اقتدار، تجارت اور امانتِ ریاست

09:08 AM, 9 Jun, 2026

اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب وہ ہے جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلافت کے منصب پر فائز ہوئے۔ روایات میں آتا ہے کہ خلافت سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی تجارتی مصروفیات ترک کر دیں تاکہ ریاستی ذمہ داریوں پر پوری توجہ دے سکیں۔ بیت المال سے ان کے لیے ایک معمولی وظیفہ مقرر کیا گیا جو ایک عام شہری کے معیارِ زندگی کے قریب تھا۔ ایک موقع پر ان کی اہلیہ نے حلوہ بنانے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے مالی گنجائش نہ ہونے کا عذر پیش کیا۔ کچھ عرصے بعد جب دسترخوان پر حلوہ آیا اور انہوں نے دریافت کیا کہ اس کا انتظام کیسے ہوا تو معلوم ہوا کہ روزمرہ اخراجات میں معمولی بچت کر کے رقم جمع کی گئی تھی۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ اگر اس وظیفے میں سے بچت ممکن ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بیت المال سے مجھے ضرورت سے زیادہ رقم دی جا رہی ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے وظیفے میں کمی کروا دی۔
یہ واقعہ محض ایک تاریخی حکایت نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک آفاقی اصول کی نشاندہی کرتا ہے کہ اقتدار امانت ہے، مراعات اور منفعت کا ذریعہ نہیں۔ حکمران کا معیار یہ نہیں کہ وہ عوام پر حکومت کرے بلکہ یہ ہے کہ وہ عوام کے وسائل کی حفاظت کس درجے کی دیانت داری سے کرتا ہے۔
 خلاصہ یہ ہے کہ حکومتی اداروں، سیاست دانوں اور ریاستی اختیار رکھنے والے افراد کو کاروباری سرگرمیوں سے حتی الامکان الگ رہنا چاہیے دراصل مسئلہ تجارت نہیں، کیونکہ اسلام نے تجارت کو عزت اور معاشی استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اقتدار اور تجارت ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں۔ جب وہ شخص جو قانون بنا رہا ہو، پالیسی مرتب کر رہا ہو، زمینوں کی تقسیم، ٹیکسوں کی شرح یا سرمایہ کاری کے فیصلے کر رہا ہو، انہی شعبوں میں براہِ راست معاشی مفاد بھی رکھتا ہو تو مفادات کے تصادم کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ سوال محض نظری نہیں بلکہ عملی حیثیت رکھتا ہے۔ عوام بارہا یہ دیکھتے ہیں کہ حکمران طبقات اپنی مراعات میں اضافے کے لیے قانون سازی کرتے ہیں۔ کبھی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی خبریں سامنے آتی ہیں اور کبھی سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک طرف ریاستِ مدینہ کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف حکمرانی کے وہ نمونے نظر آتے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی روایت سے یکسر مختلف محسوس ہوتے ہیں۔
دنیا کی ترقی یافتہ جمہوریتوں نے اس مسئلے کی سنگینی کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ اسی لیے وہاں مفادات کے تصادم (Conflict of Interest) کے سخت قوانین موجود ہیں۔ وزرائ، ارکانِ پارلیمنٹ، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر بااختیار شخصیات کو اپنے مالی مفادات ظاہر کرنا پڑتے ہیں۔ بعض صورتوں میں انہیں اپنے کاروبار سے مکمل علیحدگی اختیار کرنا پڑتی ہے تاکہ ان کے فیصلوں پر جانبداری کا شبہ بھی پیدا نہ ہو۔ وجہ بالکل واضح ہے: جمہوریت صرف قانون سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے چلتی ہے۔
پاکستان میں مختلف ادوار میں ایسے منصوبوں، ہاو¿سنگ اسکیموں اور تجارتی سرگرمیوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں جن میں ریاستی طاقت اور معاشی مفاد کے درمیان تعلق زیر بحث آیا۔ بعض اوقات الزامات عدالتوں تک پہنچے، بعض اوقات تحقیقات ہوئیں اور بعض معاملات محض عوامی بحث کا موضوع بنے رہے۔ اصل مسئلہ کسی ایک ادارے یا شخصیت کا نہیں بلکہ اصول کا ہے۔ جب ریاستی اختیار کاروباری مفادات کے قریب آتا ہے تو شفافیت متاثر ہوتی ہے اور عوامی اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کے لیے منصفانہ ماحول فراہم کرنا ہے۔ ریاست منڈی کی نگران ہو سکتی ہے، خود منڈی کا فریق نہیں۔ اس کا فرض قانون نافذ کرنا، انصاف مہیا کرنا، بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا اور عوامی وسائل کی دیانت دارانہ نگرانی کرنا ہے۔ اگر ریاستی طاقت معاشی مفادات کے ساتھ جڑ جائے تو احتساب کا عمل کمزور اور غیر جانب داری مشکوک ہو جاتی ہے۔ جب ریاست ہی جانبدار ہوکر قانون سازی کرے گی تو نظام انصاف کا معدوم ہونا لازمی نتیجہ ہوگا ۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ یہ اعتماد نعروں، اشتہارات یا خطابات سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ عملی مثالوں سے پیدا ہوتا ہے۔ جب حکمران اپنے لیے وہی معیار اختیار کریں جو وہ عام شہریوں کے لیے پسند کرتے ہیں، جب ریاستی ادارے اپنے مالی معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کریں اور جب اقتدار اور کاروبار کے درمیان واضح حد بندی قائم ہو تو عوام کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوتا ہے۔ کتنے بیوروکریٹ ہیں جو منفعت بخش کاروبار میں ملوث ہیں اور کتنے ہیں جن کے پاس دہری شہریتیں ہیں ۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور کا ایک معمولی سا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاست کی اصل قوت وسائل کی فراوانی نہیں بلکہ حکمرانوں کی امانت داری ہوتی ہے۔ قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب اقتدار خدمت بن جائے، مراعات نہیں؛ جب بیت المال امانت سمجھا جائے، حقِ ملکیت نہیں؛ اور جب ریاستی اختیار عوامی مفاد کے لیے استعمال ہو، ذاتی منفعت کے لیے نہیں۔
ریاستیں قانون سے چلتی ہیں، مگر قانون کی روح اعتماد ہے۔ اور اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب اقتدار امانت بن کر رہے، تجارت کا ذریعہ نہ بن جائے۔

مزیدخبریں