پاکستان کے نئے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔توقع ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 10 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے، تاہم بجٹ کے اہم نکات اور ممکنہ اعلانات پہلے ہی زیر بحث ہیں۔نئے مالی سال کا بجٹ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایک طرف حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنا ہیں، دوسری طرف عوام، سرکاری ملازمین، صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو ریلیف بھی فراہم کرنا ہے۔بظاہر حکومت نے بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کی متعدد تجاویز کو شامل کیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی، سپر ٹیکس میں دو فیصد کمی، برآمد کنندگان پر ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کے خاتمے اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے مراعات کی تجاویز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ کاروباری حلقوں کا مو¿قف رہا ہے کہ زیادہ ٹیکسوں اور پیچیدہ قوانین نے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، اس لیے ٹیکس نظام کو آسان اور کاروبار دوست بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تاہم حکومت کے لیے اصل چیلنج آئی ایم ایف کی شرائط ہیں۔ پاکستان اس وقت نہ صرف موجودہ قرض پروگرام بلکہ 1.4 ارب ڈالر کی "ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی" کے تحت بھی مختلف اصلاحات کا پابند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کی متعدد تجاویز اب بھی آئی ایم ایف کی منظوری کی منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور دیگر کئی اشیاءپر جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو قابل تجدید توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے حکومتی دعوو¿ں پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔مجھے چائنا کے تعاون سے پاکستان میں الیکٹریکل وہیکل ایکوئپمنٹس کی تنصیب کے منصوبے پر کام کرنے والے معروف بزنس مین ملک خدا بخش نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیکس برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ توانائی کی بچت اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو یہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی۔ بجٹ کا ایک اہم پہلو ایف بی آر کے ٹیکس ہدف سے متعلق ہے۔ رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف کم کرکے 13 ہزار 428 ارب روپے کیا گیا، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اسے بڑھا کر 15 ہزار 264 ارب روپے تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال میں اتنا بڑا اضافہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ حکومت کو یا تو نئے ٹیکس لگانے ہوں گے یا پھر ٹیکس نیٹ کو نمایاں طور پر وسعت دینا ہوگی۔ تنخواہ دار طبقہ انئے مالی سال کے وفاقی اورچاروں صوبائی بجٹ سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی نے متوسط طبقے کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ پنشن میں بھی اضافے کا امکان موجود ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے مقابلے میں محدود سمجھا جا رہا ہے، تاہم حکومت کی مالی گنجائش کو دیکھتے ہوئے اسے ایک درمیانی راستہ قرار دیا جا سکتا ہے۔سیاسی طور پر بھی یہ بجٹ حکومت کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ اتحادی جماعتوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی نے بعض معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ بجٹ کے بعض نکات پر مزید مشاورت جاری ہے۔ اتحادی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے جو نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھیں بلکہ سیاسی استحکام کو بھی یقینی بنائیں۔کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی مجوزہ فنڈنگ بجٹ کا ایک مثبت پہلو قرار دی جا سکتی ہے۔ گرین لائن بس منصوبے کے لیے تقریباً دو ارب روپے، مختلف اضلاع میں سڑکوں، پانی، نکاسی آب اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجاویز شہر کے دیرینہ مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر، نیشنل ریسرچ اینڈ فرٹیلیٹی کیئر سینٹر اور نیشنل یونیورسٹی آف نرسنگ جیسے منصوبے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اہم سرمایہ کاری تصور کیے جا رہے ہیں۔کاروباری برادری کا مطالبہ ہے کہ حکومت صرف نئے ٹیکس لگانے کے بجائے معیشت کی دستاویزی شکل، برآمدات کے فروغ، صنعتوں کی بحالی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ دے۔ ایف پی سی سی آئی، مختلف چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیمیں بارہا اس بات پر زور دے چکی ہیں کہ پائیدار معاشی ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب نجی شعبے کو اعتماد اور سہولت فراہم کی جائے۔تاہم بجٹ سے پہلے ہی حکومت نے بجٹ میں 20کروڑروپے تک سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے تاجروں کیلئے 1فیصدٹیکس کا اعلان کرکے انہیں خوش کردیا اور تاجروں کی حمایت حاصل کرلی ہے۔حتمی طور پر دیکھا جائے تو بجٹ 2026-27 حکومت کے لیے ایک نازک توازن کا امتحان ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط اور محصولات بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب عوام اور کاروباری برادری ریلیف کی منتظر ہے۔ حکومت اگر ٹیکس اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بجٹ معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر مہنگائی، کمزور کاروباری سرگرمیوں اور عوامی بے چینی جیسے چیلنجز بدستور برقرار رہ سکتے ہیں۔آنے والے چند روز میں بجٹ کی حتمی تفصیلات سامنے آجائیں گی، لیکن فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ قوم کی نظریں 10 جون پر مرکوز ہیں، جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ حکومت نے عوامی توقعات، کاروباری ضروریات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تقاضوں کے درمیان کس حد تک کامیاب توازن قائم کیا ہے۔
بجٹ: عوام، کاروباری برادری اور آئی ایم ایف میں توازن کا امتحان
09:07 AM, 9 Jun, 2026