نوجوانوں کے خوابوں کا قاتل کون؟

09:07 AM, 9 Jun, 2026

کسی بھی قوم کی سب سے بڑی دولت اس کے قدرتی وسائل، بلند و بالا عمارتیں یا ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے بلکہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان وہ سرمایہ ہیں جن کے کندھوں پر قوموں کا حال بھی ہوتا ہے اور مستقبل بھی۔ لیکن جب یہی نوجوان بے روزگاری، مایوسی، محرومی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ ایک سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
آج پنجاب کے گلی کوچوں، شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں لاکھوں نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ کسی کے پاس بی اے کی ڈگری ہے، کوئی ایم اے کر چکا ہے، کسی نے ایم فل کیا ہوا ہے اور کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود دربدر پھر رہا ہے۔ والدین نے اپنی زندگی بھر کی کمائی بچوں کی تعلیم پر خرچ کی، زمینیں فروخت کیں، قرضے لیے اور اپنے خواب بچوں کے مستقبل سے وابستہ کر دیے۔ لیکن جب تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی روزگار نہ ملے تو سوال صرف نوجوان کا نہیں رہتا، پورے نظام کا بن جاتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں نوجوانوں کے نام پر سیاست ہوتی رہی ہے۔ ہر انتخاب میں نوجوانوں کو سنہرے مستقبل کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ ہنر مندی کے پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بے روزگاری کا مسئلہ کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اکثر بے روزگاری کو ایک عددی مسئلہ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ انسانی زندگیوں کا سوال ہے۔ ایک بے روزگار نوجوان صرف ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ایک خاندان کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اس کے والدین کی قربانیاں جڑی ہوتی ہیں۔ اس کے بہن بھائیوں کے خواب وابستہ ہوتے ہیں۔ جب وہ مایوس ہوتا ہے تو پورا خاندان مایوسی کی گرفت میں آ جاتا ہے۔
بے روزگاری صرف معاشی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ نوجوانوں کے اعتماد کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ ایک نوجوان جو برسوں محنت کے بعد ڈگری حاصل کرتا ہے، جب اسے بار بار ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو اس کے اندر احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اس کی قابلیت کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ احساس رفتہ رفتہ نفسیاتی دباو¿، ذہنی اضطراب اور سماجی بے چینی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف ایک حکومت؟ کیا صرف ایک سیاسی جماعت؟ یا پھر وہ پورا نظام جو دہائیوں سے نوجوانوں کو وعدوں اور نعروں کے سہارے زندہ رکھے ہوئے ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ریاستی ترجیح ہونی چاہیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں اکثر پالیسیاں تسلسل سے محروم رہی ہیں۔ ایک حکومت آتی ہے تو پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ختم کر دیتی ہے۔ دوسری حکومت آتی ہے تو نئے نعروں اور نئی اسکیموں کا آغاز کر دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان مستقل منصوبہ بندی کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں۔اس دوران سفارش، اقربا پروری اور کرپشن جیسے ناسور بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سے نوجوان یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ملازمتوں میں میرٹ کے بجائے تعلقات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر یہ تاثر بھی موجود ہو تو یہ خود نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ اعتماد کسی بھی ریاست کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہر حکومت اپنی کارکردگی کے بارے میں عوام کو جواب دہ ہو۔ احتساب صرف مالی معاملات کا نہیں بلکہ پالیسیوں کا بھی ہونا چاہیے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں کہ روزگار کے وعدوں کا کیا بنا؟ نوجوانوں کے لیے مختص وسائل کہاں خرچ ہوئے؟ کون سے منصوبے کامیاب ہوئے اور کون سے ناکام؟۔
ایک مہذب معاشرے میں سوال پوچھنا جرم نہیں بلکہ شہری کا حق ہوتا ہے۔ عوامی احتساب جمہوریت کی روح ہے۔ جو قیادت عوامی اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے اسے تنقید برداشت کرنے اور اپنی کارکردگی پیش کرنے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔آج پنجاب کا نوجوان کسی معجزے کا منتظر نہیں۔ وہ صرف ایک منصفانہ موقع چاہتا ہے۔ وہ خیرات نہیں مانگتا بلکہ اپنے ہنر اور محنت کے مطابق مقام چاہتا ہے۔ وہ وعدوں کے بجائے نتائج دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ تقریروں کے بجائے عملی اقدامات کا خواہاں ہے۔اگر نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ لیکن اگر دانشمندانہ منصوبہ بندی، شفاف احتساب اور مستقل مزاج پالیسیوں کو اختیار کیا جائے تو یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اور قومیں اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب وہ اپنے نوجوانوں کو مایوسی، بے روزگاری اور بے یقینی کے سپرد کر دیتی ہیں۔فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو مستقبل دیں گے یا انہیں وعدوں کے بوجھ تلے دفن ہونے دیں گے؟ کیونکہ قوموں کا مستقبل ایوانوں میں لکھی جانے والی تقریروں سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے چہروں پر نظر آنے والی امید سے بنتا ہے۔

مزیدخبریں