اسلام آباد/نیویارک :انڈس واٹرٹریٹی کے حوالے سے اجے بنگا دوراہے پر ہیں۔ عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی قیادت میں انڈس واٹر ٹریٹی کے مستقبل پر دوبارہ غور کے امکانات نے جنوبی ایشیا میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سکھ برادری کے بعض حلقوں میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ بنگا کی مذہبی شناخت اور بھارت کے ساتھ تعلقات ان کے فیصلوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 1960ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والا سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک تاریخی فریم ورک مہیا کرتا ہے، جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی تھی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے بعض منصوبے معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، اور عالمی بینک کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
اجے بنگا، جو سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ایسے وقت میں اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں جب پانی کے مسائل، بالخصوص پنجاب کے کسانوں کو درپیش قلتِ آب، ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ سکھ مذہب میں پانی کو روحانی اہمیت حاصل ہے اور سکھ مذہبی روایات میں پانی زندگی کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔
سماجی و مذہبی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا اجے بنگا اپنے عہدے کی غیرجانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے سکھ مت کی اخلاقی تعلیمات سے ہم آہنگ فیصلہ کر پائیں گے؟ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی بینک ثالث کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا ہے، تو اس کے اثرات نہ صرف ماحولیاتی اور زرعی نظام پر ہوں گے بلکہ خطے کی مذہبی ہم آہنگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم بنگا کے حالیہ بیانات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
سیاسی ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر عالمی بینک بھارت کی پالیسیوں کو غیر اعلانیہ طور پر تسلیم کرتا ہے، تو اس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی اقلیتوں، خاص طور پر سکھ کسانوں اور مذہبی برادری پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اجے بنگا عالمی ادارے کے تقاضوں کو ترجیح دیتے ہیں یا اپنی مذہبی شناخت اور خطے کے روحانی ورثے کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے کوئی متوازن راہ اپناتے ہیں۔