ابھی حساب چکانا باقی ہے....

09:27 AM, 10 May, 2025

بھارت نے ۶ اور ۷ مئی کی رات کو پاکستان کے کم از کم سات مقامات پر میزائل حملہ کیا۔ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کے مطابق بھارتی فضائیہ کے لگ بھگ ۸۰ طیارے جن میں جدید ترین فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے اس حملے میں شریک ہوئے۔ بھارتی طیاروں نے رات کی تاریکی میں بہاولپور کے قریب احمد پور شرقیہ میں مسجد سبحان، مرید کے میں جماعت الدعوة کے مرکز کی مسجد، مظفر آباد میں مسجد بلال کو جہاں شہید کیا وہاں کوٹلی اور باغ آزاد کشمیر کے ساتھ سیالکوٹ کے شمال میں گاﺅں کوٹلی لوہاراں ، شکر گڑھ اور ناروال میں بھی کئی جگہوں کو نشانہ بنایا۔ بھارتی میزائل حملے میں ۳۱ بے گناہ شہری جن میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں شہید ہوئے اور ۵۶ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ بھارت نے میزائل حملے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ کے قریب نوسیری ڈیم کی بعض تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا۔ بھارت کواپنی اس جارحیت کی بڑی مہنگی قیمت ادا کرنا پڑی۔ اُس کے پانچ طیارے جن میں کم از کم دو یا تین فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل ہیں جہاں تباہی کا شکار ہوئے وہاں راجستھان میں اس کا ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ، مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب اس کی مہار بٹالین کا بٹالین ہیڈ کوارٹر اور لائن آف کنٹرول پر کئی چوکیاں تباہ ہوئیں۔
پاکستان نے بھارے کے میزائل حملے کے جواب میں بڑی نپی تُلی کارروائی کی۔ پاکستانی فضائیہ کے طیاروں نے اپنی فضائی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھارتی طیاروں کو جو اپنا پے لوڈ (اسلحہ وغیرہ) استعمال کر کے واپسی کی راہ اختیار کرنا چاہتے تھے اپنا نشانہ بنایا۔ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کے مطابق بھارت کے پانچ جنگی طیارے گرانے والے ہمارے شاہین ۱۰ طیارے بھی گرا سکتے تھے لیکن احتیاط سے کام لیا گیا۔ جمعرات اور جمعہ کی رات کو یہ سطور لکھی جا رہی ہیںتو اس وقت صورتِ حال انتہائی گمبھیر اور نازک ہے ۔ ہفتہ کو جب یہ سطور چھپیں گی تو اللہ جانے اس وقت تک حالات میں کتنی بڑی تبدیلی رُو نما ہو چکی ہو گی۔ تاہم بھارت کی طرف سے ننگی جارحیت کا ارتکاب ہی مسلسل جاری نہیں ہے بلکہ منفی پروپیگنڈہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ بھارت نے ۷ اور ۸ مئی کی رات اور بعد میں ۸ مئی کو دن کے اوقات میں پاکستان کے مختلف مقامات پر اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز کے حملے کیے۔ ان میں لاہور، کراچی، روالپنڈی، چکوال، بہاولپور، گوجرانوالہ، میانوالی، سندھ اور دوسرے مقامات شامل ہیں۔ جمعہ کی دوپہر تک پاکستان نے 77 ڈرونز مار گرائے۔ اسی دوران بھارت نے آدم 
پور کے اپنے اڈے سے چار میزائل (پرتھوی) بھی داغے۔ جن میں تین نے امر تسر میں ان کی اپنی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایک پاکستان میں کھاریاں کے قریب ڈنگہ کے مقام پر کھیتوں میں آن گرا۔ بھارت کی طرف سے یہ انتہائی کھلی جارحیت کے واقعات ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ جمعرات کی رات کو بھارت کی طرف سے یہ کھلم کھلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اور راجستھا ن سمیت ۱۵ مقامات پر میزائل حملے کیے ہیں۔ بھارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کا ایک F-16 طیارہ بھی مار گرایا ہے۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت یہ منفی پروپیگنڈہ کر کے صریحاً جھوٹ بول رہا ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ کیا دنیا بھارت کے اس جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عالمی رائے عامہ اکثر بھار ت کے منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتی ہے ۔ ماضی میں ہمیں کئی بار اس کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پھر بعض با اثر اسلامی ممالک کا پچھلے ایک دو عشروں سے پاک بھارت تنازعات میں ایک طرح کا غیر جانبدارانہ یا دوسرے لفظوں میں معذرت خواہانہ رویہ چلا آ رہا ہے، اس سے بھی بھارت کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے اور شاید اب بھی بھارت اسی امید میں ہے۔ اس وقت ایران اور سعودی عرب دونوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے کوشاں ہیں اور اُن کے وزرائے خارجہ بھارتی حکمرانوں سے بات چیت کرنے کے لیے بھارتی دارالحکومت دہلی میں موجود ہیں لیکن اس بات کی کم ہی توقع ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اُس کی کابینہ کے ارکان بالخصوص اس کے وزیرِ خارجہ جے شنکر اور وزیرِ داخلہ اُمیت شاہ جس طر ح اونچی ہواﺅں میں اُڑ رہے ہیں اور بڑھکیں مار رہے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں گے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بہتری کی صورت پیدا ہو سکے گی۔
بھارت کے اس منفی پروپیگنڈے پر کہ پاکستان نے راجستھان اور مقبوضہ کشمیر میں جموں سمیت ۱۵ مقامات کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے دنیا کس حد تک یقین کرتی ہے، اس بارے میں کوئی زیادہ امید افزا ئی کا اظہار نہیں کیا جا سکتا کہ جیسے اوپر کہا گیا ہے ہمیں اکثر عالمی طاقتوں کی طرف سے مایوس کُن رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ۱۹۹۹ءکی گرمیوں میں کارگِل کی معرکہ آرائی کے دوران ہم اس کا بُری طرح نشانہ بنے۔ البتہ جب ہماری عسکری قیادت یا فوجی حکمرانوں نے بھارت کو ننگی جارحیت سے باز رہنے کے لیے کُھلے پیغامات دئیے تو بھارت پر اس کا ضرور اثر ہوا۔ یہاں تفصیل میں جانے کا محل نہیں، مختصراً حوالہ دینا کافی ہو گا کہ فروری ۱۹۸۷ءمیں بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کی حکومت کے دوران بھارت براس ٹیک فوجی مشقوں کے نام پر اپنی دو لاکھ فوج پاکستان کی سرحدوں پر لے آیا۔ پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاءالحق بھارت اور پاکستان کے درمیان جے پور میں کھیلا جانے والا آخری ون ڈے میچ دیکھنے کے نام پر بھارتی دارالحکومت دہلی کے دورے پر جا پہنچے۔ واپسی پر جنرل ضیاءالحق نے بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے خبردار کیا کہ بھارت اگر پاکستان پر حملہ کرے گا تو پھر اُسے ایٹمی جنگ کی صورت میں ہولناک انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ اگلے ہی دن بھارتی فوجیں پاکستانی سرحد سے واپس جانا شروع ہو گئیں۔ 
۲۰۰۲ءمیں بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی کچھ ایسا ہی واقع پیش آیا ۔ بھارت اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد پر لے آیا تو جنرل پرویز مشرف نے ٹی وی اور ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے بھار ت کو واضح پیغام دیا کہ وہ کسی شرارت سے باز رہے ورنہ اسے بھیانک انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ اس کا نتیجہ بھی بھارت کی طرف سے فوجوں کی واپسی اور پسپائی کی صورت میں سامنے آیا۔ دیکھنا ہو گا کہ اب ۲۰۰۲ءکے رُبع صدی بعد بھارت کو اسی طرح کا پیغام دینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ معروضی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے بھارت کو اس طرح کا پیغام ملنا ہی نہیں چاہیے بلکہ اس پر عمل در آمد کے اشارے بھی سامنے آنے چاہئیں۔ پیغام تو میرے خیال میں چلا گیا کہ بدھ ۷ مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فوج کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ جب اور جہاں چاہے بھارتی جارحیت کے خلاف ضروری اقدامات کرے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اُسی دن قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں اور بعد میں شام کو قوم سے اپنے خطاب کے دوران اس بات کا اعادہ کیا کہ بے گناہ اور معصوم پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا اور بھارت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جمعرات کو فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارنہ اسحاق ڈار کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران اس پیغام کو دہرایا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان حملہ کرے گا اور نظر بھی آئے گا اور دنیا جان بھی لے گی۔ پاکستان کے اس پیغام پر عمل در آمد ہوتا ہے یا نہیں یا کب ہوتا ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس میں جتنی بھی تاخیر ہو گی وہ پاکستان کے حق میں نہیں ہو گی۔

مزیدخبریں