امریکا اور اسرائیل کی گریٹ گیم، عالم اسلام کی تباہی کا گھنائونا منصوبہ، اسلامی ممالک طاغوتی قوتوں کے نرغے میں آ گئے، مسلمان مسلمانوں پر حملے کر کے مشترکہ دشمن کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ دعا ہی کی جا سکتی ہے، قرآنی حکم ’’اے ایمان والو یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں‘‘۔ ’’ستیزہ کار ازل سے رہا تا امروز، چراغ مصطفوی سے شرابور بولہبی‘‘ مشترکہ دشمن صدیوں کی شکست کا بدلہ چکانے کے لیے پوری قوت سے اسلامی اور عرب ممالک پر حملہ آور ہے، ہم تقسیم وہ متحد، دشمن سرحدوں پر آ پہنچا ہماری آنکھیں بند ہیں، فکریہ لمحہ، پوری دنیا میں یہودیوں کی تعداد سوا ڈیڑھ کروڑ اسرائیل میں صرف 67 لاکھ لیکن عیسائی سپر پاور کے ساتھ مل کر سوا ارب سے زائد مسلمانوں کو مٹانے کے لیے سرگرم، ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی، ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگ ختم نہ ہوئی تو اللہ رحم کرے بڑی تباہی ہو گی۔ امریکی بیانات کے مطابق جنگ چار، آٹھ ہفتے یا پھر ستمبر تک جاری رہ سکتی ہے۔ کہنے والے کے منہ میں خاک ایسا ہوا تو خدانخواستہ کچھ باقی نہ بچے گا۔ عالم اسلام کی تباہی یہود و نصاریٰ کی اولین ترجیح واشنگٹن اور یروشلم کے خطرناک منصوبہ پر عملدرآمد جاری، امریکی صدر ٹرمپ نے یہودیوں سے کیے وعدوں کے مطابق غزہ کو کھنڈر بنانے اور 77 ہزار فلسطینیوں کے قبرستان میں تبدیل کرنے کے بعد ایران میں تباہی کا نیا چیپٹر کھول دیا۔ تاریخ صدر ٹرمپ کو ہٹلر دوئم کے نام سے یاد رکھے گی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا بہانہ، رجیم چینج پر بضد، 8 کروڑ سے زائد آبادی کے مسلم ملک ایران کو کھنڈر بنانے کے لیے پُر عزم، جنگ شروع ہوتے ہی 30 بموں کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کی اہلیہ، داماد، بہو، آرمی چیف، وزیر دفاع سمیت 48 افراد پر مشتمل پوری قیادت شہید، ایک ہفتہ کے دوران ایران کے 1332 شہری شہید، ہزاروں زخمی، شہدا میں 168 طالبات، 4 ماہ کی بچی سے لے کر 94 سال کے بزرگ شہری شامل، میزائل اور بم عمر اور نام نہیں پوچھتے، ایران کے12 شہروں میں 3 ہزار 90 رہائشی عمارتیں، 10 ہسپتال اور سکول ملبہ کا ڈھیر بن گئے۔ میزائلوں اور بموں کی بارش جاری، 8 عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر تابر توڑ حملے، ایک ہی سوال کیا رجیم چینج کا مقصد پورا ہو گیا؟ ہرگز نہیں، ایرانی قیادت مستحکم ملک چل رہا ہے۔ معتبر صحافی جون حسین کے مطابق ایرانی عوام میں خوف و ہراس نام کو نہیں بازار کھلے ہیں گروسری کی دکانیں خریداروں سے بھری ہیں۔ آئی اے ای اے کے سربراہ گروسی نے ایران کی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی بھی تردید کر دی کوئی ثبوت نہیں ملے، ٹرمپ کے دعوے اپنی جگہ لیکن ایران ختم نہیں ہوا، اس نے اسرائیل کو نشانے پر لیا اور حیفہ، یروشلم بیت شمیس اور دیگر شہروں پر اپنے میزائل برسائے کہ دنیا بھر میں نفرت مذہبی عناد اور اسلام دشمنی کی علامت اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اپنے خاندان اور پوری آبادی سمیت بنکروں میں پناہ لینا پڑی، یاہو کئی روز سے منظر عام پر نہیں اہلیہ کی ہلاکت کی خبریں بھی چل رہی ہیں، روسی ٹی وی کے مطابق تل ابیب پر ایرانی میزائلوں کے تابڑ توڑ حملوں سے متعدد یہودی اور 500 سے زائد امریکی ہلاک ہوئے ہیں، ایران کے کلسٹر بم نے یاہو اور ٹرمپ کی نیندیں اڑا دی ہیں امریکی عوام اس بے مقصد جنگ کے مخالف لیکن بے نتھے بیلوں کو روکنے سے قاصر ہیں امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملوں سے اربوں ڈالر کے نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، لیکن ضد اور انا انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کر لیتی ہیں۔ بادیٔ النظر میں امریکا کے مقاصد کیا ہیں؟ ایران کی دفاعی قوت ختم کر کے اس کے ٹکڑے کرنا، لیبیا، مصر اور عراق کی طرح من پسند حکومت قائم کرنا تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے غنڈہ ٹیکس کی وصولی اور دنیا میں 47 فیصد ایرانی تیل کے ذخائر پر بلا شرکت غیرے قبضہ کیا جا سکے۔ ایرانی اپنے نظریہ اور عقیدے کی بنا پر اب تک متحد ہیں۔ سپریم لیڈر کی شہادت پر انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر جس عقیدت اور جذبات کا مظاہرہ کیا ہے اس نے امریکی اور لے پالک اسرائیلی لیڈروں کے خواب چکنا چور کر دئیے ہیں، جنگ طویل ہوئی اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی طرح یورپی ممالک صدر ٹرمپ کی تجارت بند کرنے کی دھمکیوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہو کر جنگ میں شامل ہو گئے تو تباہی کا اندازہ لگانا مشکل ہو جائے گا۔ تاہم اس مرحلہ پر ایک امریکی سینیٹر لینڈسے گراہم کے انکشاف نے جنگ کے مقاصد واضح کر دئیے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی جنگ ہے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی جنگ، دفاعی تجزیہ کار اسے صلیبی جنگ کا نام بھی دے رہے ہیں، جس میں عیسائی اپنے 26 ہزار 523 فرقوں کے باوجود اس ایک نکتہ پر متفق ہیں کہ یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا جائے، صدر ٹرمپ بھی اسی نظریہ کو ہوا دے رہے ہیں، انہوں نے گزشتہ جمعرات کو با اثر پادریوں کو اوول آفس میں طلب کر کے ان کی آشیرواد لی، مذہبی پیشوائوں نے صدر کے سر اور کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ان کی کامیابی کے لیے دعائیں پڑھیں، مسلم ممالک اب تک تقسیم ہیں خلیجی اور عرب ریاستوں پر ایرانی حملوں نے اختلافات کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔ موساد کے ایجنٹ اس دشمنی کو ہوا دے رہے ہیں، غنیمت ہے کہ یہ ممالک صرف ایرانی میزائلوں کو تباہ کر رہے ہیں جوابی حملے نہیں کر رہے ان ممالک میں امریکی اڈے ایرانی حملوں کی بنیادی وجہ ہیں لیکن اپنی اپنی مجبوری ہے امریکہ اس مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
پاکستان نے اس جنگ میں بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا ہے ہماری حکومت نے نہ صرف ایران پر حملوں کی مذمت کی بلکہ ایران اور سعودی عرب میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور ایران کی جانب سے سعودیہ پر مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی پوری توجہ آپریشن غضب للحق کے تحت خوارج اور ان کی سہولت کاروں کے مکمل خاتمہ پر مرکوز ہے۔ افغانستان پر فضائی حملوں نے خوارج کی کمر توڑ دی ہے اور ان کی سہولت کار طالبان حکومت کو اس قدر خوفزدہ کر دیا ہے کہ وہ دارالحکومت کابل سے فرار ہو کر بامیان صوبہ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ تاہم پاکستان آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے تیل کے بحران سے متاثر ہوا ہے اور حکومت نے غالباً ایک ہفتہ تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55.55 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ جس سے عوام انتہائی پریشان ہیں۔ عید الفطر کی آمد آمد ہے ایسے میں عوام کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کلسٹر بم کی طرح سروں پر گرا ہے۔
صلیبی جنگ، ہٹلر دوئم، آپریشن غضب للحق
09:03 AM, 9 Mar, 2026