں ضروری؟

09:15 AM, 9 Nov, 2025

وطن عزیز میں اگر کچھ نہ بھی ہوتو لگتا ہے کہ ہورہا ہے اور بڑی شدومد سے ہورہا ہے لیکن اب تو آئین میں ترمیم ہورہی ہے۔ویسے تو آئین میں ترمیم ہونے میں کوئی حرج نہیں ہاں دقت ضرورہوتی ہے، ہر بار ہوتی ہے لیکن یہ دقت کبھی کُل وقتی نہیں ہوتی،وقتی ہوتی ہے جس کو بروقت دورکرلیا جاتا ہے ۔چھبیسویں آئینی ترمیم کے وقت یہ دقت بہت زیادہ تھی کہ پوری حکومت ایک اکیلے مولانا کے رحم وکرم پر تھی ۔مولانا کو اس بات کا کریڈٹ دلوایاگیا کہ انہوں نے سانپ سے زہر نکال دیا ۔کالا ناگ نہیں بننے دیا ترمیم کو اور ساتھ ہی دوہزار اٹھائیس تک ملک سے سود کے خاتمے کا آرٹیکل بھی شامل کردیا گیا تاکہ مولانا کا وزن اتنا ہوجائے کہ ترمیم کی حمایت کرنے کے لیے ان کے پاس کافی جواز موجود ہو۔یہ الگ بات کہ چھبیسویں ترمیم ہوئے عرصہ ہوگیا لیکن مولانا کے منہ سے کل سنا گیا کہ حکومت نے ان سے سود کے خاتمے کا وعدہ کررکھا ہے لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہورہی ۔اس بار مولانا کا وزن کافی کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے ان کوبھاؤ بھی اتنا ہی ملنے کی توقع ہے ۔ہاں پیپلزپارٹی کی اس ترمیم کو بحرحال ضرورت ہے ۔
پیپلزپارٹی نے گزشتہ ترمیم کی ذمہ داری لی تھی اور بلاول بھٹو زرداری نے وہ ذمہ داری نبھائی بھی بڑے دل وجان سے تھی ۔ انہوں نے مجبوری اور ضروری کا نعرہ لگا یا اور ’’بروٹ میجورٹی‘‘کے الفاظ بھی استعمال کیے اور پھر انہوں نے یہ اکثریت ثابت کرکے بھی دکھائی ۔اس بار وزیراعظم شہبازشریف ترمیمی فرنٹ سیٹ پر ہیں لیکن وزیراعظم شہبازشریف کی طبیعت سے ہم سب واقف ہیں وہ رکھ رکھاؤ تو رکھتے ہی ہیں ساتھ ہی ہر کام باہمی مشاورت اور باہمی رضا مندی سے کرنے کے عادی ہیں اس کی ایک جھلک ہم نے جمعہ کو ہی دیکھ لی کہ جب پیپلزپارٹی نے ترمیم کے مسودے پر ’’تحفظات ‘‘ ظاہر کیے تو وزیراعظم صاحب نے کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا اور ترمیم کا مسودہ کابینہ میں پیش کرنے سے روک دیاپھر جب پیپلزپارٹی کا گرین سگنل آیا تو آزربائیجان کے شہر باکو سے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ اجلاس کی صدارت کی اور ہفتے کے روز کابینہ نے ترمیمی مسودے کی منظوری دیدی۔فوری ترمیم کو سینیٹ کی طرف روانہ کیا گیا ۔وہاں سے کمیٹی ،بحث ومباحثہ اور پھر منظوری۔
ستائیسویں ترمیم دراصل چھبیسویں ترمیم کا تسلسل ہی ہے ۔اس میں یار لوگ جو ہراہم موقع پر اپنی مرضی کا کوئی چورن تلاش کرلیتے ہیں نہ ہو تو گھڑ لیتے ہیں انہوں نے اس پوری ترمیم سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کی بین تلاش کرکے اس کو بجانا شروع کردیا حالانکہ اس ترمیم میں نہ آرمی یاکسی جنرل کی مدت ملازمت یا توسیع کا کوئی ذکر، نہ تعلق ،لیکن سوشل میڈیا پر بین مسلسل بجائی جارہی ہے۔ سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا قضیہ بہت پہلے حل کیا جاچکا ہے اور پھرآرمی چیف کی مدت ملازمت کا کہیں کوئی ذکر آرٹیکل 243میں نہیں ہے کہ جس کے لیے ترمیم کی ضرورت ہو۔اس ایشو کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے قانون سازی کی جاچکی ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت آنے والے ہر آرمی چیف کی مدت ملازمت اب پانچ سال ہوگی ۔اس کو تین سے بڑھاکر پانچ سال کردیا گیا ہے اور اس کو قانونی تحفظ پارلیمنٹ نے دے رکھا ہے لیکن چونکہ فوج کے حوالے سے تھوڑی بہت تکلیف لینی ضروری ہوتی ہے تو ناٹک بھی ضروری ہوجاتا ہے ۔
بس کسی ہم رکاب نے آرٹیکل دوسو تینتالیس کا ذکر کردیا ۔دیکھا کہ آرٹیکل 243تو پاک افواج کے بارے میں ہے تو وہاں سے بغیر ڈور کے پتنگ بازی شروع کردی گئی ۔یہ آئینی ترمیم کیا ہے ؟ اس کا بنیادی اور بڑا تعلق تو عدلیہ کے ساتھ ہے کیونکہ چھبیسویں ترمیم میں عدلیہ کا مکمل پیکج ادھورارہ گیا تھا کیونکہ مولانا نے کریڈٹ لینا تھا کہ انہوں نے آئینی عدالت کے راستے میں کھڑے ہوکر ملک کی کوئی بہت بڑی خدمت سرانجام دی ہے اگر یہ آئینی عدالت چھبیسویں ترمیم میں ہی بن جاتی تو شاید اس طرح ستائیسویں ترمیم کی نوبت ابھی نہ ہی آتی ۔اس ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت الگ سے قائم کی جائے گی ۔اس وقت بے شک ایک آئینی بینچ قائم ہے لیکن اس کوچلانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور ا س کا اظہار ہم چھبیسویں آئینی ترمیم کیس میں دیکھ رہے ہیں یہاں آئینی ترمیم کا ہر مخالف وکیل بینچ کے سامنے کھڑا ہوکر کہتا ہے کہ ہمیں آپ پر اعتما دنہیں آپ یہ کیس نہیں سن سکتے آپ فل کورٹ بنائیں تو ایک بینچ سے عدالت کا بننا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ سیاسی مسائل کے لیے سرکھپائی الگ آئینی عدالت میں ہوتی رہے اور باقی سپریم کورٹ دیگرمقدمات سن کر عوام کوکوئی ریلیف وغیرہ دے سکے ۔
آرٹیکل 243میں ترمیم اس لیے بھی ضرورت ہے کہ فیلڈ مارشل کے عہدے کو تحفظ دینا کیونکہ آئین میں اس عہدے کا ذکر ابھی تک نہیں ہے اور ساتھ ساتھ جوائنٹ چیف آف اسٹاف جو تمام مسلح افواج کا سربراہ ہوتا ہے وہ اس وقت فور اسٹار جنرل ہے اور آرمی چیف ان سے سینئر یعنی فائیو اسٹار جنر ل ہے تو اس مسئلے کا حل بھی اسی ترمیم میں نکالا جانا لازمی ہے۔اس ترمیم میں ایک چیف آف ڈیفنس کا عہدہ بنایاجارہا ہے۔ یہ عہدہ بھارت پانچ سال پہلے تخلیق کرچکا ہے ۔اسکے علاوہ معرکہ حق میں جو سبق سیکھے گئے ان کا بھی تقاضا ہے کہ پالیسی فریم ورک میں یکسوئی اور مزید بہتری لائی جائے تاکہ مشرق اور مغربی سرحدوں پر پھن پھیلائے دشمنوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔اگر فوج نے آپریشن سندور میں ہندوستان کا غرورخاک آلود کیا ہے او رافغانستان کو بھی اس کی اوقات میں واپس بھیج دیا ہے تو پھر قوم کو اس قیادت پر اعتماد کرنا چاہئے ۔
آئین میں ترمیم کرنا حکومت وقت کا اختیار ہے اور یہ اختیار ہمارا آئین ہی حکومت کو دیتا ہے ۔اس کے پاس اگر دوتہائی اکثریت نہیں ہوگی تو ترمیم ممکن ہی نہی ہوسکے گی لیکن اگر یہ دوتہائی اکثریت موجود ہے تو پھر اس کو روکنے یا رونے دھونے کی بجائے ساتھ مل کر بہتری کی تجاویز دینی چاہئیں جیسا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کررہی ہے جو ترمیم پیپلزپارٹی کو پسند ہے اس کا اظہار بلاول بھٹو نے برملا دونوں دن اپنی پریس کانفرنس میں کردیا جو تحفظات ہیں وہ بھی ساتھ ہی رکھ دیے ۔ یہی جمہوری رویہ اور جمہوری طریقہ ہے ۔ویسے یہ جو صوبوں کے اختیارات والی بات ہے یہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا اور نہ ہی حکومت کا کوئی ایسا ارادہ ہے ایسے نکات کسی بھی مسودے میں اضافی ہوتے ہیں تاکہ جس فریق کی حمایت درکارہواس کو مسودہ بھیجا جائے تو ا سکے پاس حمایت کے لیے اپنی کچھ شرائط منوانے کا جواز بھی ہو جیسا کہ ا سوقت پیپلزپارٹی کے جواز کے لیے صوبوں کے اختیارات کی بات کی گئی ہے ۔یہ نکات ختم کرکے بنیادی ترمیم ہی پاس کروائی جائے گی ۔کیونکہ آئینی عدالت مجبوری بھی ہے اور ضروری بھی ۔

مزیدخبریں