پی آئی اے کو خریدنے والے کنسورشیم کے سربراہ اور معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ 15 جون سے پی آئی اے کا انتظام سنبھالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پی آئی اے کو دوبارہ ایک فعال ، مضبوط اور منافع بخش ائیر لائن بنانا اُن کے لئے سب سے اہم ہے۔ اس کے لئے اگلے تین سے چھ ماہ کے دوران پی آئی اے کی نئی اُڑان ، بیڑے میں نئے طیاروں کا شامل کرنا، گراﺅنڈ طیاروں کی بحالی اور عالمی روٹس کی واپسی ان کی ترجیح ہو گی۔ جناب عارف حبیب کے یہ خیالات سونے میں تولے جانے کے قابل ہیں۔ اللہ کرے اُن کی زبان مبارک ہو اور پی آئی اے اُن کے زیرِ انتظام دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام ہی حاصل نہ کر لے بلکہ باکمال لوگ، لاجواب پرواز کے اپنے دیرینہ اور قابلِ فخر لوگو پر بھی پورا اُتر سکے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پی آئی اے جیسے ادارے ماضی میں پاکستان کی عزت، سربلندی اور فخر کا باعث رہے ہیں۔ پی آئی اے جسے پاکستان کی قومی پرچم بردار فضائی کمپنی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، سچی بات ہے میرے جیسے لوگوں کے لئے ایک طرح کا رومانس رہی ہے۔ اس کے حوالے سے اپنی ذہن کے نہاں خانے میں موجود یادوں کو کریدوں تو پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے وسط اور اُس کے بعد کے سالوں سے اس کے طیاروں کی گھن گرج، اس کے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک نئی منازل اور نئے روٹس کے تعین کے بارے میں اشتہارات، اس کا باکمال لوگ لاجواب پرواز کا لوگواور اس کی بہترین سروس اور میزبانی کے اعلیٰ معیار کے بارے میں دعووں کے بہت سے اَ ن مٹ نقوش ذہن میںموجود ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس کی ائیر ہوسٹس کا مخصوص لباس اور سبز رنگ کا بیگ جس پر پی آئی اے لکھا ہوتا تھا وہ میرے جیسے لوگوں کے لئے بڑی کشش کا باعث ہوتا تھا کہ گاﺅں اور پنڈی آنے جانے کے لئے بیگ کی ضرورت ہوتی تھی اور خواہش ہوتی تھی کہ اس طرح کا سبز رنگ کا بیگ مل جائے تو کیا بات ہو گی۔ اب تو ہر قسم کے اور ہر قیمت کے کم معیار سے لے کر بڑھیا معیار تک کے بیگ مل جاتے ہیں لیکن اُس دور میں پی آئی اے کی ائیر ہوسٹس کے کندھوں پر لٹکا ہوا سبز رنگ کے بیگ جیسا بیگ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا تھا۔ خیر پی آئی اے سے لگاﺅ کے حوالے سے یہ ایک یاد کا ذکر ہے تو اس کے علاوہ بھی بہت ساری یادیں اور باتیں ہیں جو میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجو د ہیں ۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں ائیر مارشل نور خان بطورِ مینجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے کے سربراہ تھے تو ائیر مارشل اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ سے کچھ عرصہ قبل ائیر مارشل اصغر خان فضائیہ کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے اور ائیر پارشل نور خان نے پاک فضائیہ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا جبکہ ائیر مارشل اصغر خان پی آئی اے کے سربراہ بنائے گئے۔ ائیر مارشل نور خان ہوں یا ائیر مارشل اصغر خان ہوں ان کی سربراہی کے ادوار،پی آئی اے کے ہر لحاظ سے سنہری ادوار شمار کیے جا سکتے ہیں۔ان ادوار میں پی آئی اے کے بیڑے میں اُس دور کے جدید طیارے ہی شامل نہ کیے گئے بلکہ مشرق بعید ، چین، وسط ایشیاء، افریقہ، یورپ اور امریکہ وغیرہ کے نئے روٹس تک پی آئی کے طیاروں کی رسائی کوبھی یقینی بنایا گیا۔ اس عرصے میں پاکستانی پرچم بردار پی آئی اے کے طیارے جہاں اندرونِ ملک راولپنڈی تا کراچی، راولپنڈی تا لاہور اور کوئٹہ، لاہور تا کراچی اور کوئٹہ، کراچی تا لاہور، راولپنڈی،کوئٹہ ، پشاور اور سکھر کے شہروں تک اُڑانیں بھرتے تھے وہاں کراچی اور لاہور سے مشرقی پاکستان میں تیج گاﺅں ڈھاکہ اور وہاں سے چٹا گانگ تک اُن کی کئی پروازیں روزانہ کے شیڈول میں شامل تھیں۔ پی آئی اے کے اس سنہری دور میں جیسے اوپر کہا گیا ہے کراچی سے مشرقِ بعید میں بینکاک ، منیلا اور ٹوکیو، ڈھاکہ سے شنگھائی، مشرق وسطیٰ میں تہران، کویت، دہران، جدہ، افریقہ میں قاہرہ، ٹریپولی اور نیروبی، ترکی میں استنبول ، یورپ میں روم، فرینگفرٹ، پیرس ، ایمسٹر ڈم اور لندن اور روس میں ماسکو اور لندن سے نیویارک اور روس میں ماسکو تک کے روٹس پی آئی کے طیاروں کی دسترس میں تھے۔
اُس دور میں پی آئی اے کے بیڑے میں جو طیارے مختلف اوقات میں شامل رہے اُن میں ڈوگلس D-C ڈکوٹا طیارے، لاک ہیڈ سپر کانسی لیشن دیوہیکل طیارے، ہاکر سڈلی ٹرائی ڈینٹ جیٹ طیارے، بوئنگ 707 ، بوئنگ 720 طیارے شامل تھے۔ تین انجنوں والے ٹرائی ڈینٹ طیارے فضا میں بہت شور مچاتے تھے ۔ یہ مجھے اس طرح یاد پڑتا ہے کہ راولپنڈی چکلالہ ائیر پورٹ سے کراچی کے لئے اُڑان بھرتے تو ان کا رُخ مغرب کی طرف ہوتا تھا۔ میں اُن دنوں ویسٹریج میں کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا اور پی آئی اے کا ٹرائی ڈینٹ جو ابھی زیادہ بلندی پر نہیں ہوتا تھا اِدھر اُوپر سے گزرتے ہوئے اپنا رُخ جنوب مغرب کی طرف پھیرا کرتا تھا تو خوب گھن گرج سنائی دیتی تھی۔
پی آئی اے کے بوئنگ طیاروں کا ذکر کریں تو یہ پی آئی اے کا بوئنگ 720 طیارہ ہی تھا جو 21 مئی 1965ءکو قاہرہ کے قریب حادثے کا شکار ہوا اور اُس کے مسافر اور عملے کے افراد جن کی کل تعداد121 بنتی تھی وہ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اصل میں یہ پی آئی اے کی براستہ قاہرہ لندن کی افتتاحی پرواز تھی جس میں بہت سارے نامی گرامی اخبار نویس اوردیگر شخصیات سفر کر رہی تھیں۔ طیارہ قاہرہ کے ہوائی اڈے پر اُترنے لگا تو قریب کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر پاش پا ش ہو گیا۔ پی آئی اے کے بیڑے میں بعد سالوں میں بوئنگ 737 ، بوئنگ 747 ، میک ڈونل DC-10 ڈوگلس، ائیر بس 320 ، اور بوئنگ 777 اور 200 جیسے طیارے شامل کیے گئے۔ مجھے ان تمام قسم کے طیاروں میں پی آئی اے کے ذریعے سفر کرنے کا مواقع ملے جن کی یادیں اب بھی میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہیں تاہم ان کا تذکرے کی یہاںمزید گنجائش نہیں ۔اس وقت اہم ترین بات یہ ہے کہ پی آئی اے جس نے پچھلے اڑھائی تین عشروں یا اُس سے بھی کم یا زیادہ عرصے کے دوران قومی خزانے پر ایک بوجھ کی حیثیت اختیار کیے رکھی ہے اور ہر سال اس کی وجہ سے ملک و قوم کو اربوں روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا رہا ہے وہ نئی اُڑان کیسے بھرتی ہے۔ بلا شبہ ان پچھلے عشروں میں پی آئی اے کے طیاروں کا گراﺅنڈ ہونا ، نئے طیارے کے حصول کے لئے مالی وسائل کی عدم دستیابی ، طیاروں ، فضائی روٹس اور پروازوں کے مقابلے میں ملازمین کی تعداد کا زیادہ ہونااور بد انتظامی اورغیر ضروری اخراجات وغیرہ ایسے امور رہے ہیں جن کی بنا پر پی آئی اے زوال اور ابتری کا شکار رہی ہے۔ اللہ کرے نجکاری کے بعد اس صورتحال میں تبدیلی آئے اور پی آئی اے اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو کر اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
پی آئی اے.... نئی اُڑان کی تیاری!
09:09 AM, 9 Jun, 2026