اسلام ایک پُرامن مذہب ہے جو ہمیشہ امن، عدل اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے لیکن جب دشمن امن کو پامال کرے، ظلم و ستم کرے اور انسانیت کے خلاف جارحیت پر اتر آئے، تو اسلام جہاد کی اجازت دیتا ہے تاکہ مظلوموں کی مدد کی جائے اور عدل کا قیام ممکن ہو۔ نبی کریمؐ نے اپنی پوری زندگی میں نہ صرف امن کو فروغ دیا بلکہ دفاعی جنگوں میں عملی قیادت بھی فرمائی۔ ان جنگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری، حکمت عملی اور اسلحہ ایک مکمل ضابطہ اور نمونہ ہے۔
نبی کریمؐکی جنگی تیاری نہایت منظم، حکیمانہ اور بروقت ہوتی تھی۔ آپؐ کسی بھی جنگ سے قبل مکمل مشاورت کرتے، صحابہ کرامؓ کی رائے لیتے اور جنگ کے تمام ممکنہ پہلوؤں پر غور کرتے۔ جنگ سے پہلے آپؐ دشمن کے حالات، مقام، تعداد اور اسلحہ کے بارے میں معلومات حاصل کرتے، جسے آج کی اصطلاح میں ’’انٹیلی جنس‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپؐ جنگی منصوبہ بندی کرتے اور فوج کی ترتیب، صف بندی اور سامانِ جنگ کی تیاری مکمل فرماتے۔
نبی کریمؐ نے مختلف جنگوں میں مختلف ہتھیار استعمال فرمائے، جن میں تلواریں، نیزے، تیر و کمان، زرہ، خود (لوہے کی ٹوپی)، ڈھال، گھوڑے، اونٹ اور دیگر سامان شامل تھے۔ ان اشیا کا استعمال نہ صرف دشمن کے مقابلے کے لیے تھا بلکہ دفاع کے لیے بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی تلواریں تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کی الگ شناخت اور خصوصیات تھیں: ’’ذوالفقار‘‘ ان کی سب سے مشہور تلوار تھی جو غزوہ بدر یا احد میں استعمال ہوئی۔ روایات کے مطابق یہ حضرت علیؓ کو بعد میں دی گئی۔ یہ تلوار دو دھار تھی اور اس کی ساخت دشمن پر کاری وار کے لیے موزوں تھی۔ ’’العضب‘‘ وہ تلوار تھی جو آپؐ نے بدر میں استعمال فرمائی۔ عضب کا مطلب ہے تیز دھار۔ ’’البتار، الحتف، الرسوب‘‘ بھی مختلف مواقع پر استعمال کی گئیں، جن کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ نبی کریمؐکے پاس متعدد زرہیں تھیں۔ آپؐ نے دفاع کے لیے زرہ کا استعمال فرمایا تاکہ جسم کو تیر یا تلوار کے وار سے بچایا جا سکے۔ غزوہ احد کے موقع پر آپؐ نے دو زرہیں زیب تن فرمائیں تا کہ زیادہ تحفظ حاصل ہو۔ آپؐ کے پاس ڈھال بھی تھی جسے دشمن کے حملے کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا۔ ڈھال عموماً گول یا بیضوی ہوتی تھی اور لوہے یا چمڑے سے تیار کی جاتی۔ رسول اللہؐ کے پاس نیزے بھی تھے۔ آپؐ کبھی کبھی نیزہ لے کر جنگ میں شریک ہوتے۔ نیزہ دشمن پر دور سے حملہ کرنے کا مؤثر ہتھیار تھا۔ آپؐ کے پاس تیر و کمان بھی موجود تھے۔ غزوہ احد اور خندق میں صحابہ کرامؓ نے ان کا استعمال بڑی مہارت سے کیا۔ خود رسول اللہؐ
نے بھی بعض مواقع پر تیر اندازی کی۔
جنگی تیاری میں سواری کا بہت اہم کردار ہوتا تھا۔ نبی کریمؐ نے مختلف جنگوں میں گھوڑے اور اونٹ استعمال فرمائے۔ آپؐ کے پاس کئی گھوڑے تھے جن کے نام بھی احادیث میں محفوظ ہیں۔ ’’سبحہ‘‘ رسول اللہؐ کا ایک مشہور گھوڑا تھا، جو بہت تیز دوڑتا تھا۔ ’’مرتجز‘‘ بھی ایک مشہور گھوڑا تھا، جس پر آپؐ نے غزوات میں سواری فرمائی۔ بعض غزوات میں آپؐ نے اونٹنی پر بھی سفر فرمایا، خاص طور پر لمبے سفر کے لیے۔ آپؐ کی اونٹنی کا نام قصوا تھا، جو بہت وفادار اور تیز رفتار تھی۔
نبی کریمؐ کی جنگی حکمت عملی نہایت دانشمندانہ ہوتی تھی۔ آپؐ دشمن کی چالوں کو پہلے سے سمجھ لیتے اور صحابہ کرامؓ کو مناسب ہدایات دیتے۔ غزوہ بدر میں پانی کے کنوؤں پر قبضہ کرنا ایک عظیم حکمت عملی تھی۔غزوہ خندق میں مدینہ کے گرد خندق کھودنا ایک انقلابی فیصلہ تھا، جو دشمن کے لیے حیرت کا باعث بنا۔ غزوہ احد میں آپؐ نے پہاڑی مقام پر تیر انداز مقرر فرمائے تاکہ دشمن کا پشت سے حملہ روکا جا سکے، اگرچہ بعد میں اس حکم کی خلاف ورزی نے نقصان پہنچایا۔
نبی کریمؐکی جنگی تیاری، اسلحہ اور حکمت عملی محض دشمن پر فتح کے لیے نہ تھی بلکہ اسلام کے دفاع، امن کے قیام اور عدل کے نفاذ کے لیے تھی۔ آپؐ نے جنگ میں بھی انسانیت، رحم دلی اور نظم و ضبط کو مقدم رکھا۔ ان کی ہر جنگ ایک مکمل ضابطہ اخلاق، فہم و فراست، اور مثالی قیادت کا نمونہ ہے، جس سے آج بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ رسول اللہؐ کی سیرت طیبہ دفاعی تیاری کا عملی نمونہ ہے۔ آپؐ نے اپنے ذاتی اخراجات محدود رکھے، لیکن تلواریں، زرہیں، گھوڑے اور دیگر دفاعی وسائل مہیا کیے۔ اپنی وفات کے وقت بھی 9 تلواریں اور دیگر جنگی سامان آپؓ کے پاس موجود تھا، حالانکہ آپؓ کے گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھی، تاکہ گھر والوں کے لیے کچھ خوراک کا انتظام ہو سکے، لیکن دفاعی سامان محفوظ رکھا۔ ریاست اور فرد دونوں کو دفاع کے لیے قربانی دینی چاہیے۔ دفاعی سامان تیار کرنا، فوج کو تربیت دینا، سرحدوں کی حفاظت اور جدید وسائل مہیا کرنا اسلامی نقط نظر سے نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ آج کے دور میں، جب امتِ مسلمہ کو مختلف اطراف سے خطرات لاحق ہیں، دفاعی تیاری مزید اہم ہو جاتی ہے۔ صرف دینی جوش و خطابت کافی نہیں، بلکہ عملی تیاری، عسکری تحقیق، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور وسائل کی ترقی ضروری ہے۔ اگر ایک مسلم ریاست اپنی حفاظت کے لیے جدید اسلحہ، ٹریننگ اور دفاعی اتحاد نہیں رکھتی، تو وہ دشمن کے رحم و کرم پر رہ جائے گی۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کو پہچانے اور دینی، فکری اور عسکری میدان میں مکمل تیاری اختیار کرے تاکہ اسلام کی سربلندی، امت کی حفاظت اور انسانیت کا امن قائم ہو سکے۔
نبی کریمؐ کی جنگ کے لیے تیاری اور اسلحہ
09:25 AM, 9 May, 2025