پاکستان کی برتری اور مودی کی راہ فرار!

09:28 AM, 10 May, 2025

جنوبی ایشیا ایک بار پھر اس دہانے پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں جنگ و امن کے درمیان لکیر مدھم ہو چکی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر اس بار منظر نامہ یکسر مختلف ہے ایک طرف پاکستان ہے جو سفارتی، عسکری اور اخلاقی محاذ پر واضح برتری دکھا رہا ہے اور دوسری جانب بھارت ہے، جس کی قیادت نریندر مودی جیسے غیر لچکدار اور جارح مزاج رہنما کے ہاتھ میں ہے، جو اس وقت داخلی و خارجی سطح پر دباو¿ کا شکار نظر آتے ہیں۔ 22 اپریل 2025 کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والا حملہ ایک مرتبہ پھر بحران کا پیش خیمہ بنا۔ اس حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے بغیر کسی تحقیق کے الزام پاکستان پر دھر دیا۔ یہ طرزِ عمل بھارت کی ایک پرانی روایت بن چکی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا فوری اور بلا ثبوت تعلق پاکستان سے جوڑ دیا جائے، تاکہ عالمی برادری کی توجہ داخلی ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے۔ 7 مئی کو بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں نو میزائل حملے کیے، جن میں بہاولپور، مریدکے اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت کا دعویٰ تھا کہ ان حملوں کا ہدف دہشت گرد تنظیموں کے تربیتی مراکز تھے، جو سراسر جھوٹ ہے۔ پاکستان نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری اور مو¿ثر جوابی کارروائی کی۔ 8 مئی کو پاکستان نے بھارتی ڈرونز گرا کر واضح پیغام دیا کہ جارحیت کا جواب بھرپور اور مو¿ثر انداز میں دیا جائے گا۔ پاکستان نے اس بار صرف ردِعمل نہیں دکھایا بلکہ اپنی عسکری قابلیت، ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کی بنیاد پر فعال دفاع کی نئی جہت متعارف کرائی۔ پاکستان نے اس کشیدگی میں جس انداز سے عالمی برادری کو متحرک کیا، وہ بلاشبہ ایک سفارتی کامیابی تھی۔ اقوام متحدہ، او آئی سی، چین، ترکی، ایران اور روس سے فوری رابطے، اور مو¿قف کی وضاحت نے دنیا کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا۔ پاکستان نے ایک طرف امن کا پیغام دیا، تو دوسری جانب یہ واضح کر دیا کہ قومی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اس کے برعکس، بھارت کو بین الاقوامی سطح پر خاصی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی، سفارتی بائیکاٹ اور فضائی حدود کی بندش جیسے اقدامات نے بھارت کو ایک غیر ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر پیش کیا، جو دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ پاکستان نے اپنی عسکری حکمت عملی میں جوابی کارروائی سے گریز کیا جو اس کے ذمہ دارانہ ریاست ہونے کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ بھارت کے حملوں میں عام شہری، عبادت گاہیں اور سکول متاثر ہوئے۔ بھارتی حملوں میں 31 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں مولانا مسعود اظہر کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ پاکستان کی جوابی کارروائی میں بھارت کے 5 طیارے، درجنوں ڈرون اور لائن آف کنٹرول پر ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ ہوئے۔ یہ فرق اس بات کا غماز ہے کہ کون ریاستی طاقت کو ذمہ داری سے استعمال کرتا ہے اور کون نہیں۔ مودی حکومت اس وقت داخلی سطح پر کئی بحرانوں سے دوچار ہے۔ معاشی زوال، کسانوں کی تحریک، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور جمہوری اداروں کی کمزوری نے بی جے پی کی حکومت کو غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو ایک توجہ ہٹاو¿ مہم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے تاکہ عوامی غصے کا رخ بیرونی دشمن کی طرف موڑا جا سکے۔ تاہم، پاکستان کی جانب سے مو¿ثر عسکری اور سفارتی ردعمل نے مودی حکومت کی اس حکمت عملی کو الٹ دیا۔ اطلاعات کے مطابق بھارت اب پس پردہ سفارتی ذرائع سے رابطہ کر رہا ہے اور ثالثی پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے جو اس کی جارحانہ پالیسی کے برعکس ایک پسپائی سمجھی جا رہی ہے۔ اس بحران میں ایک اور اہم پہلو میڈیا کی جنگ ہے۔ بھارتی میڈیا نے حسبِ روایت جنگی جنون، افواہوں اور پاکستان دشمنی کو ہوا دی۔ مگر اس بار پاکستانی میڈیا، خاص طور پر ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے مو¿ثر حکمت عملی اختیار کی۔ عالمی میڈیا، جس نے ماضی میں بھارت کے مو¿قف کو زیادہ توجہ دی، اس بار پاکستان کے مو¿قف کو سنجیدگی سے سنا اور شائع کیا۔ پاکستان کے تجزیہ نگاروں اور حکومتی نمائندوں نے سفارتی زبان میں، ثبوتوں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے دنیا کو قائل کیا کہ یہ تنازع بھارت کی جانب سے پیدا کردہ ہے۔ نریندر مودی ایک متنازع اور بین الاقوامی سطح پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف پالیسیوں میں شدت آئی ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات سے لے کر آرٹیکل 370 کی منسوخی، شہریت ترمیمی قانون اور حالیہ عسکری مہمات تک مودی کی پالیسیوں میں انتہا پسندی، جارحیت اور اندرونی سیاسی فائدے کا عنصر غالب رہا ہے۔ اب جب پاکستان نے عسکری، سفارتی اور اخلاقی برتری حاصل کر لی ہے، مودی کی حکمت عملی ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بحران جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ردِعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ ایک فعال، ذمہ دار اور جدید حکمت عملی کی حامل ریاست ہے۔ اب یہ تصور کہ بھارت خطے کی واحد عسکری قوت ہے، کمزور پڑ چکا۔ بین الاقوامی برادری ایک نئی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور استحکام صرف اسی وقت ممکن ہے جب بھارت اپنی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے، اور پاکستان کے ساتھ برابری، عزت اور سنجیدگی کی بنیاد پر بات کرے۔ پاکستان نے اس بحران میں جو بالغ نظری، عسکری مہارت، اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس کے بدلتے ہوئے عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ نریندر مودی کی راہِ فرار اور پاکستان کی پُرعزم حکمت عملی، اب ایک نئے جغرافیائی منظرنامے کی تشکیل کر رہی ہے، جہاں طاقت صرف عسکری قوت نہیں بلکہ سفارتی فہم، اخلاقی برتری اور سٹریٹجک توازن پر مبنی ہو گی۔

مزیدخبریں