میں یہ نہیں کہتا ثاقب چدھڑ قصور وار نہیں، اس کا سب سے بڑا قصور یہ ہے وہ عورت نہیں ہے، یہ معاشرہ بڑا”زنان پسند“ ہے، عورت کارڈ یہاں آج سے نہیں کھیلا جا رہا ، اب بھی ایک مرد نہیں ہارا عورت کارڈ جیتا ہے، ہماری کچھ عورتوں کو جو حقوق ہمارے دین اسلام نے نہیں دئیے ہم نے وہ بھی انہیں دے دئیے وہ پھر بھی خوش نہیں ہیں، پہلے وہ صرف مردوں کی برابری چاہتی تھیں، اب ان سے آگے نکلنا چاہتی ہیں، ایڑی والی ج±وتی بھی وہ شاید مردوں کے برابر آنے کے لئے پہنتی ہیں ، مرد کی برابری کا انہیں بڑا شوق ہے مگر دوسری طرف مردوں کی طرح ا±ن میں سے کچھ عورتوں کی جب داڑھی مونچھیں نکل آتی ہیں انہیں ختم کروانے وہ فورآ بیوٹی پارلر بھاگتی ہیں ، مہنگی مہنگی کریمیں لگا کر مرد کی اس برابری سے بچنے کی وہ پوری کوشش کرتی ہیں، پہلے میاں بیوی کے رشتے میں ایک لحاظ ہوتا تھا۔ اس وجہ سے خلع اور طلاق کی شرح بہت کم ہوتی تھی، اب اکثر بیویاں اپنے شوہروں کے برابر آنے میں کسی لحاظ کو خاطر میں نہیں لاتیں ، ایک شوہر نے اپنی بیوی سے کہا ”دیکھو بیگم تم روز روز مجھ سے لڑا نہ کرو، ابھی کل ہی تم مجھ سے لڑی ہو اور میرے دوست امجد کی بیوی آج میرے خواب میں آگئی ہے“۔ بیوی بولی ”اکیلی ہی آئی ہوگی“ ۔شوہر نے پوچھا کیا مطلب ؟ وہ بولی ”کیونکہ امجد تو رات کو میرے خواب میں تھا“، پاکستان میں عورتوں کو اندھا د±ھند جو حقوق حاصل ہوگئے ہیں میرا اپنا جی چاہتا ہے اپنی جنس تبدیل کروا کے اپنا کوئی ثاقب چدھڑ ڈھونڈ لوں، این سی سی آئی نے ا±س کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے ،ممکن ہے شواہد اتنے مضبوط ہوں ایف آئی آر درج کرنے کے سوا کوئی چارا نہ رہاہو۔ ہمارے اداروں نے قانوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہوتا ہے، بعض کیسز میں بظاہر دونوں فریق قصوروار نظر آتے ہیں، ایک فریق صرف کمزور شواہد کی بنیاد پر بچ جاتا ہے، ثاقب چدھڑ کی جانب سے اپنی سابقہ محبوبہ یا معشوقہ پر صرف ا±س کے خرچے یا نخرے اٹھانے کے الزامات لگائے گئے ہیں ، ظاہر ہے چار پانچ برسوں تک یہ نخرے خرچے یا کچھ اعضاءوغیرہ مفت میں تو نہیں اٹھائے گئے ہوں گے۔ وہ بیچارا اس کی تفصیل بھی نہیں بتاسکتا ورنہ ایک اور مقدمہ اس پر بن سکتا ہے جو این سی سی آئی کے مقدمے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوگا۔ این سی سی آئی کے مقدمے میں ممکن ہے وہ چھوٹ جائے جیسے پہلے بھی اکثر وہ جلدی چھوٹ جاتا ہے ،لیکن اگر خرچے یا نخرے وغیرہ اٹھانے کی وجوہات پر کوئی مقدمہ اس پر بنا اس کا چھوٹنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ اس کے لئے بہتر اب یہی ہے اپنی زبان بند رکھے جو پتہ نہیں کہاں کہاں وہ باہر نکال دیتا ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کے لئے اپنے دوست کی بیٹی کا رشتہ طے کر کے گھر پہنچا۔ اس نے دیکھا اس کے بیٹے نے گھر پر اپنی گرل فرینڈ بلا رکھی تھی، باپ نے دونوں کو جس حالت میں دیکھا وہ فوراً اپنے دوست کے پاس واپس پہنچا ۔ اس سے کہنے لگا”میں اپنے بیٹے کی شادی تمہاری بیٹی سے نہیں کرسکتا کیونکہ میرا بیٹا کہیں اور زبان دے بیٹھا ہے“۔ ثاقب چدھڑ سے کہیں نہ کہیں ضرور غلطی ہوئی ہے کہ اس کی ”پکی پکی معشوق“ اس چھوڑ کر ایک ایسے شخص کے ساتھ بس گئی جو مال و زر اور بظاہر دیگر کئی حوالوں سے ثاقب چدھڑ سے بہت کمزور دیکھائی دیتا ہے،حالانکہ کچھ عورتوں کی پہلی ترجیح ہوتی ہی مال و زر ہے ،ثاقب چدھڑ شاید یہ حقیقت سمجھنے سے بھی قاصر رہا قبضے زمینوں پر ہوتے ہیں عورتوں پر نہیں ہوتے، پیسوں سے گردے خریدے جاسکتے ہیں دل نہیں خریدے جاسکتے، کچھ عورتوں کی ایک خاص نفسیات ہوتی ہے۔”غیر گھریلو عورتوں“ کے معاملات ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی عورت کو کوئی شخص اپنے گھر کی عورت یعنی اپنی بیوی بنانا چاہے اس کے لئے ایک خاص طریقہ کار یا حکمت عملی اپنانا پڑتی ہے جس کے بعد وہ عورت اپنا چاہے کتنا نقصان کر لے اپنے شوہر سے الگ نہیں ہوتی۔ ہمارے ایک جاننے والے کی تین بیویاں تھیں، ایک شادی اس نے بازار حسن کی رہائشی عورت سے کی تھی , پھر وہ شدید بیمار ہوگیا ، بیماری کی اس حالت میں صرف وہی بیوی اس کے ساتھ رھی جو وہ بازار حسن سے بیاہ کر لایا تھا ۔ باقی دونوں ا±سے چھوڑ کر چلی گئیں ، مومنہ اقبال کو چاہئے اگر وہ حقیقی معنوں میں اپنی سابقہ اے ٹی ایم مشین ثاقب چدھڑ کو کوئی سبق سیکھانا چاھتی ہے پھر اپنے تازہ ترین شوہر سے ہر حال میں اب وہ نبھاہ کرے ، ایک طلاق وہ پہلے لے چکی ہیں ۔ یہ”دھندہ“ مستقل طور پر اب بند ھونا چاہئے ، یہ نہ ہو آئندہ ایسے ہی ان کے کسی عمل سے یہ ثابت ہوجائے یہ عورت اتنے کپڑے نہیں بدلتی جتنے شوہر بدلتی ھے۔ ثاقب چدھڑ کے لئے اصل سزا ، پچھتاوا یا سبق یہ ہوگا ا±س کی سابقہ معشوقہ اب کسی کی وفادار بیوی ہے، ورنہ جو کیس این سی سی اے کے ذریعے ا±س پر بنا ہے وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کا صرف اتنا ہی نقصان ہوگا کہ جو سیاسی بھرم اپنے حلقے کے لوگوں میں یا اپنے یاروں دوستوں و عزیزوں میں ا±س نے بنا رکھا تھا وہ وقتی طور پر کمزور پڑ جائے گا ،لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے جو شخص سرکاری ایم پی اے ہوتے ہوئے اپنا چھوٹا سا ایک مسئلہ مینج یا حل نہیں کرسکا وہ کسی اور کے مسئلے کیا حل کرے گا ؟ مجھے اس پر بھی حیرت ہے جب ثاقب چدھڑ نے انتہائی قیمتی گاڑیاں رکھی ہوئی تھیں پھر ایک ٹیکسی رکھنے کی اسے کیا ضرورت تھی ؟ اور اگر رکھ ہی لی تھی پھر ایسے حالات پیدا نہ کرتا اس ٹیکسی کا انجن کسی اور کو اوورہال کرنا پڑتا، اسے چاہئے آئندہ اپنے شوق صرف اپنی ذاتی بیویوں، گاڑیوں اور گھوڑیوں تک محدود رکھے، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ کوئی سیاسی غلطی کر بیٹھا ہے۔ ممکن ہے کہیں بیٹھ کر اس نے کوئی بات اپنی سابقہ جماعت یا سابقہ لیڈر کے حق میں کر دی ہو جو سسٹم چلانے والوں تک پہنچ گئی ہو جس کے نتیجے میں ایک ایسے کیس میں اسے الجھا یا پھنسا دیا گیا ہے جسے ایک عام آدمی بڑی آسانی سے مینج کر سکتا تھا سرکاری ایم پی اے کے لئے مینج کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ ثاقب چدھڑ مومنہ اقبال پر خرچ کئے ہوئے کروڑوں روپے بھول جائے گا مگر وہ ”انگلی“ وہ کیسے بھولے گا جو مومنہ کے شوہر , بھائی و دیگر عزیزوں نے شادی پر اسے دکھائیں ؟
عشق برائے خرید و فروخت
09:10 AM, 9 Jun, 2026