مریم نواز بن گئی بیوہ اور یتیم بچوں کی ڈھال

09:04 AM, 9 Mar, 2026

دو سال میں پنجاب حکومت 100 سے زیادہ منصوبے شروع کر چکی ہے ان میں 50 سے زیادہ مکمل بھی ہو چکے ہیں۔ پنجاب حکومت کا ہر منصوبہ پہلے منصوبے سے منفرد ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت کے منصوبوں کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کسی بھی منصوبے کا افتتاح تب کرتی ہیں جب اس سے عام آدمی کو فائدہ ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ اب وہ دور گزر گیا ہے جب حکومت کے منصوبے فائلوں کی نذر ہوتے تھے۔ مریم نواز حقیقت پسند وزیراعلیٰ ہیں وہ ماضی کی حکومت کے سیاسی نعروں اور خیالی پلاؤ کو سرے سے ہی ناپسند کرتی ہیں۔ اسی لیے مریم نواز کسی بھی عوامی ریلیف کے منصوبوں کی ایک ایک چیز کا خود مشاہدہ کرتی ہیں پھر اس کے ثمرات عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔ فلاحی ریاست وہی ہوتی ہے جس میں حقیقت پر مبنی عوام کے مسائل حل ہو رہے ہوں اور ان کو ریلیف مل رہا ہو۔ مریم نواز نے اپنے پہلے دو سال میں کچھ زبردست انقلابی اقدامات کیے ہیں جن کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو ہو رہا ہے۔ ان میں مریم نواز راشن کارڈ، مینارٹی کارڈ اور ہمت کارڈ ہیں ان سے آج پنجاب کے ہزاروں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اب مریم نواز نے بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کے لیے رحمت کارڈ شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ آپ یقین مانیں یہ پنجاب حکومت کا بہت ہی قابل تعریف پروگرام ہے۔ آپ کے ارد گرد ایسی کئی سفید پوش بیوہ خواتین اور یتیم بچے ہوں گے جو بمشکل اپنا گھر چلا رہے ہیں اور کئی یتیم بچے مالی وسائل کی پریشانی کی وجہ سے اپنی تعلیم بھی جاری نہیں رکھ سکتے جس کی وجہ سے ان کو چائلڈ لیبر کی طرف آنا پڑتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے نئے پروگرام رحمت کارڈ سے بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے کی مالی امداد ملے گی جبکہ یتیم بچوں کو 25، 25 ہزار ملا کریں گے۔ پہلے مرحلے میں پنجاب حکومت رحمت کارڈ کے ذریعے 50 ہزار سے زائد بے آسرا گھرانوں کی معاشی سرپرست بنے گی۔ اس پروگرام کی منظوری کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ہم کسی کو خیرات نہیں دے رہے بلکہ ان بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کو ریاستی سرپرستی میں لے رہے ہیں۔ ہر بچے کا حق ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے اور اس رحمت کارڈ کے ذریعے یہ یتیم بچے اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکیں گے۔ اس پروگرام کو عید کے بعد باقاعدہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس میں رجسٹریشن کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن بنائی جائے گی ویب پورٹل بھی ہو گا اور محکمہ زکوٰۃ و عشر کے آفس میں بھی براہ راست درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے پنجاب کے وسائل پر ہر فرد کا برابر حق ہے اور حق داروں تک حق پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ پنجاب ایسا صوبہ ہے جہاں ہر فرد کا حکومت خود خیال رکھتی ہے۔ پنجاب حکومت کے اس پروگرام کے ذریعے بیوہ خواتین اور یتیم بچے مالی خود مختاری کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکیں گے۔ اس پروگرام کو لیڈ صوبائی معاون خصوصی راشد نصراللہ کریں گے۔ راشد نصراللہ ورکر ہیں انتہائی ذمہ دار اور محنتی نوجوان ہیں ان کو یہ میاں نواز شریف کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ذمہ داریاں دی گئی۔ مریم نواز بھی ان کے کام سے بہت متاثر ہیں۔ راشد نصر اللہ گراؤنڈ لیول پر کام کرنے والے نوجوان معاون خصوصی ہیں ان کو عام آدمی کے حالات زندگی اور ان کے مسائل کا بخوبی علم ہے۔ وہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے اور حقداروں تک اس کا حق پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عید کے بعد اس پروگرام کو باقاعدہ شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ میرٹ اور گڈ گورننس کو ترجیح دیتی ہیں ان کے کسی بھی منصوبے میں سفارش ناقابل قبول ہے۔ الیکٹرک بائیکس ہوں، ای ٹیکسی سکیم ہو، سکالرشپ، لیپ ٹاپ کی تقسیم ہو، آسان کاروبار ہو، گرین ٹریکٹر، سپر سیڈر کی تقسیم ہو ایسے درجنوں فلاحی منصوبے ہیں جن کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ان سب میں تمام لوگوں کو میرٹ کی بنیاد پر ریلیف ملا ہے۔ سب سے بڑھ کر اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنی چھت فراہم کی گئی ہے۔ ان میں کسی ایک کو بھی سفارش کی بنیاد پر ریلیف نہیں ملا تمام لوگوں نے آن لائن اپلائی کیا جو میرٹ پر پورا اترا، اس کو ریلیف ملا۔ مریم نواز کے طرز حکومت اور ان کے ریلیف پروگرام کی وجہ سے ہی باقی صوبوں میں بھی ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ اب باقی صوبوں کے لوگ بھی اپنے حکمرانوں سے سوال کر رہے ہیں اگر پنجاب میں ترقی ہو رہی ہے لوگوں کو ریلیف مل رہا ہے تو ہمارے یہاں ترقی کیوں نہیں ہو رہی، ہمیں ریلیف کیوں نہیں مل رہا۔ مریم نواز نے لوگوں کو بولنا اور سوال کرنا سکھایا ہے کہ انکو انکا حق ملنا چاہیے۔ مریم نواز آج نوجوان طبقے کی اسی لیے پسندیدہ وزیر اعلیٰ بن چکی ہیں کیونکہ وہ نوجوانوں کو اپنے ہر پروگرام میں ترجیح دیتے ہیں شاید اسی لیے انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ 2026 کا سال نوجوانوں کا سال ہے۔

مزیدخبریں