22اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والی دہشتگردی کی بھرپور مذمت پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک نے کی لیکن بھارت میں ہونے والی دہشتگردی کے فوری بعد بغیر کسی تحقیق کے بھارت نے پاکستان پر اس کا الزام دھر دیا اور ہٹ دھرمی ٗضد اور بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی کے زعم میں غرقاب بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب کو پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کرتے ہوئے 6 مقامات پر حملہ کردیا ۔بزدل دشمن نے اپنے ماضی کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں پاکستان کے معصوم اور نہتے شہریوں پر بارود برسا دیا ۔ جس سے 31 شہری شہید اور 57 زخمی ہوگئے ۔بہاولپور میں ہونے والا حملہ مسجد سبحان اللہ پر کیا گیا جس میں شہید ہونے والوں کی تعداد 14 بتائی گئی جن میں دو اور تین سال کے بچے بھی شامل تھے ۔مریدکے میں واقع پبلک ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ سینٹر اور اُس سے ملحقہ مسجد پر حملہ کیا گیا جس سے تین شہادتیں ہوئیں ۔ بھارت نے اس جگہ کو سب سے پہلے الزام لگاتے ہوئے لشکرِ طیبہ کا مرکز قرارد دیا تو پاکستان نے لشکرِ طیبہ پر پابندی عائد کردی ۔بعد ازاں یہ جماعت الدعوہ کے زیر استعمال ہوا تو بھارت کو ایک بار پھر اِس سے تکلیف ہونا شروع ہوئی تو جماعت الدعوہ پر بھی پابندی عائد کردی گئی اور اِس کانظم و نسق فلاح انسانیت نے سنبھال لیا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی ایک بار پھر منظرِ عام پر آئی اور اُس نے دنیا بھرمیں چیخ و پکار شروع کردی تو حکومت پاکستان نے فلاح انسانیت پر پابندی عائد کرکے اس کا نظم و نسق خود سنبھال لیا ۔بہاولپور کی جس مسجد کو مولانا مسعود اظہر سے منسوب کیا جا رہا تھا اُس کا سارا نظم بھی مدت ہوئی مقامی افراد اور حکومتی سرپرستی میں چل رہا تھا لیکن پہلگام کے واقعہ کے بعد تو ایسا محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ بھارت ہر قیمت پر پاکستان سے محاذ آرائی چاہتا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ بہاولپور سے لے کر مرید کے اور مریدکے سے لے کر کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر مقبوضہ کشمیر کی جانب سے پاکستان او ر کشمیر کے نہتے شہریوں پر بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے بارودکی بارش شروع کردی گئی ۔ جہاں دنیا نے بھارت کے اس مکروہ فعل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے وہیں فوج نے بھی پاکستان کی خود مختاری پر حملہ کرنے والوں کو فوری جواب دیتے ہوئے بھارت کے جدید 3رافیل طیارے جن پر بھارت بہت اترا رہا تھا ٗرزق ِ خاک بنا دئیے ۔ اس کے علاوہ ایس یو 30 اور مگ 29 کے علاوہ 7 ڈروان مار گرائے اور 2 قبضے میں لے لئے ۔ بھارت کی ناپاک جسارت کے فوری بعد دنیا نے دیکھا کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارتی فوجی چوکیوں سے صرف دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے تھے اور بھارتی سورمے ٗ معصوم پاکستانی بچوں ٗ عورتوں ٗ جوانوں اور بزرگوں کے خون میں رنگے سرخ ہاتھوں میں ’’امن ‘‘ کے سفید پرچم لئے رحم کی بھیک مانگ رہے تھے ۔
دنیا کو مل کر سوچنا چاہیے کہ کیا مودی مکمل پاگل ہو چکا ہے ؟ جس نے پاکستان پر حملے کرتے ہوئے یہ سوچا ہی نہیں کہ پاکستانی ایک زندہ قوم، بہادر فوج رکھنے کے علاوہ ایٹمی طاقت بھی ہے جو دنیا کی جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی سے لیس ہے ۔بھارت نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ہمارے شہریوں اور معصوم بچے جنہوں نے ابھی زندگی کی کئی بہاریں دیکھنا تھیں انہیں شہید کرنے کے بعد خود محفوظ رہے گا اور ہم خاموش بیٹھ کر پھر ہنسی خوشی رہنا شروع کردیں گے۔ یہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے جس کاآغاز بھارت نے کیا ہے لیکن ابھی ہم نے صرف بھارت کو یہ بتایا ہے کہ ہم اپنا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ابھی بھارت کو پاکستان پر حملے کا قرض ادا کرنا ہے اور اِ س کا مقام اور وقت پاکستان کی سیاسی قیادت اور بہادر افواج مل کر طے کریں گے ۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ’’ جرم ِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘ کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔پاکستانی قوم اس حملے کے نتیجہ میں ایک ہو کر اپنی فوج کی پشت پر کھڑی ہے اور اپنے شہریوں کے قصاص کیلئے ہر وقت تیار اور افواج ِ پاکستان کے شانہ بشانہ ہے ۔بھارت کی اس بزدلانہ کارروائی کا جواب دئیے بغیر اب آگے بڑھنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ۔افواجِ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کو بیرونی اور اندرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔بھارت کے حملے کادفاع تو ہم نے کر لیا لیکن ہمارے حملے کا دفاع ابھی بھارت نے کرنا ہے لیکن اس سے پہلے کہیں ضروری ہے کہ اس حملے کے دوران جو لوگ کتے کی طرح بھونکتے ہوئے بھارتی بیانیے کا ساتھ دے رہے تھے صرف اُن کے چینل یا اکائونٹ بند کرنا کافی نہیں بلکہ اُن کو بھی وہی جواب ملناچاہیے جو ہم نے بھارت کو دیا ہے ۔ اگر بھارت اور پاکستان میں چھپے دشمنوں کا بیانیہ ایک ہے تو اِن کا انجام بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔میں پاکستان کے تمام محب وطن سیاستدانوں کو سلیوٹ کرتا ہوں جنہوں نے یک زبان ہو کر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور پاکستان کے طول و عرض میں افواج ِ پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے حوالے سے ریلیاں نکالیں اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر سرحد کے اُس پار یہ پیغام پہنچایا کہ مودی کے مکروہ خیالات کی تکمیل کیلئے پاکستان کی زمین ہمیشہ غیر موزوں رہے گی ۔ میں برادرم عبد العلیم خان وفاقی وزیر مو اصلات کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس موقع پر انتہائی جرأت سے اپنا پیغام ریکارڈ کرایا اور افواج پاکستان
کے ساتھ آخری دم تک کھڑے رہنے کے عزم کو قوم کے سامنے دہرایا بلکہ عبد العلیم خان نے ہنگامی بنیادوں پر صدر آئی پی پی پنجاب رانا نذیر اور جنرل سیکرٹری پنجاب کو احکامات صادر فرمائے کہ افواج پاکستان کی حمایت میں ایک بھرپور ریلی کا انعقاد کیا جائے ۔جنرل سیکرٹری پنجاب ایم پی اے شعیب صدیقی کی قیادت میں آئی پی پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے نہ صرف اس ریلی میں بدھ کے روز شرکت کی بلکہ مسجد شہداء سے چیئرنگ کراس تک شدید نعرے بازی کی ۔ شعیب صدیقی نے پنجاب اسمبلی میں بھارت کے بزدلانہ حملے کی مذمتی قرارد اد بھی جمع کرائی جس میں افواج پاکستان کی شجاعت اور بروقت بھارتی حملے کا جوا ب دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا ۔ شعیب صدیقی نے قرارداد میں چائنہ اور امریکہ کا پاکستان پر رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرنے کی مذمت کرنے پر خیر مقدم کیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچستان میں بھارتی دہشتگردوں پر زمین تنگ ہونے پر بھارت نے ڈپریشن میں پاکستان کے خلاف یہ قدم اٹھایا ہے جس کا خمیازہ تو اُسے ہر حال میں بھگتنا پڑے گا۔
بھارت کے قاتل ہاتھ اور امن کا سفید جھنڈا
09:14 AM, 9 May, 2025